
گروپ آف سیون (جی 7) کے رہنما منگل کو یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی کے ساتھ مذاکرات کریں گے، جبکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ یوکرین میں چار سال سے زائد عرصے سے جاری جنگ کے حوالے سے شاید ہم کچھ کر سکیں۔
زیلنسکی فرانس کے شہر ایویان میں ہونے والے جی 7 سربراہی اجلاس کے دوران یوکرین سے متعلق ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کریں گے۔ اس کے بعد ایران کے معاملے پر ایک خصوصی نشست ہوگی، جس میں مصری صدر عبدالفتاح السیسی، قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی اور متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان بھی شریک ہوں گے۔
فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کی میزبانی میں جمع ہونے والے یورپی رہنما صدر ٹرمپ کو قائل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ ماسکو پر دباؤ ڈالیں تاکہ وہ کیف کی شرائط کے مطابق امن معاہدہ قبول کرے اور یوکرین کو روس کے سامنے رعایتیں نہ دینی پڑیں۔
یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے پیر کے روز جی 7 رہنماؤں سے مطالبہ کیا کہ وہ روسی حملوں کی حالیہ لہر کے جواب میں ”فیصلہ کن اور عملی” اقدامات کریں۔ ان حملوں میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے جبکہ کیف میں واقع ایک نمایاں گرجا گھر میں بھی آگ بھڑک اٹھی۔
زیلنسکی نے انکشاف کیا کہ انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوتن سے سربراہی اجلاس کے موقع پر ملاقات کی تجویز دی تھی، تاہم ان کے بقول ماسکو اس کے لیے ”تیار نہیں”’۔
دوسری جانب صدر ٹرمپ نے زیلنسکی اور پوتن کے ساتھ ہونے والی اپنی دو ٹیلیفونک بات چیت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا :دونوں آمادہ ہیں، اور شاید ہم کچھ کر سکیں”، تاہم انہوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔
وحشیانہ حملے
برطانوی وزیرِاعظم کیئر اسٹارمر نے اعلان کیا ہے کہ برطانیہ یوکرین کو اس کی جوہری تنصیبات چلانے کے لیے افزودہ یورینیم فراہم کرے گا، جبکہ روس پر نئی پابندیاں بھی عائد کی جائیں گی۔
انہوں نے یوکرین پر روسی حملوں کو "وحشیانہ” قرار دیتے ہوئے کہا کہ برطانیہ پوتن کی جنگ کی مالی معاونت کرنے والے وسائل کا گلا گھونٹنے اور آنے والی سردیوں میں یوکرین کی حمایت جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق میدانِ جنگ میں حالیہ کامیابیاں یوکرین کے حق میں جاتی دکھائی دے رہی ہیں اور مغربی ممالک پر زور دیا جا رہا ہے کہ وہ کیف کی حمایت جاری رکھیں۔
ادھر واشنگٹن کے اتحادی یہ جاننے کی کوشش کریں گے کہ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ کے خاتمے کے لیے ایران کے ساتھ ممکنہ معاہدے کے بارے میں صدر ٹرمپ کا مؤقف کیا ہے۔
ٹرمپ کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کے نتیجے میں جمعہ تک آبنائے ہرمز مکمل طور پر بحال ہو کر بحری آمدورفت کے لیے کھل جائے گی۔
تاہم امریکی صدر نے برطانیہ اور فرانس کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کی آزادی یقینی بنانے کے لیے مجوزہ فوجی مشن پر تحفظات کا اظہار کیا اور کہا کہ امریکا کو اس معاملے میں زیادہ مدد کی ضرورت نہیں۔
تین روزہ سربراہی اجلاس میں دنیا بھر کے متعدد رہنما شریک ہیں۔ فرانس اس موقع پر جی 7 کے دائرہ کار کو اس کے سات مستقل ارکان سے آگے بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے، جس کے تحت برازیل کے صدر لوئیز اِناسیو لولا دا سلوا اور بھارتی وزیرِاعظم نریندر مودی سمیت کئی عالمی رہنما اجلاس میں شرکت کر رہے ہیں۔



