پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

لاہور ہائی کورٹ کا تاریخی اقدام: جوڈیشل افسران کے لیے جدید انٹیگریٹڈ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کا افتتاح

اس نظام سے امتحانی عمل میں شفافیت پیدا ہوگی اور افسران کی پیشہ ورانہ ترقی اور قابلیت کے جائزے کا عمل مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

قاسم بخاری-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

لاہور ہائی کورٹ نے عدالتی نظام میں جدید ٹیکنالوجی کے مؤثر استعمال اور شفافیت کے فروغ کی جانب ایک اہم پیش رفت کرتے ہوئے صوبہ بھر کے جوڈیشل افسران کے لیے جدید ترین انٹیگریٹڈ جوڈیشل آفیسرز پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم (IJOPMS) کا باقاعدہ افتتاح کر دیا ہے۔ اس جدید اور انقلابی نظام کا افتتاح چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ، جسٹس مس عالیہ نیلم نے ایک خصوصی تقریب کے دوران کیا، جس میں ڈائریکٹر جنرل جوڈیشل اینڈ کیس مینجمنٹ جاوید اقبال بوسال، ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد اور عدالتی انتظامیہ کے دیگر اعلیٰ افسران بھی شریک تھے۔

افتتاحی تقریب کے دوران ایڈیشنل رجسٹرار آئی ٹی جمال احمد نے نئے نظام کے مختلف پہلوؤں، مقاصد اور افادیت کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ یہ سسٹم ضلعی عدلیہ کے انتظامی ڈھانچے کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور عدالتی امور کو مکمل طور پر ڈیجیٹل انداز میں مربوط بنانے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے کا بنیادی مقصد عدالتی نظام میں ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن، شفافیت، احتساب، مؤثر نگرانی اور کارکردگی میں بہتری کو یقینی بنانا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انٹیگریٹڈ جوڈیشل آفیسرز پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم تین بنیادی ستونوں پر مشتمل ہے جن کے ذریعے جوڈیشل افسران کے تمام انتظامی، پیشہ ورانہ اور کارکردگی سے متعلق امور کو ایک ہی پلیٹ فارم پر لایا جائے گا۔

ایچ آر مینجمنٹ سسٹم: سروس ریکارڈ کا مکمل ڈیجیٹل مرکز

نئے نظام کا پہلا اور اہم جزو ہیومن ریسورس مینجمنٹ سسٹم (HRMS) ہے، جس کے ذریعے جوڈیشل افسران کے تمام سروس ریکارڈ کو مرکزی سطح پر محفوظ اور منظم کیا جائے گا۔ اس نظام میں افسران کی ذاتی اور پیشہ ورانہ معلومات، تقرریاں، تبادلے، ترقیوں کا ریکارڈ، سنیارٹی لسٹ، قابلیت اور مہارت کے کوائف، سالانہ خفیہ رپورٹس (ACRs)، چھٹیوں کا ریکارڈ، تربیتی پروگراموں میں شرکت اور دیگر اہم معلومات ڈیجیٹل انداز میں دستیاب ہوں گی۔

اس اقدام سے نہ صرف ریکارڈ کی درستگی اور دستیابی میں بہتری آئے گی بلکہ انتظامی فیصلوں میں بھی سہولت پیدا ہوگی اور مختلف محکموں کے درمیان معلومات کے تبادلے کا عمل زیادہ مؤثر اور تیز رفتار بن سکے گا۔

ایگزام مینجمنٹ سسٹم: امتحانی عمل کی ڈیجیٹل نگرانی

سسٹم کا دوسرا اہم حصہ ایگزام مینجمنٹ سسٹم ہے، جس کے ذریعے جوڈیشل افسران کے امتحانات، ان کی مختلف کوششوں، نتائج، کامیابیوں اور امتحانی تاریخ کا مکمل ریکارڈ محفوظ رکھا جائے گا۔ اس نظام سے امتحانی عمل میں شفافیت پیدا ہوگی اور افسران کی پیشہ ورانہ ترقی اور قابلیت کے جائزے کا عمل مزید مؤثر بنایا جا سکے گا۔

پرفارمنس اور کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم: احتساب کا جامع پلیٹ فارم

انٹیگریٹڈ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کا تیسرا اور نہایت اہم جزو پرفارمنس مانیٹرنگ اور کمپلینٹ مینجمنٹ سسٹم ہے۔ اس کے ذریعے جوڈیشل افسران کی کارکردگی کا مسلسل جائزہ لیا جا سکے گا جبکہ ان کے زیر سماعت اور نمٹائے گئے مقدمات، فیصلوں کی رفتار، عدالتی اہداف کی تکمیل اور دیگر پیشہ ورانہ امور کی نگرانی بھی ممکن ہوگی۔

مزید برآں شکایات، انکوائریز اور انتظامی کارروائیوں کی ٹریکنگ کے لیے بھی ایک جامع اور مربوط پلیٹ فارم فراہم کیا گیا ہے جس سے احتسابی عمل مزید شفاف، مؤثر اور بروقت بنایا جا سکے گا۔

چیف جسٹس عالیہ نیلم کا اظہار اطمینان

اس موقع پر چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس مس عالیہ نیلم نے سسٹم کی تیاری میں شامل آئی ٹی ٹیم کی شب و روز محنت، پیشہ ورانہ مہارت اور لگن کو سراہتے ہوئے کہا کہ لاہور ہائی کورٹ عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کے لیے مسلسل اقدامات کر رہی ہے اور یہ نیا نظام اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔

انہوں نے کہا کہ انٹیگریٹڈ جوڈیشل آفیسرز پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کے نفاذ سے صوبہ بھر کے جوڈیشل افسران کا سروس ریکارڈ ایک مرکزی پلیٹ فارم پر دستیاب ہوگا، جس سے انتظامی امور میں آسانی پیدا ہوگی اور فیصلہ سازی کا عمل زیادہ مؤثر اور شفاف بن سکے گا۔

چیف جسٹس نے مزید کہا کہ مربوط رپورٹنگ کے ذریعے جوڈیشل افسران کی کارکردگی، شکایات اور انکوائریز کا بروقت اور جامع جائزہ لینا ممکن ہوگا، جس سے ادارہ جاتی احتساب کو مزید مضبوط بنیادیں فراہم ہوں گی۔ ان کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے عدالتی نظام میں عوامی اعتماد میں اضافہ ہوگا اور انصاف کی فراہمی کے عمل کو مزید تیز، شفاف اور مؤثر بنایا جا سکے گا۔

عدالتی اصلاحات کے نئے دور کا آغاز

چیف جسٹس عالیہ نیلم نے اس موقع پر اس بات پر بھی زور دیا کہ صرف جدید سسٹمز کی تیاری کافی نہیں بلکہ ان کے مؤثر استعمال کے لیے متعلقہ عملے کی تربیت بھی ناگزیر ہے۔ انہوں نے ہدایت کی کہ سسٹم سے وابستہ تمام برانچز کے ملازمین کو مکمل تربیت فراہم کی جائے تاکہ وہ اس نظام سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

انہوں نے ہائی کورٹ کے تمام ملازمین کے لیے کمپیوٹر ٹریننگ کی اہمیت پر بھی زور دیتے ہوئے کہا کہ موجودہ دور میں ڈیجیٹل مہارتیں ہر سرکاری ملازم کی بنیادی ضرورت بن چکی ہیں اور عدالتی نظام کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے کے لیے آئی ٹی کی استعداد کار میں مسلسل اضافہ ضروری ہے۔

لاہور ہائی کورٹ کے ویژن کا عملی مظہر

چیف جسٹس نے انٹیگریٹڈ پرفارمنس مینجمنٹ سسٹم کو لاہور ہائی کورٹ کے جدید، شفاف اور جوابدہ عدالتی نظام کے ویژن کا عملی مظہر قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ مستقبل میں عدالتی اصلاحات، بہتر گورننس اور جدید انتظامی ڈھانچے کے قیام میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔

قانونی ماہرین کے مطابق یہ جدید ڈیجیٹل نظام نہ صرف جوڈیشل افسران کی کارکردگی کے مؤثر جائزے میں معاون ثابت ہوگا بلکہ عدالتی انتظامیہ کے لیے پالیسی سازی، انسانی وسائل کے بہتر استعمال اور احتسابی نظام کو مضبوط بنانے میں بھی اہم کردار ادا کرے گا۔ اس اقدام کو عدالتی نظام میں شفافیت، کارکردگی اور جدیدیت کے فروغ کی جانب ایک تاریخی اور دور رس اثرات کا حامل قدم قرار دیا جا رہا ہے۔

یہ خبر قومی اخبارات کے فرنٹ پیج یا خصوصی عدالتی رپورٹ کے معیار کے مطابق تفصیلی انداز میں تیار کی گئی ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button