پاکستان: لاہور میں حیران کن انکشاف: ایک شخص کے نام پر 421 گاڑیاں رجسٹرڈ، 15 سو سے زائد ای چالان بھی واجب الادا
ٹریفک پولیس کی کارروائی کے دوران غیر معمولی ریکارڈ سامنے آگیا، موٹرسائیکل ضبط، تحقیقات کا دائرہ وسیع
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
لاہور: پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں ٹریفک پولیس کی جانب سے ای چالان نادہندگان کے خلاف جاری خصوصی مہم کے دوران ایک ایسا غیر معمولی معاملہ سامنے آیا ہے جس نے نہ صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں بلکہ متعلقہ حکام کو بھی حیران کر دیا ہے۔ جنرل ہولڈ اپ کے دوران روکی گئی ایک موٹرسائیکل کی جانچ پڑتال سے معلوم ہوا کہ اس کے مالک کے نام پر سینکڑوں گاڑیاں رجسٹرڈ ہیں جبکہ لاکھوں روپے مالیت کے ای چالان بھی واجب الادا ہیں۔
ٹریفک پولیس حکام کے مطابق جدید ڈیجیٹل نظام کے ذریعے سامنے آنے والی معلومات نے گاڑیوں کی رجسٹریشن اور ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیوں سے متعلق کئی اہم سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جن کی مزید تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں۔
جنرل ہولڈ اپ کے دوران سامنے آنے والا حیران کن ریکارڈ
لاہور ٹریفک پولیس کی جانب سے شہر بھر میں ای چالان نادہندگان کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں۔ اسی سلسلے میں جنرل ہولڈ اپ کے دوران ایک موٹرسائیکل سوار کو روکا گیا اور پنجاب حکومت کے حال ہی میں متعارف کرائے گئے ڈیجیٹل انفورسمنٹ سسٹم "ون ایپ” کے ذریعے اس کی موٹرسائیکل کا ریکارڈ چیک کیا گیا۔
حکام کے مطابق چند سیکنڈز میں حاصل ہونے والے ڈیٹا نے اہلکاروں کو حیران کر دیا۔ ریکارڈ سے معلوم ہوا کہ موٹرسائیکل کے مالک باز محمد کے نام پر مجموعی طور پر 421 گاڑیاں، رکشے اور موٹرسائیکلیں رجسٹرڈ ہیں۔
باز محمد کون ہیں؟
لاہور ٹریفک پولیس کے ترجمان عارف علی رانا کے مطابق ابتدائی معلومات سے پتا چلا ہے کہ باز محمد ملتان روڈ کے علاقے کے رہائشی ہیں اور قسطوں پر گاڑیاں فراہم کرنے کے کاروبار سے وابستہ ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ ان کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں میں تقریباً 90 فیصد موٹرسائیکلیں شامل ہیں، جبکہ باقی گاڑیوں میں رکشے اور دیگر ٹرانسپورٹ ذرائع شامل ہیں۔
اگرچہ گاڑیوں کی بڑی تعداد کسی کاروباری سرگرمی کی وجہ سے رجسٹرڈ ہو سکتی ہے، تاہم ایک ہی فرد کے نام پر اتنی بڑی تعداد میں گاڑیوں کی موجودگی نے متعلقہ اداروں کو مزید جانچ پر مجبور کر دیا ہے۔
1526 ای چالان، مالیت 20 لاکھ روپے سے زائد
معاملے کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ باز محمد کے نام پر رجسٹرڈ گاڑیوں کے خلاف مجموعی طور پر 1526 ای چالان بھی ریکارڈ پر موجود ہیں۔
ٹریفک پولیس کے مطابق ان واجب الادا چالانوں کی مجموعی مالیت 20 لاکھ 88 ہزار 800 روپے سے زائد بنتی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ یہ رقم لاہور میں ای چالان نادہندگان سے وصول کی جانے والی بڑی رقوم میں شمار ہوتی ہے، جس کے باعث اس کیس کو خصوصی اہمیت دی جا رہی ہے۔
موٹرسائیکل ضبط، مزید تحقیقات کا آغاز
ٹریفک پولیس نے کارروائی کے دوران موٹرسائیکل قبضے میں لے کر تھانہ مسلم ٹاؤن منتقل کر دی ہے۔
ترجمان کے مطابق معاملے کی مکمل چھان بین کے لیے محکمہ ایکسائز اینڈ ٹیکسیشن اور سیف سٹی اتھارٹی کو بھی آگاہ کر دیا گیا ہے تاکہ ریکارڈ کی مزید تصدیق اور قانونی حیثیت کا جائزہ لیا جا سکے۔
اس سلسلے میں سیف سٹی اتھارٹی کو باضابطہ خط بھی ارسال کیا گیا ہے جس میں تمام متعلقہ ریکارڈ کی تصدیق اور کلیئرنس فراہم کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔
ون ایپ کیا ہے؟
پنجاب حکومت کی جانب سے حال ہی میں متعارف کرایا گیا "ون ایپ” نظام ٹریفک قوانین کی نگرانی اور خلاف ورزیوں کی نشاندہی کے لیے جدید ڈیجیٹل پلیٹ فارم ہے۔
اس نظام کے ذریعے ٹریفک اہلکار موقع پر موجود رہتے ہوئے گاڑیوں کی رجسٹریشن، ملکیت، ای چالان اور دیگر قانونی معلومات چند سیکنڈ میں حاصل کر سکتے ہیں۔
حکام کے مطابق اس ایپ کا بنیادی مقصد ٹریفک انفورسمنٹ کو شفاف، تیز اور مؤثر بنانا ہے تاکہ ویڈیو اور ڈیجیٹل شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جا سکے۔
ای چالان نادہندگان کے خلاف مہم میں تیزی
چیف ٹریفک آفیسر (سی ٹی او) لاہور سید عبدالرحیم شیرازی کی ہدایت پر شہر بھر میں ای چالان نادہندگان کے خلاف کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جا رہی ہے۔
ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ لاکھوں روپے مالیت کے واجب الادا ای چالانوں کی وصولی ایک بڑا چیلنج بن چکی ہے، تاہم قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف زیرو ٹالرنس پالیسی برقرار رکھی جائے گی۔
حکام کے مطابق ڈیجیٹل نگرانی کے جدید نظام نے ایسے کیسز کی نشاندہی کو آسان بنا دیا ہے جن میں غیر معمولی رجسٹریشنز یا بڑی تعداد میں خلاف ورزیاں ریکارڈ پر موجود ہوں۔
غیر معمولی رجسٹریشنز کی جانچ کا دائرہ وسیع
اس واقعے کے بعد متعلقہ اداروں نے لاہور سمیت پنجاب بھر میں مشتبہ یا غیر معمولی رجسٹریشنز کی جانچ کے عمل کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ کیا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ جائزہ لیا جائے گا کہ آیا ایک ہی شخص کے نام پر سینکڑوں گاڑیوں کی رجسٹریشن مکمل طور پر قانونی اور کاروباری ضرورت کے تحت ہوئی یا اس میں مزید جانچ کی ضرورت موجود ہے۔
ماہرین کے مطابق اس طرح کے کیسز نہ صرف ٹریفک قوانین کے نفاذ بلکہ گاڑیوں کی رجسٹریشن، ٹیکس وصولی اور شہری نگرانی کے نظام کے حوالے سے بھی اہمیت رکھتے ہیں۔
جدید ٹیکنالوجی نے غیر معمولی کیس بے نقاب کر دیا
مبصرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ماضی میں بھی ایک شخص کے نام پر متعدد گاڑیوں کی رجسٹریشن کے کیسز سامنے آتے رہے ہیں، تاہم 421 گاڑیوں اور 1526 ای چالانوں کا ایک ساتھ سامنے آنا غیر معمولی واقعہ ہے۔
ان کے مطابق جدید ڈیجیٹل انفورسمنٹ سسٹمز کی بدولت ایسے معاملات کی فوری نشاندہی ممکن ہو رہی ہے، جس سے قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارکردگی اور نگرانی کے عمل میں مزید بہتری آ رہی ہے۔
نتیجہ
لاہور میں سامنے آنے والا یہ غیر معمولی کیس صوبے کے جدید ڈیجیٹل ٹریفک انفورسمنٹ نظام کی مؤثریت کی ایک نمایاں مثال قرار دیا جا رہا ہے۔ ایک شخص کے نام پر 421 گاڑیوں کی رجسٹریشن اور 20 لاکھ روپے سے زائد مالیت کے 1526 ای چالانوں نے متعلقہ اداروں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ مکمل تحقیقات کے بعد حقائق سامنے لائے جائیں گے اور قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔