
ایویان لے باں
صنعتی طور پر ترقی یافتہ سات بڑے ممالک کے گروپ جی سیون (G7) کا اہم سربراہی اجلاس ایک ایسے وقت میں شروع ہو رہا ہے جب امریکہ اور ایران کے درمیان مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کے خاتمے کے لیے ایک تاریخی امن معاہدے کا اعلان سامنے آیا ہے۔ عالمی مبصرین کے مطابق یہ اجلاس نہ صرف ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے اثرات کا جائزہ لے گا بلکہ یوکرین جنگ، عالمی معیشت، توانائی کی سلامتی اور مصنوعی ذہانت جیسے اہم موضوعات بھی زیر بحث آئیں گے۔
یہ سربراہی اجلاس فرانس کے مشہور سیاحتی مقام ایویان لے باں میں منعقد ہو رہا ہے، جہاں دنیا کی سات بڑی معیشتوں کے سربراہان عالمی چیلنجز پر غور و خوض کے لیے جمع ہوئے ہیں۔
ایران معاہدہ اجلاس کا مرکزی موضوع
امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ امن معاہدے نے عالمی سفارت کاری میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ معاہدے کے مطابق جنگ بندی، آبنائے ہرمز کو دوبارہ مکمل طور پر کھولنے اور ایران کے جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں اور علاقائی سلامتی سے متعلق آئندہ مذاکرات کے لیے ایک فریم ورک طے کیا گیا ہے۔
اجلاس میں شریک رہنما امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سے اس معاہدے کی تفصیلات جاننے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں، خصوصاً اس حوالے سے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مستقبل کے مذاکرات کس سمت جائیں گے اور معاہدے پر عمل درآمد کا طریقہ کار کیا ہوگا۔
ٹرمپ کی آمد، اتحادیوں کے سوالات
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی 80 ویں سالگرہ منانے کے بعد فرانس پہنچے ہیں۔ ان کی آمد ایسے وقت میں ہوئی ہے جب یورپی اتحادی ایران کے ساتھ طے پانے والے معاہدے کے بارے میں مزید وضاحت چاہتے ہیں۔
سفارتی ذرائع کے مطابق فرانس، برطانیہ، جرمنی اور اٹلی کے رہنما یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آبنائے ہرمز کو مستقل طور پر کھلا رکھنے، ایران کے جوہری پروگرام پر نگرانی اور خطے میں سلامتی کے معاملات پر واشنگٹن کی حکمت عملی کیا ہوگی۔
ایران جنگ پر اتحادیوں اور ٹرمپ کے درمیان اختلافات
جی سیون اجلاس کے آغاز سے قبل امریکی صدر اور یورپی اتحادیوں کے درمیان تعلقات میں نمایاں کشیدگی دیکھی گئی تھی۔
فرانس کے صدر ایمانوئل میکرون، برطانیہ کے وزیراعظم کیر اسٹارمر، جرمن چانسلر فریڈرک مرز اور اٹلی کی وزیراعظم جارجیا میلونی نے شکایت کی تھی کہ ایران کے خلاف جنگ شروع کرنے سے پہلے امریکہ نے اپنے قریبی اتحادیوں سے مشاورت نہیں کی۔
ذرائع کے مطابق اس معاملے پر شدید سفارتی اختلافات پیدا ہوئے اور صدر ٹرمپ نے بعض مواقع پر ان ممالک کے لیے یورپ میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد کم کرنے جیسے اقدامات کی دھمکی بھی دی تھی۔
یہ چاروں ممالک نیٹو اتحاد کے اہم ارکان ہیں، جس کی وجہ سے ان اختلافات کو خاص اہمیت دی جا رہی ہے۔
جی سیون اور مہمان ممالک
جی سیون میں دنیا کی سات بڑی صنعتی معیشتیں شامل ہیں:
- امریکہ
- فرانس
- برطانیہ
- جرمنی
- اٹلی
- جاپان
- کینیڈا
اس سال کے اجلاس میں متعدد اہم ممالک کو بطور مہمان مدعو کیا گیا ہے، جن میں:
- برازیل
- مصر
- بھارت
- کینیا
- جنوبی کوریا
- قطر
- شام
- یوکرین
- متحدہ عرب امارات
شامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق ان ممالک کی شرکت اجلاس کے عالمی اثرات کو مزید وسیع بنا رہی ہے۔
یوکرین جنگ بھی ایجنڈے پر نمایاں
اگرچہ ایران امریکہ معاہدہ عالمی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، لیکن یوکرین کی جنگ بھی اجلاس کا ایک اہم موضوع ہوگی۔
یوکرینی صدر Volodymyr Zelenskyy منگل کے روز اجلاس میں شریک ہوں گے۔
ان کی آمد ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب روس نے یوکرین پر حالیہ مہینوں کے سب سے شدید حملوں میں سے ایک کیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق:
- کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے۔
- درجنوں افراد زخمی ہوئے۔
- دارالحکومت کییف میں واقع ایک تاریخی گرجا گھر کو نقصان پہنچا۔
- کئی رہائشی عمارتیں تباہ ہوئیں۔
زیلنسکی کا جی سیون سے بڑا مطالبہ
صدر زیلنسکی نے اجلاس سے قبل جی سیون رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ روس پر مزید اقتصادی اور سفارتی دباؤ ڈالیں۔
انہوں نے کہا:
"یہ انتہائی اہم ہے کہ جی سیون ممالک اس صورتحال پر مؤثر ردعمل دیں۔”
یوکرینی قیادت کا مؤقف ہے کہ روس کو امن مذاکرات پر مجبور کرنے کے لیے مزید سخت پابندیوں اور عالمی دباؤ کی ضرورت ہے۔
روس کے خلاف نئی حکمت عملی پر غور
یورپی ممالک اور کینیڈا اجلاس کے دوران صدر ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ روس کے خلاف مزید سخت اقدامات ضروری ہیں۔
یورپی رہنماؤں کا خیال ہے کہ اگر روس پر دباؤ میں اضافہ نہ کیا گیا تو یوکرین میں جنگ مزید طویل ہو سکتی ہے۔
روس کا یوکرین پر فوجی حملہ اب اپنے پانچویں سال میں داخل ہو چکا ہے اور جنگ کے خاتمے کے امکانات اب بھی غیر واضح ہیں۔
ماکروں کا وسیع عالمی ایجنڈا
میزبان صدر ایمانوئل ماکروں اجلاس کو صرف سکیورٹی معاملات تک محدود نہیں رکھنا چاہتے۔
انہوں نے ایک وسیع ایجنڈا پیش کیا ہے جس میں:
- عالمی معاشی عدم توازن
- ڈیجیٹل معیشت
- مصنوعی ذہانت (AI)
- عالمی ضابطہ کاری
- موسمیاتی تبدیلی
- بین الاقوامی تجارت
جیسے اہم موضوعات شامل ہیں۔
ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت سے متعلق عالمی قوانین اور ضوابط کے حوالے سے بھی اہم پیش رفت متوقع ہے۔
ایران معاہدے کے علاقائی اثرات کا جائزہ
صدر ماکروں نے کہا ہے کہ اجلاس میں ایران معاہدے کے ممکنہ علاقائی اثرات کا بھی تفصیلی جائزہ لیا جائے گا۔
خصوصی طور پر:
- لبنان کی صورتحال
- آبنائے ہرمز کی سکیورٹی
- ایران کا بیلسٹک میزائل پروگرام
- خلیجی ممالک کی سلامتی
- توانائی کی عالمی سپلائی
جیسے معاملات پر غور کیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز کی بحالی کے لیے فرانس اور برطانیہ تیار
صدر ماکروں نے اپنے بیان میں انکشاف کیا کہ فرانس اور برطانیہ نے آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کو مکمل طور پر بحال کرنے کے لیے مشترکہ مشن کی تمام تیاریاں مکمل کر لی ہیں۔
ان کے مطابق یہ مشن:
- بحری راستوں کی نگرانی کرے گا۔
- تجارتی جہازوں کی حفاظت یقینی بنائے گا۔
- توانائی کی سپلائی میں رکاوٹوں کو روکے گا۔
- بین الاقوامی تجارت کو محفوظ بنائے گا۔
توانائی کی منڈیوں کو ریلیف کی امید
یورپی ممالک آبنائے ہرمز کو جلد از جلد مکمل طور پر کھلا دیکھنا چاہتے ہیں کیونکہ ایران جنگ کے دوران پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی توانائی منڈیوں کو شدید متاثر کیا تھا۔
جنگ کے نتیجے میں:
- خام تیل کی قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
- گیس کی عالمی منڈی متاثر ہوئی۔
- شپنگ لاگت میں اضافہ دیکھنے میں آیا۔
- عالمی مہنگائی کے خدشات بڑھے۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امن معاہدے پر کامیابی سے عمل درآمد ہو جاتا ہے تو عالمی منڈیوں میں استحکام واپس آ سکتا ہے۔
عالمی سیاست کے لیے فیصلہ کن اجلاس
سیاسی مبصرین کے مطابق موجودہ جی سیون اجلاس غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے کیونکہ دنیا بیک وقت مشرق وسطیٰ، یوکرین اور عالمی اقتصادی چیلنجز سے نمٹ رہی ہے۔
ایران امریکہ امن معاہدے کے اعلان نے اگرچہ عالمی سطح پر امید پیدا کی ہے، تاہم اس معاہدے کے عملی نتائج، یوکرین جنگ کے مستقبل اور عالمی معیشت کی سمت کے حوالے سے کئی اہم فیصلے آئندہ چند روز کے دوران سامنے آ سکتے ہیں۔
اسی لیے ایویان لے باں میں ہونے والا یہ اجلاس نہ صرف جی سیون ممالک بلکہ پوری دنیا کے لیے غیر معمولی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔



