منی لانڈرنگ کے خلاف اہم پیش رفت، بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک 45 لاکھ ڈالر مالیت کے غیر ملکی اکاؤنٹس منجمد
گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے خلاف قوانین کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔
انصار ذاہد سیال-پاکستان،وائس اف جرمنی اردو نیوا
اسلام آباد: قومی احتساب بیورو (نیب) نے منی لانڈرنگ اور غیر قانونی مالی ترسیلات کے خلاف جاری کارروائیوں میں ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے بحرِیہ ٹاؤن سے منسلک افراد کے نام پر ماریشس میں موجود تقریباً 45 لاکھ امریکی ڈالر مالیت کے بینک اکاؤنٹس منجمد کروا دیے ہیں۔ ذرائع کے مطابق یہ اقدام بین الاقوامی تعاون اور مالیاتی جرائم کے خلاف جاری تحقیقات کے نتیجے میں ممکن ہوا ہے۔
نیب ذرائع کا کہنا ہے کہ منجمد کیے گئے اکاؤنٹس ماریشس کے سلور بینک میں موجود تھے اور یہ اکاؤنٹس احمد علی ریاض اور مبشرہ علی ملک کے نام پر رجسٹرڈ تھے۔ تحقیقات کے دوران حاصل ہونے والے شواہد سے مبینہ طور پر یہ بات سامنے آئی کہ مذکورہ رقوم غیر قانونی حوالہ اور ہنڈی نیٹ ورک کے ذریعے پاکستان سے بیرون ملک منتقل کی گئی تھیں۔
ذرائع کے مطابق مالیاتی ریکارڈ، بینکنگ دستاویزات اور بین الاقوامی مالیاتی لین دین کے شواہد کی جانچ پڑتال کے بعد نیب نے متعلقہ غیر ملکی اداروں سے رابطہ کیا، جس کے نتیجے میں ان اکاؤنٹس کو منجمد کرنے کی کارروائی عمل میں لائی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت پاکستان کی جانب سے غیر قانونی مالی سرگرمیوں کے خلاف عالمی سطح پر تعاون کے بڑھتے ہوئے رجحان کی عکاس ہے۔
نیب کے مطابق معاملے کی حساسیت اور بین الاقوامی نوعیت کے پیش نظر وزارتِ خارجہ کے ذریعے باقاعدہ قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں مختلف ممالک کے متعلقہ اداروں اور مالیاتی نگرانی کے اداروں کے ساتھ رابطے جاری ہیں تاکہ منجمد کی گئی رقوم کو قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد پاکستان واپس لایا جا سکے۔
ذرائع نے بتایا کہ اینٹی منی لانڈرنگ ایکٹ 2010 کے تحت مذکورہ اثاثوں کی ضبطی کے لیے ضروری قانونی کارروائیاں تیزی سے مکمل کی جا رہی ہیں۔ حکام کے مطابق رقوم کی واپسی اور ضبطی کے حوالے سے پیش رفت آخری مراحل میں داخل ہو چکی ہے اور توقع ہے کہ تمام قانونی تقاضے پورے ہونے کے بعد ریاست ان فنڈز پر دعویٰ دائر کر سکے گی۔
ماہرین کے مطابق منی لانڈرنگ کسی بھی ملک کی معیشت کے لیے ایک سنگین خطرہ تصور کی جاتی ہے کیونکہ اس کے ذریعے غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ رقوم کو قانونی شکل دینے کی کوشش کی جاتی ہے۔ مالیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات ثابت ہو جاتے ہیں تو یہ پاکستان کی تاریخ میں بیرون ملک منتقل کیے گئے مشتبہ اثاثوں کی بازیابی کے حوالے سے ایک اہم کامیابی شمار ہوگی۔
احتساب اور مالیاتی شفافیت کے شعبے سے وابستہ ماہرین کا کہنا ہے کہ گزشتہ چند برسوں میں پاکستان نے منی لانڈرنگ، دہشت گردی کی مالی معاونت اور غیر قانونی مالیاتی سرگرمیوں کے خلاف قوانین کو مزید مؤثر بنانے کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں۔ ان اقدامات کا مقصد نہ صرف ملکی مالیاتی نظام کو مضبوط بنانا ہے بلکہ بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے اعتماد کو بھی بڑھانا ہے۔
نیب حکام کے مطابق یہ کارروائی کسی ایک کیس تک محدود نہیں بلکہ غیر قانونی ذرائع سے حاصل شدہ اثاثوں، ناجائز دولت اور بیرون ملک منتقل کی گئی رقوم کے خلاف جاری وسیع تر مہم کا حصہ ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ جہاں بھی غیر قانونی طور پر منتقل کیے گئے اثاثوں یا مشتبہ مالی لین دین کے شواہد سامنے آئیں گے، وہاں قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔
ذرائع کے مطابق تحقیقات کا دائرہ مزید وسیع کیا جا رہا ہے اور متعلقہ افراد کے مالی معاملات، بینکنگ ریکارڈ، بیرون ملک جائیدادوں اور دیگر اثاثوں کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور قانون نافذ کرنے والے اداروں سے معلومات کے تبادلے کا عمل بھی جاری ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ماریشس میں موجود اکاؤنٹس کے منجمد ہونے سے پاکستان کے احتسابی اور مالیاتی اداروں کو غیر قانونی سرمائے کی نقل و حرکت کا سراغ لگانے میں مدد ملے گی۔ ان کے مطابق اس قسم کی کارروائیاں نہ صرف منی لانڈرنگ کے خلاف حکومتی عزم کو ظاہر کرتی ہیں بلکہ یہ پیغام بھی دیتی ہیں کہ غیر قانونی مالی سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے لیے دنیا کے کسی بھی حصے میں محفوظ پناہ گاہ موجود نہیں۔
نیب نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ قومی دولت کے تحفظ، مالیاتی شفافیت کے فروغ اور غیر قانونی ذرائع سے حاصل کیے گئے اثاثوں کے خلاف کارروائی کا عمل بلاامتیاز جاری رکھا جائے گا، جبکہ بیرون ملک موجود مشتبہ اثاثوں کی نشاندہی اور ان کی وطن واپسی کے لیے تمام قانونی اور سفارتی ذرائع بروئے کار لائے جائیں گے۔



