کاروبار

مالی سال 2026-27 کا بجٹ معاشی استحکام اور سماجی ترقی کی جانب اہم پیش رفت ہے، رانا عبدالرحمن

کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا براہ راست تعلق اس کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً شاہراہوں، ریلوے نظام، بندرگاہوں اور مواصلاتی نیٹ ورک کی بہتری سے ہوتا ہے

قاسم بخاری رڈیو پاکستان سے
سینئر اکنامک اینڈ ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹ رانا عبدالرحمن نے کہا ہے کہ حکومت نے موجودہ معاشی چیلنجز اور محدود مالی وسائل کے باوجود مالی سال 2026-27 کے لیے ایک متوازن، ترقی پسند اور عوام دوست بجٹ پیش کیا ہے، جس میں سماجی تحفظ، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، سرمایہ کاری کے فروغ اور اقتصادی سرگرمیوں کے استحکام پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
ریڈیو پاکستان کے نمائندے قاسم بخاری کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں رانا عبدالرحمن نے وفاقی بجٹ کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیتے ہوئے کہا کہ حکومت نے معاشی نظم و ضبط برقرار رکھتے ہوئے عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں کو ترجیح دی ہے، جو آئندہ برسوں میں قومی معیشت کے استحکام اور پائیدار ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ غربت کے خاتمے اور کم آمدنی والے طبقے کو معاشی تحفظ فراہم کرنے کے لیے حکومت کے فلیگ شپ پروگرام **بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (BISP)** کے لیے 838 ارب روپے مختص کرنا ایک اہم اور قابل تحسین اقدام ہے۔ ان کے مطابق یہ رقم نہ صرف معاشرے کے کمزور طبقات کی مالی معاونت کو یقینی بنائے گی بلکہ سماجی تحفظ کے نظام کو مزید مضبوط بنانے میں بھی مددگار ثابت ہوگی۔
رانا عبدالرحمن نے کہا کہ حکومت کی جانب سے بی آئی ایس پی کی کوریج کو مزید وسعت دینے کا فیصلہ بھی انتہائی مثبت ہے۔ انہوں نے بتایا کہ کفالت پروگرام کو توسیع دے کر ایک کروڑ 20 لاکھ خاندانوں تک پہنچانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے، جس سے لاکھوں مستحق خاندانوں کو براہ راست مالی سہارا ملے گا۔ اسی طرح تعلیمی وظائف کے پروگرام کو مزید وسعت دی جا رہی ہے جس کے تحت تقریباً 92 لاکھ بچوں کو فائدہ پہنچے گا۔ ان کے مطابق یہ اقدامات نہ صرف غربت میں کمی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے بلکہ تعلیم کے فروغ اور انسانی وسائل کی ترقی میں بھی اہم کردار ادا کریں گے۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کا براہ راست تعلق اس کے بنیادی ڈھانچے، خصوصاً شاہراہوں، ریلوے نظام، بندرگاہوں اور مواصلاتی نیٹ ورک کی بہتری سے ہوتا ہے۔ اسی تناظر میں وفاقی حکومت کی جانب سے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (PSDP) 2026-27 کے تحت نقل و حمل کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 365 ارب روپے مختص کرنا خوش آئند پیش رفت ہے۔
رانا عبدالرحمن نے کہا کہ بہتر سڑکیں، جدید ریلوے نظام اور موثر لاجسٹکس نیٹ ورک ملکی تجارت، برآمدات اور صنعتی سرگرمیوں میں اضافے کا باعث بنتے ہیں۔ ان کے مطابق انفراسٹرکچر کی ترقی سے کاروباری لاگت میں کمی آئے گی، ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ ہوگا اور روزگار کے ہزاروں نئے مواقع پیدا ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں پر توجہ دینا اس بات کا ثبوت ہے کہ معاشی استحکام کے ساتھ ساتھ طویل المدتی ترقی کے اہداف کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا رہا۔ ان کے مطابق انفراسٹرکچر کے شعبے میں سرمایہ کاری نہ صرف اقتصادی سرگرمیوں کو فروغ دیتی ہے بلکہ ملک کے مختلف علاقوں کے درمیان رابطوں کو بھی بہتر بناتی ہے جس سے علاقائی ترقی کی رفتار میں اضافہ ہوتا ہے۔
کارپوریٹ سیکٹر اور سرمایہ کاری کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے رانا عبدالرحمن نے کہا کہ پاکستان کی معیشت میں بہتری کے آثار مختلف شعبوں میں نمایاں ہو رہے ہیں اور اس کا واضح اظہار پاکستان اسٹاک ایکسچینج کی کارکردگی میں بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ ایک سال کے دوران پاکستان اسٹاک ایکسچینج میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں ایک لاکھ 73 ہزار کا ریکارڈ اضافہ ہوا، جو سرمایہ کاروں کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اسٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاروں کی تعداد میں اضافہ اس بات کا اشارہ ہے کہ ملکی اور غیر ملکی سرمایہ کار پاکستان کی اقتصادی سمت اور پالیسیوں پر اعتماد کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر معاشی اصلاحات اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں کا تسلسل برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں سرمایہ کاری کے حجم میں مزید نمایاں اضافہ متوقع ہے۔
رانا عبدالرحمن نے اس بات پر زور دیا کہ پاکستان میں تجارت، صنعت اور سرمایہ کاری کے بے شمار مواقع موجود ہیں۔ زراعت، معدنیات، توانائی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور مینوفیکچرنگ سمیت مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی بڑی گنجائش موجود ہے، جس سے ملکی معیشت کو نئی رفتار مل سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے مثبت نتائج سامنے آ رہے ہیں اور کاروباری ماحول میں بہتری کے باعث سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ملک میں نئے سرمایہ کاروں کی دلچسپی بڑھ رہی ہے اور مستقبل میں اس رجحان کے مزید مضبوط ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔
سینئر اکنامک اینڈ ڈپلومیٹک کارسپانڈنٹ نے خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) کے کردار کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ یہ ادارہ ملک میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم کے طور پر ابھر کر سامنے آیا ہے۔ ان کے مطابق ایس آئی ایف سی نے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کے عمل کو آسان بنانے، بیوروکریٹک رکاوٹوں کو کم کرنے اور سرمایہ کاروں کو سہولیات فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایس آئی ایف سی کے ذریعے غیر ملکی سرمایہ کاروں کو ایک ون ونڈو سہولت فراہم کی جا رہی ہے جس سے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع مزید پرکشش بن رہے ہیں۔ خاص طور پر خلیجی ممالک، چین، وسطی ایشیائی ریاستوں اور دیگر دوست ممالک کی جانب سے مختلف شعبوں میں سرمایہ کاری کی دلچسپی ملک کے روشن معاشی مستقبل کی نشاندہی کرتی ہے۔
رانا عبدالرحمن نے اس امید کا اظہار کیا کہ اگر حکومت معاشی اصلاحات، مالیاتی نظم و ضبط اور سرمایہ کار دوست پالیسیوں پر مستقل مزاجی سے عمل جاری رکھتی ہے تو پاکستان نہ صرف معاشی استحکام حاصل کر سکے گا بلکہ آئندہ چند برسوں میں تیز رفتار اقتصادی ترقی کی راہ پر بھی گامزن ہو جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ مالی سال 2026-27 کا بجٹ اسی سمت میں ایک اہم اور مثبت قدم ہے جو عوامی فلاح، سرمایہ کاری کے فروغ اور قومی ترقی کے اہداف کے حصول میں معاون ثابت ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button