
اے ایف پی کے ساتھ
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق راولاکوٹ کے کمشنر سردار وحید نے بتایا کہ چار پولیس اہلکار اور ایک راہ گیر اس وقت ہلاک ہو گئے جب شرپسندوں نے گولیاں چلائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے جواب میں قانون نافذ کرنے والوں نے فائرنگ کی جس میں چھ مظاہرین جان سے گئے۔
پولیس چیف لیاقت ملک نے بتایا کہ اتوار کے روز پیش آنے والے اس واقعے میں 23 سکیورٹی اہلکار اور 50 مظاہرین زخمی بھی ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق زخمیوں کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کر دیا گیا ہے جبکہ واقعے کی مزید تحقیقات جاری ہیں۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی ایک حکومت مخالف تحریک ہے جو معاشی اور انتظامی اصلاحات کا مطالبہ کر رہی ہے۔ مقامی حکومت نے چند روز قبل انسداد دہشت گردی کے قوانین کے تحت اس تنظیم پر پابندی عائد کر دی تھی۔
پولیس کے مطابق اتوار کے روز جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے مرکزی دفتر کو سیل کر دیا گیا تھا، جبکہ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے سب سے بڑے شہر مظفرآباد میں بڑے عوامی اجتماعات پر بھی پابندی عائد کر دی گئی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے سکیورٹی انتظامات مزید سخت کر دیے گئے ہیں، جبکہ صورتحال پر مسلسل نظر رکھی جا رہی ہے۔

معمولات زندگی بحال، سکیورٹی سخت
اے ایف پی کے مطابق حالیہ جھڑپوں کے بعد پیر کے روز مظفرآباد میں بازار کھلے رہے جبکہ قانون نافذ کرنے والے اداروں نے شہر بھر میں گشت جاری رکھا۔
اے ایف پی کے نمائندے کے مطابق، متوقع احتجاج اور ممکنہ لاک ڈاؤن کے خدشے کے پیش نظر ہفتے اور اتوار کو شہری بڑی تعداد میں خریداری کے لیے مارکیٹوں کا رخ کرتے رہے اور ضروری اشیاء کا ذخیرہ جمع کرتے رہے۔
کالعدم قرار دی گئی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے اراکین نے تنظیم کو ”دہشت گرد‘‘ گروپ قرار دینے کے حکومتی فیصلے کو ”ظلم و جبر‘‘ قرار دیا ہے۔ تنظیم کا مؤقف ہے کہ وہ عوام کے جائز معاشی اور سیاسی حقوق کے لیے پرامن جدوجہد کر رہی ہے۔
حکام نے تصدیق کی ہے کہ ہفتے کے آخر میں کارروائیوں کے دوران جے اے اے سی کے 70 سے زائد کارکنوں کو گرفتار کیا گیا۔
واضح رہے کہ ستمبر میں بھی جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کی قیادت میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس اور مظاہرین کے مابین کئی روز تک پرتشدد جھڑپیں جاری رہی تھیں، جن میں کم از کم 9 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
کشمیر، جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہے، ایک متنازع خطہ ہے جس پر پاکستان اور بھارت دونوں مکمل دعویٰ رکھتے ہیں۔ 1947 میں برطانوی راج سے آزادی کے بعد سے یہ خطہ دونوں ممالک کے درمیان تقسیم ہے اور مسئلہ کشمیر جنوبی ایشیا کے اہم ترین تنازعات میں شمار ہوتا ہے۔



