پاکستاناہم خبریں

ترک لینڈ فورسز کے کمانڈر جنرل متین توکل کی پاکستان کی عسکری قیادت سے اہم ملاقاتیں، دفاعی تعاون مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ

جی ایچ کیو، نیول ہیڈ کوارٹرز اور ایئر ہیڈ کوارٹرز کے دورے، علاقائی سلامتی، دفاعی تعاون اور پیشہ ورانہ امور پر تبادلہ خیال

سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

پاکستان اور ترکی کے درمیان دیرینہ برادرانہ تعلقات اور دفاعی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے کے سلسلے میں ترک لینڈ فورسز کے کمانڈر جنرل متین توکل نے پاکستان کا اہم سرکاری دورہ کیا، جس کے دوران انہوں نے پاکستان کی عسکری قیادت سے ملاقاتیں کیں اور باہمی دفاعی تعاون، علاقائی سلامتی اور پیشہ ورانہ امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

دورے کے دوران ترک فوجی کمانڈر نے جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی، نیول ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد اور ایئر ہیڈ کوارٹرز اسلام آباد کا دورہ کیا، جہاں انہیں پاکستان کی مسلح افواج کی جانب سے بھرپور خیر مقدم کیا گیا۔

جی ایچ کیو آمد پر گارڈ آف آنر پیش

ترک لینڈ فورسز کے کمانڈر جنرل متین توکل کی جی ایچ کیو آمد پر پاک فوج کے چاق و چوبند دستے نے انہیں گارڈ آف آنر پیش کیا۔ اس موقع پر دونوں ممالک کے قومی پرچموں کی موجودگی میں رسمی استقبالیہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران بھی موجود تھے۔

گارڈ آف آنر کے بعد جنرل متین توکل نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، چیف آف آرمی اسٹاف سے ملاقات کی۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر اور جنرل متین توکل کی ملاقات

جی ایچ کیو میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں عسکری رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے پیشہ ورانہ امور، خطے کی بدلتی ہوئی سکیورٹی صورتحال، دفاعی تعاون اور دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان روابط کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے اس موقع پر پاکستان اور ترکی کے درمیان صدیوں پر محیط تاریخی، مذہبی، ثقافتی اور تزویراتی تعلقات کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے کے ساتھ گہری محبت، اعتماد اور احترام کے رشتے میں بندھے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکی کی مسلح افواج کے درمیان دفاعی تعاون وقت کے ساتھ مزید مضبوط ہوا ہے اور دونوں ممالک مختلف شعبوں میں ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کر رہے ہیں۔

فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دونوں ممالک کی افواج کے درمیان تربیتی، دفاعی اور پیشہ ورانہ تعاون کو خطے میں امن و استحکام کے لیے اہم قرار دیا۔

علاقائی سلامتی اور دفاعی تعاون پر تفصیلی تبادلہ خیال

ملاقات کے دوران خطے میں سکیورٹی کے بدلتے ہوئے منظرنامے، انسداد دہشت گردی، سرحدی سلامتی، دفاعی استعداد میں اضافہ اور مشترکہ تربیتی پروگراموں سمیت مختلف امور زیر بحث آئے۔

دونوں عسکری رہنماؤں نے اس امر پر اتفاق کیا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان دفاعی تعلقات نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے میں امن، استحکام اور سلامتی کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

فوجی ذرائع کے مطابق ملاقات میں دفاعی صنعت، عسکری تربیت، تکنیکی تعاون اور مشترکہ مشقوں کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔

ترک کمانڈر کا نیول ہیڈ کوارٹرز کا دورہ

اپنے دورہ پاکستان کے دوران جنرل متین توکل نے نیول ہیڈ کوارٹرز (این ایچ کیو) اسلام آباد کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف آف دی نیول اسٹاف ایڈمرل نوید اشرف سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے پیشہ ورانہ امور، بحری دفاع، سمندری سلامتی اور بحرِ ہند کے خطے میں سکیورٹی صورتحال پر تفصیلی گفتگو کی۔

ایڈمرل نوید اشرف نے پاک بحریہ اور ترک بحریہ کے درمیان موجود قریبی تعاون کو سراہتے ہوئے سمندری سلامتی کے میدان میں مشترکہ اقدامات کی اہمیت پر زور دیا۔

اس موقع پر دونوں ممالک کے درمیان بحری تربیت، مشترکہ مشقوں اور میری ٹائم سکیورٹی کے شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے امکانات کا بھی جائزہ لیا گیا۔

ایئر ہیڈ کوارٹرز میں ایئر چیف سے ملاقات

ترک لینڈ فورسز کے کمانڈر نے ایئر ہیڈ کوارٹرز (اے ایچ کیو) اسلام آباد کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے چیف آف ایئر اسٹاف ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو سے ملاقات کی۔

ملاقات کے دوران فضائی دفاع، عسکری تعاون، تربیتی پروگراموں اور پیشہ ورانہ امور سے متعلق مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

ایئر چیف مارشل ظہیر احمد بابر سدھو نے پاکستان اور ترکی کے درمیان فضائی شعبے میں بڑھتے ہوئے تعاون کو دونوں ممالک کے دفاعی تعلقات کا اہم پہلو قرار دیا۔

دونوں رہنماؤں نے فضائی قوت، جدید دفاعی ٹیکنالوجی اور عسکری مہارت کے شعبوں میں باہمی تعاون کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اظہار کیا۔

ترک کمانڈر کی پاکستانی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کی تعریف

دورے کے دوران ترک لینڈ فورسز کے کمانڈر جنرل متین توکل نے پاکستان کی مسلح افواج کی پیشہ ورانہ مہارت، جنگی تیاریوں اور قومی سلامتی کے لیے ان کی خدمات کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کی مسلح افواج خطے میں امن و استحکام کے قیام اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں قابلِ قدر کردار ادا کر رہی ہیں۔ انہوں نے پاکستانی افواج کی تربیت، نظم و ضبط اور آپریشنل صلاحیتوں کو بھی خراج تحسین پیش کیا۔

پاکستان اور ترکی کے برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کا عزم

ترک کمانڈر نے اس موقع پر دونوں برادر اسلامی ممالک کے درمیان موجود مضبوط تعلقات کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکی کے درمیان تعلقات باہمی اعتماد، مشترکہ اقدار اور دیرینہ دوستی پر مبنی ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کی مسلح افواج کے درمیان دفاعی تعاون، ادارہ جاتی روابط، مشترکہ تربیت اور عسکری اشتراک مستقبل میں مزید مضبوط ہوگا۔

دفاعی شراکت داری علاقائی امن و استحکام کے لیے اہم

دفاعی ماہرین کے مطابق ترک لینڈ فورسز کے کمانڈر کا یہ دورہ پاکستان اور ترکی کے درمیان مضبوط دفاعی تعلقات کا عکاس ہے۔ دونوں ممالک پہلے ہی دفاعی پیداوار، عسکری تربیت، بحری اور فضائی تعاون سمیت مختلف شعبوں میں قریبی شراکت داری رکھتے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ موجودہ علاقائی اور عالمی سکیورٹی چیلنجز کے تناظر میں پاکستان اور ترکی کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون نہ صرف دونوں ممالک کے قومی مفادات کے تحفظ میں معاون ثابت ہوگا بلکہ خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ سلامتی کے فروغ میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button