یورپتازہ ترین

جرمن صدر کی سرکاری رہائش گاہ پر ’سیکس ڈول‘ کی نمائش پر تنازع

سبز رنگ میں ڈھلا کانسی کا 'ایوا‘ نامی یہ مجسمہ اس نمائش کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا فن پارہ بن چکا ہے

الیزابیتھ گرینئر

جرمن صدر کی سرکاری رہائش گاہ بَیلے وُو پیلس میں آرٹ کی ایک خصوصی نمائش میں رکھے جاپانی سیکس ڈول کے دھڑ پر مبنی کانسی کے ایک مجسمے نے ملک بھر میں ایک بحث کو جنم دیا ہے اور یہ سوشل میڈیا پر بھی خاصی توجہ حاصل کر رہا ہے۔

اگرچہ سبز رنگ میں ڈھلا کانسی کا ‘ایوا‘ نامی یہ مجسمہ اس نمائش کا سب سے زیادہ توجہ حاصل کرنے والا فن پارہ بن چکا ہے، لیکن اس نمائش میں ویڈیو اور آڈیو آلات سے لیس، فوٹوگرافی اور روایتی آئل پینٹنگز سے بنے متعدد جدید فن پارے بھی شامل ہیں، جن کا مقصد جمہوریت، اقتدار، نمائندگی اور عوامی زندگی جیسے موضوعات پر مکالمے کو فروغ دینا ہے۔

نمائش کے افتتاح سے قبل صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وفاقی جرمن صدر فرینک والٹر اشٹائن مائر نے کہا، ”ہمیں فن کی ضرورت ہے۔ آزاد فن کے بغیر جمہوریت اپنی خود احتسابی کی صلاحیت کھو دیتی ہے، اور آزادی کے بغیر فن اپنی سماجی اہمیت سے محروم ہو جاتا ہے۔‘‘

یہ نمائش برلن کی اکیڈمی آف آرٹس نے ملکی صدر کی سرپرستی میں منعقد کی ہے اور اسے اشٹائن مائر کی جانب سے بَیلے وُو پیلس میں ایک طرح کی الوداعی تقریب بھی قرار دیا جا رہا ہے۔

اس سرکاری محل کو آئندہ آٹھ برسوں کے لیے تزئین و مرمت کی غرض سے بند کیا جا رہا ہے جبکہ صدر اشٹائن مائر کی دوسری اور آخری آئینی مدت بھی اگلے سال ختم ہو رہی ہے، اس لیے ان کی دوبارہ اس سرکاری رہائش گاہ میں واپسی کا امکان نہیں۔

نمائش میں رکھا ہوا جرمن فنکارہ الیگزینڈرا برکن کا فن پارہ ’ایوا‘
جرمن فنکارہ الیگزینڈرا برکن کے فن پارے ’ایوا‘ نے نجی اور جسمانی موضوعات کے سماجی اور سیاسی پہلوؤں پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہےتصویر: Thomas Brinkmann

جمہوریت اور فن کے تعلق پر زور

نمائش میں داخل ہوتے ہی حاضرین کو بار بار سنائی دینے والا لفظ ”ہیلو‘‘ متوجہ کرتا ہے، جو جرمن فنکار یوخن گیرز کی 1972 کی   ‘تھک جانے تک پکارتے رہنا‘ کے عنوان کے تحت پیش کی گئی یادگار پرفارمنس کا حصہ ہے۔ اس میں فنکار اس وقت تک ‘ہیلو‘ پکارتا رہتا ہے جب تک اس کی آواز جواب نہیں دے جاتی۔

نمائش کے منتظمین کے مطابق یہ پرفارمنس آج اظہارِ رائے کی حدود اور سوشل میڈیا کے دور میں مسلسل توجہ حاصل کرنے کی خواہش پر ایک علامتی تبصرہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ پیغام بھی دیا گیا ہے کہ جب جمہوری معاشروں میں شہریوں کی آوازیں نظرانداز کی جائیں تو مایوسی اور اجتماعی تھکن جنم لے سکتی ہے۔

دوسری جانب متنازع مجسمہ ‘ایوا‘ انسانی جسم، جنس، جنسی شناخت اور خواتین کو محض ایک شے کے طور پر پیش کیے جانے جیسے موضوعات پر سوالات اٹھاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق کسی ریاستی محل کے رسمی ماحول میں اس نوعیت کے فن پارے کی نمائش معاشرے میں جسم اور شناخت پر اختیار اور نمائندگی کے بارے میں ایک نئی بحث کو جنم دیتی ہے۔

کارکن برلن میں واقع جرمن صدر کی سرکاری رہائش گاہ بَیلے وُو پیلس  کی عمارت کی چھت پر جرمن فنکار کرسچیان آوے کے ت‍خلیق کردہ فن پارے ’آرٹ بطور آزاد فضا‘کی تنصیب میں مصروف ہیں
جرمن صدر کی سرکاری رہائش گاہ بَیلے وُو پیلس کی عمارت کی چھت پر جرمن فنکار کرسچیان آوے کے ت‍خلیق کردہ فن پارے ’آرٹ بطور آزاد فضا‘تصویر: Markus Schreiber/AP Photo/picture alliance

اس کے ساتھ ساتھ بَیلے وُو پیلس کی عمارت عام حالات میں عوام کے لیے کھلی نہیں ہوتی، اس لیے یہ نمائش شہریوں کے لیے اس تاریخی عمارت کے اندرونی حصوں کو دیکھنے کا ایک نادر موقع بھی فراہم کر رہی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button