
By Voice of Germany Urdu News Team
فلپائن پیر کی صبح ایک شدید اور ہولناک زلزلے سے لرز اٹھا جس نے ملک کے جنوبی علاقوں میں بڑے پیمانے پر تباہی مچا دی۔ امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق ریکٹر اسکیل پر زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی، جسے گزشتہ تین دہائیوں کے دوران فلپائن میں آنے والے طاقتور ترین زلزلوں میں شمار کیا جا رہا ہے۔ اس قدرتی آفت کے نتیجے میں کم از کم 32 افراد ہلاک جبکہ 200 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق زلزلے کا مرکز فلپائن کے جنوبی جزیرے منڈاناؤ کے ساحلی علاقے میں واقع تھا۔ اس کا مرکز سوکسکسارگن (SOCCSKSARGEN) ریجن کے صوبہ سارانگانی کے ساحل سے تقریباً 26 کلومیٹر مغرب-جنوب مغرب میں تھا۔ فلپائن انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی (PHIVOLCS) کے مطابق زلزلے کی گہرائی تقریباً 33 کلومیٹر تھی، جس کے باعث اس کے اثرات وسیع علاقے میں محسوس کیے گئے۔ واچرز سائنس نیٹ ورک کے مطابق تقریباً ایک کروڑ افراد نے زلزلے کے جھٹکے محسوس کیے۔ کئی علاقوں میں عمارتیں تاش کے پتوں کی طرح زمین بوس ہو گئیں جبکہ سیوریج لائنیں پھٹنے سے بعض مقامات پر سیلاب جیسی صورتحال پیدا ہو گئی۔ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں تباہ شدہ عمارتیں، خوفزدہ شہری اور امدادی سرگرمیاں دیکھی جا سکتی ہیں۔
ایک ویڈیو میں اسکول کے احاطے میں بیٹھے کمسن بچوں کو دکھایا گیا ہے جہاں زلزلے کے دوران عمارت کا ایک حصہ اچانک گر پڑتا ہے۔ خوش قسمتی سے کئی بچوں کو بروقت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا، تاہم متعدد تعلیمی اداروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔ فلپائنی حکومت کے مطابق سب سے زیادہ تباہی جنوبی منڈاناؤ کے بندرگاہی علاقوں میں ہوئی جہاں تقریباً سات لاکھ بائیس ہزار افراد آباد ہیں۔ متعدد رہائشی اور تجارتی عمارتیں منہدم ہو گئیں جبکہ کئی سڑکیں اور بنیادی تنصیبات بھی متاثر ہوئیں۔
زلزلے کے فوراً بعد فلپائن انسٹی ٹیوٹ آف وولکینولوجی اینڈ سیسمولوجی نے سونامی کی وارننگ جاری کرتے ہوئے ساحلی علاقوں کے مکینوں کو فوری طور پر محفوظ اور بلند مقامات پر منتقل ہونے کی ہدایت دی۔ بعد ازاں سلطان قدرت اور سارانگانی صوبوں کے ساحلی علاقوں میں تقریباً ایک میٹر بلند سونامی لہریں ریکارڈ کی گئیں۔ اگرچہ یہ لہریں خطرناک حد سے کم تھیں، تاہم حکام نے احتیاطی تدابیر برقرار رکھنے کی ہدایت کی ہے۔ امدادی ٹیمیں متاثرہ علاقوں میں ریسکیو اور بحالی کے کاموں میں مصروف ہیں جبکہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ بھی ظاہر کیا جا رہا ہے۔




