یورپتازہ ترین

افغان طالبان کے ممکنہ دورہ برسلز کے خلاف سپین میں یورپی پارلیمنٹ کے دفترکے باہر احتجاج

طالبان کویورپی اداروں میں مدعو کرنا متاثرہ افراد کی توہین اورافغان خواتین کی مشکلات کو نظرانداز کرنے کے برابرہے

ایجنسیاں
میڈرڈ:انسانی حقوق کی تنظیموں، یورپی اراکینِ پارلیمنٹ اورافغان شہریوں نے افغان طالبان وفد کے ممکنہ دورۂ برسلز کی مخالفت کرتے ہوئے سپین میں یورپی پارلیمنٹ کے دفترکے باہر احتجاج کیا ۔
افغان جریدے افغانستان انٹرنیشنل کے مطابق مظاہرین کا کہنا تھا کہ پچھلے 5سالوں کے دوران طالبان نے افغانستان کو خواتین اورلڑکیوں کیلئے ایک بڑے قید خانے میں تبدیل کر دیا ہے۔افغانستان میں طالبان کی پالیسیاں خواتین اورلڑکیوں کی عزت،حفاظت اورمستقبل کیلئے مسلسل خطرہ ہیں۔مظاہرین کا کہنا تھا کہ طالبان کویورپی اداروں میں مدعو کرنا متاثرہ افراد کی توہین اورافغان خواتین کی مشکلات کو نظرانداز کرنے کے برابرہے۔طالبان کا یورپی پارلیمنٹ میں کوئی جگہ نہیں، بلکہ انہیں بین الاقوامی عدالتوں میں انصاف کے کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
یورپی اراکین پالیمنٹ اور82 سےزائد عالمی انسانی حقوق کی تنظیمیں طالبان وفد کے دورہ برسلزپرپہلے ہی تشویش کا اظہار کرچکی ہیں۔ ماہرین کے مطابق افغانستان میں بھی زمینی حالات تیزی سے بدل رہے ہیں اور طالبان رجیم کے خلاف عوامی مزاحمت میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ افغانستان اور بیرون ملک طالبان رجیم کے خلاف احتجاج ان کے عوامی حمایت اور مکمل کنٹرول کے دعوؤں کی حقیقت بے نقاب کر رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button