جنگ کے زخم، معاشی بحران اور بڑھتا جبر: کیا اسلامی جمہوریہ ایران واقعی مضبوط ہے؟
8 اپریل 2026 کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نازک جنگ بندی نافذ ہوئی، جس نے ابتدا میں لڑائی کو محدود کیا، لیکن اس کے بعد سے تقریباً روزانہ اس کی خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں۔
شبنم فان ہائین کے ساتھ
ایران کی جنگ 28 فروری 2026 کو اس وقت شروع ہوئی جب امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے فوجی اور اسٹریٹجک اہداف پر بڑے پیمانے پر فضائی حملے کیے۔ ان حملوں میں ایرانی مسلح افواج کی اہم تنصیبات تباہ ہو گئیں جبکہ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای اور کئی اعلیٰ سیاسی و فوجی شخصیات ہلاک ہو گئیں۔ اس کے فوراً بعد خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کو نیا سپریم لیڈر مقرر کر دیا گیا اور انہوں نے ملک کی سیاسی قیادت سنبھال لی۔ ان کی صحت سے متعلق تاہم کئی طرح کی چہ مگوئیاں ابتدا ہی سے جاری ہیں۔
ایران نے اس کے جواب میں اسرائیل، امریکی فوجی اڈوں اور خطے میں دیگر اہداف پر میزائلوں اور ڈرونز کے ذریعے بڑے پیمانے پر جوابی حملے کیے۔ ساتھ ہی اس نے آبنائے ہرمز کو بند کر دیا، جو ایک اہم جغرافیائی سیاسی دباؤ کا ذریعہ ہے۔ دنیا کی تقریباً 20 فیصد تیل تجارت خلیج فارس اور خلیج عمان کے درمیان واقع اسی تنگ سمندری راستے سے ہوتی ہے۔
8 اپریل 2026 کو ایران اور امریکہ کے درمیان ایک نازک جنگ بندی نافذ ہوئی، جس نے ابتدا میں لڑائی کو محدود کیا، لیکن اس کے بعد سے تقریباً روزانہ اس کی خلاف ورزیاں ہوتی رہی ہیں۔
نظام برقرار، چہرے بدل گئے
ایران کے امور کے ماہر ، جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے سیاسیات کے شعبے کے محقق اور ایرانی امور کے ماہر محمد قائدی کے مطابق، ”گزشتہ 100 دنوں میں مجھے اسلامی جمہوریہ کے ڈھانچے میں کوئی بنیادی تبدیلی نظر نہیں آتی۔‘‘
ان کے مطابق قیادت کی بعض شخصیات ضرور تبدیل ہوئی ہیں، لیکن اقتدار کے بنیادی ادارے اور ڈھانچے اپنی جگہ موجود ہیں۔
قائدی کے مطابق جنگ سے پہلے سیاسی اشرافیہ کے درمیان گہری تقسیم موجود تھی جبکہ حکومت کے کریک ڈاؤن کے بعد ریاست اور معاشرے کے درمیان خلیج بھی وسیع ہو چکی تھی۔ یہ اختلافات وقت کے ساتھ اسلامی جمہوریہ کو کمزور کر رہے تھے۔ تاہم جنگ نے ان دراڑوں کو کسی حد تک بھر دیا۔
’’جنگ نے سیاسی اشرافیہ کے درمیان اور کسی حد تک ریاست اور معاشرے کے درمیان موجود اختلافات کو کم کیا ہے۔ آج سیاسی اشرافیہ میں جو یکجہتی نظر آ رہی ہے، وہ انقلاب کے بعد کے ادوار میں نسبتاً کم دیکھی گئی تھی۔ یہی یکجہتی نظام کی مضبوطی کا ایک اہم ذریعہ بنی ہے۔‘‘

اس کے باوجود قائدی خبردار کرتے ہیں کہ موجودہ استحکام کو مستقل مضبوطی کی علامت نہیں سمجھنا چاہیے۔
’’اسلامی جمہوریہ اب بھی قانونی جواز، حکومتی کارکردگی اور وسائل کی منصفانہ تقسیم جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہی ہے۔ جیسے ہی سلامتی اور بقا کے فوری خدشات کم ہوں گے، یہ بنیادی مسائل دوبارہ نمایاں ہو جائیں گے اور حکمرانی کو مزید مشکل بنا دیں گے۔‘‘
رات کے اجتماعات اور امید کی ماند پڑتی روشنی
اس وقت ایران ایک ہنگامی صورتحال جیسی کیفیت میں ہے۔ جنگ کسی بھی وقت دوبارہ بھڑک سکتی ہے، اور اسی تناظر میں اسلامی جمہوریہ کی قیادت نے اپنے حامیوں کو متحرک کر دیا ہے۔
تین ماہ سے زیادہ عرصے سے ملک بھر کے شہروں، قصبوں اور دیہات میں حامیوں کے اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں تاکہ سیاسی نظام اور نئی قیادت کے ساتھ اپنی حمایت کا اظہار کیا جا سکے۔
سرکاری میڈیا ان اجتماعات کو ”آرگینک عوامی اجتماعات‘‘ قرار دیتا ہے جو سرکاری میڈیا کی نظر میں بیرونی خطرات اور مبینہ غیر ملکی مداخلت کے مقابلے میں ایرانی قوم کے اتحاد، مزاحمت اور عزم کی علامت ہیں۔
مرکزی تہران میں رہنے والی ایک 36 سالہ خاتون کہتی ہیں، ”رات گیارہ بجے سے پہلے سونا تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔ باہر بہت شور ہوتا ہے اور یہ صورتحال انتہائی تھکا دینے والی ہے۔‘‘
وہ خود ان اجتماعات میں شرکت نہیں کرتیں۔ تہران ہی میں خواتین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک 42 سالہ کارکن کے مطابق، ”میرے جاننے والوں میں شدید غصہ موجود ہے۔‘‘
ان کے مطابق رات کے اجتماعات کا مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ جنوری کے ملک گیر احتجاج کے بعد اسلامی جمہوریہ نے دوبارہ سڑکوں پر اپنا کنٹرول قائم کر لیا ہے۔
’’بہت سے لوگ اب بھی احتجاجی مظاہروں کے خلاف ہونے والے وحشیانہ کریک ڈاؤن پر غصے میں ہیں۔ میرے حلقے میں تقریباً ہر شخص کسی ایسے فرد کو جانتا ہے جسے گولی لگی یا جو زخمی ہوا یا گرفتاری کا نشانہ بنا۔ دوسری طرف جنگ اور بمباری نے لوگوں کو ذہنی طور پر مفلوج کر دیا ہے۔ اب شاید ہی کوئی مثبت تبدیلی کی امید رکھتا ہو۔‘‘
جنگ کے ذریعے تبدیلی کا خواب
سیاسی نظام سے مایوس بہت سے ایرانیوں کے لیے ابتدا میں جنگ حکومت کی تبدیلی کا ایک تیز اور آسان راستہ محسوس ہوئی۔
جنوری میں جب سکیورٹی فورسز مبینہ طور پر ہزاروں مظاہرین پر فائرنگ کر رہی تھیں، تو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے وعدہ کیا تھا کہ ”مدد پہنچنے والی ہے۔‘‘
تقریباً چھ ہفتے جاری رہنے والی جنگ کے دوران ایران کے گنجان آباد شہروں پر روزانہ کئی بار بمباری کی گئی۔ اس کے بعد ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر ایک خوفناک پیغام دیا، ”آج رات ایک پوری تہذیب ہمیشہ کے لیے ختم ہو جائے گی۔‘‘
معیشت تباہی کے دہانے پر
فوجی اہداف کے علاوہ حملوں میں فولاد اور پیٹروکیمیکل صنعتوں سمیت اہم صنعتی تنصیبات کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ان شعبوں میں پیداوار رکنے سے ایک زنجیری ردعمل پیدا ہوا اور ان صنعتوں سے وابستہ درجنوں کاروبار بھی بند ہو گئے۔
اب تک دسیوں ہزار افراد اپنی ملازمتیں کھو چکے ہیں جبکہ مزید لاکھوں کارکن اپنے روزگار کے بارے میں فکرمند ہیں۔ ادھر افراطِ زر 50 فیصد سے تجاوز کر چکی ہے، جس نے عوام کی قوتِ خرید کو بری طرح متاثر کیا ہے۔

کم از کم آمدنی تقریباً 75 یورو ماہانہ کے برابر رہ گئی ہے، جس کے باعث بہت سے ایرانی بنیادی ضروریات بھی پوری کرنے سے قاصر ہیں۔
بڑھتا ہوا جبر اور خوف
جنگ کے سائے میں سکیورٹی صورتحال مزید خراب ہو گئی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مطابق مئی کے اختتام تک 6,000 سے زائد افراد گرفتار کیے جا چکے تھے۔ گرفتار ہونے والوں میں مظاہرین، صحافی، وکلا، سیاسی مخالفین اور نسلی اقلیتوں کے افراد شامل ہیں۔ اسی عرصے کے دوران 39 سیاسی قیدیوں کی سزائے موت پر عمل درآمد بھی کیا گیا۔
انسانی حقوق کی کارکن شیوا نظرآہاری، جو اب سلووینیا میں جلاوطنی کی زندگی گزار رہی ہیں، کہتی ہیں، ”بہت سے لوگوں کو صرف سوشل میڈیا پوسٹس کی بنیاد پر گرفتار کیا گیا ہے۔‘‘
ان کے مطابق، ”اس وقت جبر کی شدت انتہائی بلند سطح پر ہے۔ اکثر یہ بھی واضح نہیں ہوتا کہ فیصلے کون کر رہا ہے یا کس ادارے کے پاس اصل اختیار ہے، اور شاید یہی غیر یقینی صورتحال سب سے زیادہ خوفناک پہلو ہے۔‘‘
خاموشی کا ماحول
سکیورٹی ادارے ایسا ماحول پیدا کرنا چاہتے ہیں جس میں کوئی بھی شخص انسانی حقوق کی تنظیموں یا آزاد سول سوسائٹی کو معلومات فراہم کرنے کی ہمت نہ کرے۔
88 دن تک جاری رہنے والی ملک گیر انٹرنیٹ بندش کے بعد اگرچہ رسائی جزوی طور پر بحال کر دی گئی ہے، لیکن بہت سی سروسز اب بھی محدود ہیں، جس سے بیرونی دنیا سے رابطہ مشکل بنا ہوا ہے۔
شیوا نظرآہاری کے مطابق، ”حالیہ دنوں میں ہمیں معلوم ہوا ہے کہ جنوری کے ملک گیر احتجاج سے متعلق گرفتار ہونے والے بیشتر افراد اب بھی جیلوں میں ہیں۔‘‘
وہ مزید کہتی ہیں، ”عوامی توجہ اس وقت پھانسیوں پر مرکوز ہے، جو یقیناً بہت اہم مسئلہ ہے۔ لیکن دستیاب معلومات سے معلوم ہوتا ہے کہ جن لوگوں کا کوئی مجرمانہ ریکارڈ بھی نہیں تھا، انہیں بھی کم از کم چار سے پانچ سال قید کی سزائیں دی جا رہی ہیں جبکہ کئی کیسوں میں یہ مدت دس سال سے بھی زیادہ ہے۔‘‘
جنگ نے اگرچہ اسلامی جمہوریہ ایران کو شدید نقصان پہنچایا ہے، لیکن اب تک اس کے بنیادی سیاسی ڈھانچے کو گرانے میں کامیاب نہیں ہوئی۔ تاہم بڑھتی ہوئی غربت، سیاسی جبر، قانونی جواز کے بحران اور عوامی مایوسی ایسے عوامل ہیں جو مستقبل میں اس نظام کے لیے مزید بڑے چیلنج ثابت ہو سکتے ہیں۔



