مشرق وسطیٰتازہ ترین

بھارت پانی کی ایک بوند بھی پاکستان نہیں جانے دے گا، بھارتی وزیر

یہ دریا  کشمیر کے حساس علاقوں سے گزرتے ہیں، جو ایک متنازع خطہ ہے اور جس پر بھارت  اور پاکستان دونوں دعویٰ کرتے ہیں۔

بھارت کے آبی وسائل کے وزیر سی آر پاٹل نے کہا ہے کہ آنے والے برسوں  میں بھارت سے ایک بوند بھی پانی پاکستان نہیں جانے دیا جائے گا۔  بھارت اپنے ہمسایہ ملک پاکستان کی جانب دریاؤں کے پانی کی فراہمی روکنے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب نئی دہلی نے گزشتہ سال ایک اہم معاہدہ معطل کر دیا تھا۔  پاکستان پہلے ہی خبردار کر چکا ہے کہ سرحد پار پانی کے بہاؤ میں کسی بھی تبدیلی کو ’’جنگی اقدام‘‘ تصور کیا جائے گا،  اور اس کا مؤقف ہے کہ 1960 کا سندھ طاس معاہدہ اب بھی نافذ العمل ہے کیونکہ اس سے یکطرفہ طور پر دستبرداری کا کوئی طریقہ موجود نہیں۔
بھارتی وزیر نے منگل کی شب بھارتی خبر رساں ادارے اے این آئی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کی ہدایات کے بعد اس معاملے پر عملی اقدامات جاری ہیں۔

پاکستان میں جامشورو اور ضلع کوٹری میں خشک دریائے سندھ کا ایک منظر
رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان نے بھارت پر اس وقت یہ الزام لگایا کہ وہ پانی کو ’’بطور ہتھیار‘‘ استعمال کرنا چاہتا ہے، جب نئی دہلی نے دریائے چناب سے متعلق دو منصوبوں کا اعلان کیا تھاتصویر: Jan Ali Laghari/Middle East Images/picture alliance

سندھ طاس معاہدہ چھ دریاؤں کے پانی کے استعمال کو منظم کرتا ہے ، جن کے منبع بھارت میں ہیں مگر یہ پاکستان میں بہتے ہیں اور کروڑوں افراد کے لیے زندگی کا ذریعہ ہیں۔
یہ دریا  کشمیر کے حساس علاقوں سے گزرتے ہیں، جو ایک متنازع خطہ ہے اور جس پر بھارت  اور پاکستان دونوں دعویٰ کرتے ہیں۔
بھارت نے مئی 2025 میں اس معاہدے میں اپنی شمولیت معطل کرنے کا اعلان کیا تھا، جب اس نے بھارت کے زیر انتظام  کشمیر میں سیاحوں پر ہونے والے ایک مہلک حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا تھا۔ لیکن پاکستان نے اس کی تردید کی تھی۔
رواں ماہ کے آغاز میں  پاکستان نے بھارت پر اس وقت یہ الزام لگایا کہ وہ پانی کو ’’بطور ہتھیار‘‘ استعمال  کرنا چاہتا ہے، جب نئی دہلی نے دریائے چناب سے متعلق دو منصوبوں کا اعلان کیا تھا۔
بھارت کے سرکاری ادارے نیشنل ہائیڈرو الیکٹرک پاور کارپوریشن نے  مئی میں ایک سرنگ منصوبے کے لیے ٹینڈر جاری کیا، جس کے تحت چناب کا پانی بیاس بیسن کی جانب منتقل کیا جا سکتا ہے۔

بھارت کی وزارتِ توانائی نے جنوری میں کہا تھا کہ وہ دریائے چناب پر واقع سلال پاور اسٹیشن میں ’’سیڈیمنٹ ہٹانے‘‘ کا کام انجام دے رہی ہے، جو اس کے بقول ’’معاہدۂ سندھ طاس کی معطلی کے بعد‘‘ کیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button