
امید کے دو سال، خاندانوں کو ملانے کے دو سال: ’’میرا پیارا‘‘ نے 83 ہزار سے زائد گمشدہ بچوں کو ان کے خاندانوں سے ملا کر نئی تاریخ رقم کر دی
اس منصوبے کو "میرا پیارا" کا نام دیا گیا تاکہ ہر بچہ خود کو محفوظ، عزیز اور معاشرے کا اہم فرد محسوس کرے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان، مس سدرا انچارج ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی کے ساتھ
لاہور: معاشرے کی اصل طاقت اس کے بچے ہوتے ہیں، اور جب کوئی بچہ اپنے خاندان سے بچھڑ جائے تو اس کا دکھ صرف ایک گھر تک محدود نہیں رہتا بلکہ پوری انسانیت کو متاثر کرتا ہے۔ ایسے میں اگر کوئی ادارہ ہزاروں بچھڑے بچوں کو دوبارہ ان کے والدین کی آغوش تک پہنچا دے تو یہ صرف ایک سرکاری منصوبہ نہیں بلکہ انسانیت کی خدمت کا روشن باب بن جاتا ہے۔

پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی (PSCA) کے تحت قائم ’’میرا پیارا – ورچوئل سینٹر فار چائلڈ سیفٹی‘‘ نے اپنے قیام کے دو سال مکمل کرتے ہوئے ثابت کر دیا ہے کہ جدید ٹیکنالوجی، موثر حکمت عملی اور انسانی ہمدردی کے امتزاج سے معاشرے میں حقیقی تبدیلی لائی جا سکتی ہے۔
26 جولائی 2026 کو اپنی دوسری سالگرہ مناتے ہوئے ’’میرا پیارا‘‘ نے نہ صرف اپنی کامیابیوں کا جشن منایا بلکہ اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ بچوں کے تحفظ، گمشدہ بچوں کی بازیابی اور خاندانوں کی بحالی کا یہ سفر پہلے سے زیادہ قوت اور جذبے کے ساتھ جاری رکھا جائے گا۔
ایک خواب جو حقیقت بن گیا
دو سال قبل 26 جولائی 2024 کو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی نے ایک ایسا منصوبہ متعارف کرایا جس کا مقصد صرف گمشدہ بچوں کو تلاش کرنا نہیں بلکہ انہیں ہر قسم کے خطرات، تشدد، استحصال، انسانی اسمگلنگ، جبری مشقت، بھیک منگوانے جیسے جرائم اور دیگر حفاظتی خدشات سے محفوظ رکھنا بھی تھا۔
اس منصوبے کو "میرا پیارا” کا نام دیا گیا تاکہ ہر بچہ خود کو محفوظ، عزیز اور معاشرے کا اہم فرد محسوس کرے۔
شروع سے ہی اس منصوبے کی بنیاد جدید ٹیکنالوجی، ڈیجیٹل رابطہ کاری، فوری رسپانس، قانون نافذ کرنے والے اداروں، چائلڈ پروٹیکشن اداروں، ریسکیو سروسز، ہسپتالوں اور ضلعی انتظامیہ کے درمیان مربوط تعاون پر رکھی گئی۔
دو برس، لاکھوں امیدیں
صرف دو سال کے مختصر عرصے میں ’’میرا پیارا‘‘ نے ایسی کامیابیاں حاصل کیں جو کسی بھی فلاحی اور حفاظتی منصوبے کے لیے قابلِ تقلید مثال بن چکی ہیں۔
ادارے کے مطابق:
- 160,000 سے زائد کیسز پر کارروائی کی گئی۔
- 152,000 سے زیادہ کیسز کامیابی سے نمٹائے گئے۔
- 86,000 سے زائد کیسز گمشدہ اور ملنے والے بچوں سے متعلق تھے۔
- 83,000 سے زائد بچوں کو کامیابی کے ساتھ ان کے خاندانوں سے دوبارہ ملا دیا گیا۔
یہ اعداد و شمار صرف سرکاری ریکارڈ نہیں بلکہ ہزاروں والدین کی دعاؤں، بچوں کی مسکراہٹوں اور خاندانوں کی بحالی کی زندہ علامت ہیں۔
ہر وہ بچہ جو واپس اپنے گھر پہنچا، اس کے ساتھ ایک خاندان کی امیدیں بھی واپس آئیں۔
اعداد و شمار سے بڑھ کر انسانیت کی داستان
’’میرا پیارا‘‘ کی اصل کامیابی اس کی فائلوں یا رپورٹوں میں نہیں بلکہ ان لمحوں میں پوشیدہ ہے جب ایک گمشدہ بچہ برسوں بعد اپنی ماں کے گلے لگا، جب ایک باپ نے اپنے بچھڑے بیٹے کو دوبارہ سینے سے لگایا، جب بہن بھائیوں نے اپنے پیارے کو دوبارہ اپنے درمیان پایا۔
ہر کامیاب ری یونین کے پیچھے ایک درد بھری کہانی، بے شمار دعائیں، انتھک کوششیں اور ایک پوری ٹیم کی شبانہ روز محنت شامل ہوتی ہے۔
یہی وہ انسانی پہلو ہے جس نے ’’میرا پیارا‘‘ کو عوامی اعتماد کی علامت بنا دیا ہے۔
بچوں کے تحفظ کے لیے جدید ٹیکنالوجی
ڈیجیٹل دور میں ٹیکنالوجی صرف سہولت کا ذریعہ نہیں بلکہ انسانی جانوں کے تحفظ کا مؤثر ہتھیار بھی بن چکی ہے۔
’’میرا پیارا‘‘ جدید ڈیجیٹل سسٹمز، مربوط ڈیٹا، فوری اطلاع، مختلف اداروں کے درمیان آن لائن رابطے اور تربیت یافتہ ماہرین کی مدد سے گمشدہ بچوں کی شناخت، تلاش، بحالی اور خاندانوں سے دوبارہ ملاپ کا عمل انتہائی کم وقت میں مکمل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
اس نظام نے نہ صرف بچوں کی بازیابی کے عمل کو تیز کیا بلکہ ان کی حفاظت کو بھی یقینی بنایا۔
عالمی سطح پر پاکستان کا نام روشن
’’میرا پیارا‘‘ کی کامیابیوں نے صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی۔
اس منصوبے کو ورلڈ سمٹ آن دی انفارمیشن سوسائٹی (WSIS) کے Top 5 e-Government Initiatives میں شامل کیا گیا، جو عالمی سطح پر عوامی خدمات میں جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کا ایک بڑا اعزاز سمجھا جاتا ہے۔
بعد ازاں جنیوا، سوئٹزرلینڈ میں منعقدہ عالمی تقریب کے دوران اس منصوبے کو Champion Trophy اور Certificate of Recognition سے نوازا گیا۔
یہ اعزاز اس بات کا اعتراف ہے کہ پاکستان بھی جدید ٹیکنالوجی کو عوامی خدمت اور سماجی بہبود کے لیے مؤثر انداز میں استعمال کرنے والے ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ہے۔
کامیابی کے پیچھے مضبوط قیادت
’’میرا پیارا‘‘ کی کامیابی کو پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کے مینیجنگ ڈائریکٹر محمد احسن یونس کی وژنری قیادت، چیف آپریٹنگ آفیسر مستنصر فیروز کی متحرک نگرانی اور پوری ٹیم کی انتھک محنت کا نتیجہ قرار دیا جا رہا ہے۔
ان کی قیادت میں ادارے نے ثابت کیا کہ اگر واضح وژن، جدید ٹیکنالوجی اور خدمتِ خلق کا جذبہ موجود ہو تو حکومتی منصوبے بھی عالمی معیار کی کامیابیاں حاصل کر سکتے ہیں۔
ایک ایسی ٹیم جو خاموشی سے زندگیاں بدل رہی ہے
’’میرا پیارا‘‘ کے افسران، آپریٹرز، چائلڈ پروٹیکشن ماہرین، تکنیکی عملہ، پولیس اہلکار، ریسکیو ٹیمیں اور دیگر متعلقہ ادارے چوبیس گھنٹے بچوں کے تحفظ کے لیے سرگرم رہتے ہیں۔
ان کی بروقت کارروائیاں، حساس رویہ اور پیشہ ورانہ صلاحیت ہی اس منصوبے کی اصل طاقت ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جو خبروں کی شہ سرخیوں میں کم نظر آتے ہیں، مگر ہزاروں خاندانوں کی دعاؤں میں ہمیشہ یاد رکھے جاتے ہیں۔
معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری
ماہرین کے مطابق بچوں کا تحفظ صرف حکومت یا پولیس کی ذمہ داری نہیں بلکہ والدین، اساتذہ، سماجی تنظیموں، میڈیا اور ہر شہری کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔
اگر کوئی بچہ گم ہو جائے یا کسی مشکوک صورتحال میں نظر آئے تو بروقت اطلاع دینا ایک انسانی اور قومی فریضہ ہے۔
’’میرا پیارا‘‘ نے دو برسوں میں یہ ثابت کیا ہے کہ عوامی تعاون اور ادارہ جاتی ہم آہنگی کے ذریعے ہزاروں زندگیاں محفوظ بنائی جا سکتی ہیں۔
مستقبل کا عزم
دوسری سالگرہ کے موقع پر ’’میرا پیارا‘‘ کی ٹیم نے اس عزم کا اظہار کیا کہ آنے والے برسوں میں اس منصوبے کو مزید جدید، مؤثر اور عوام دوست بنایا جائے گا تاکہ زیادہ سے زیادہ بچوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور کوئی بھی خاندان اپنے پیارے کی جدائی کے کرب میں تنہا نہ رہے۔
ادارے کا کہنا ہے کہ ہر بچے کو محفوظ بچپن، ہر خاندان کو امید، اور ہر گمشدہ بچے کو اپنے گھر واپس پہنچنے کا حق حاصل ہے۔
اختتامیہ
دو سال مکمل ہو چکے ہیں، مگر ’’میرا پیارا‘‘ کا سفر ابھی جاری ہے۔ یہ سفر صرف ایک ادارے کی کامیابی نہیں بلکہ انسانیت، ہمدردی، جدید ٹیکنالوجی اور اجتماعی عزم کی ایسی داستان ہے جس نے ہزاروں خاندانوں کو دوبارہ زندگی کی خوشیاں لوٹائی ہیں۔
پنجاب سیف سٹیز اتھارٹی کا یہ منصوبہ اس حقیقت کا عملی ثبوت ہے کہ جب ریاست، ٹیکنالوجی اور انسان دوستی ایک مقصد پر متحد ہو جائیں تو صرف اعداد و شمار نہیں بدلتے، بلکہ زندگیاں بدل جاتی ہیں، بچھڑے ہوئے خاندان دوبارہ آباد ہو جاتے ہیں اور امید کا چراغ ہمیشہ روشن رہتا ہے۔



