

By Voice of Germany Urdu News Team
بھارت اور جرمنی کے درمیان اربوں ڈالر مالیت کے جدید آبدوزوں کے معاہدے نے عالمی دفاعی اور جغرافیائی سیاسی حلقوں کی توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔ تقریباً 8 ارب ڈالر مالیت کے اس دفاعی منصوبے کے تحت بھارت اپنی بحریہ کے لیے جدید جرمن آبدوزیں حاصل کرے گا، جبکہ ان کی تیاری بھارت میں ہی کی جائے گی۔ اس معاہدے کو بھارت کی دفاعی خود انحصاری کی پالیسی اور انڈو پیسیفک خطے میں جرمنی کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹیجک دلچسپی کا اہم مظہر قرار دیا جا رہا ہے۔
رواں موسم گرما میں معاہدے پر دستخط متوقع
اطلاعات کے مطابق جرمنی کی دفاعی کمپنی اور بھارتی شراکت دار اداروں کے درمیان معاہدے کو حتمی شکل دی جا رہی ہے، جبکہ جرمن وزیر دفاع بورس پسٹوریئس بھی اس منصوبے کی تصدیق کر چکے ہیں۔ توقع ہے کہ دونوں ممالک رواں موسم گرما میں باضابطہ معاہدے پر دستخط کریں گے۔
اس منصوبے کے تحت جدید جرمن ٹائپ 214 آبدوزوں کی ٹیکنالوجی بھارت منتقل کی جائے گی اور ممبئی میں بھارتی انجینئرز جرمن ماہرین کی نگرانی اور تربیت کے ساتھ ان آبدوزوں کی تیاری کریں گے۔
انڈو پیسیفک خطہ عالمی طاقتوں کی نئی مسابقت کا مرکز
دفاعی ماہرین کے مطابق انڈو پیسیفک خطہ اس وقت عالمی طاقتوں کے درمیان اسٹریٹیجک مقابلے کا سب سے اہم میدان بن چکا ہے۔ امریکہ، چین، بھارت، جاپان، آسٹریلیا اور یورپی ممالک اس خطے میں اپنے مفادات کے تحفظ اور اثر و رسوخ میں اضافے کے لیے سرگرم ہیں۔
بحری دفاعی صلاحیت، خاص طور پر آبدوزی جنگ، اس مقابلے میں مرکزی حیثیت اختیار کر چکی ہے کیونکہ جدید آبدوزیں نگرانی، انٹیلی جنس جمع کرنے، دشمن کی بحری نقل و حرکت پر نظر رکھنے اور جنگی کارروائیوں میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
بھارت کی بحری سلامتی کے چیلنجز
بھارت کے پاس 11 ہزار کلومیٹر سے زائد طویل ساحلی پٹی موجود ہے جبکہ اس کی 90 فیصد سے زیادہ بین الاقوامی تجارت سمندری راستوں کے ذریعے انجام پاتی ہے۔
بحر ہند میں واقع اہم آبی گزرگاہیں، جن میں آبنائے ملاکا، خلیج عدن اور مشرق وسطیٰ سے تیل کی ترسیل کے راستے شامل ہیں، بھارتی معیشت کے لیے انتہائی اہمیت رکھتے ہیں۔ ان راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ بھارت کی اقتصادی سرگرمیوں پر براہ راست اثر ڈال سکتی ہے۔
اسی تناظر میں بھارت اپنی بحریہ کو جدید خطوط پر استوار کرنے اور زیرِ آب جنگی صلاحیتوں کو مزید مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دے رہا ہے۔
چین کی بڑھتی ہوئی بحری طاقت بھارت کے لیے بڑا چیلنج
بھارتی دفاعی منصوبہ بندی کے پیچھے سب سے اہم عوامل میں چین کی تیزی سے بڑھتی ہوئی بحری قوت شامل ہے۔
چین اس وقت تقریباً 400 جنگی جہازوں کے ساتھ دنیا کی سب سے بڑی بحری طاقت بن چکا ہے۔ اگرچہ بیجنگ کی بنیادی توجہ تائیوان اور بحیرہ جنوبی چین پر مرکوز ہے، تاہم گزشتہ چند برسوں کے دوران بحر ہند میں بھی اس کی بحری موجودگی میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
چینی بحری جہازوں، آبدوزوں اور نگرانی کے پلیٹ فارمز کی بڑھتی ہوئی سرگرمیوں نے نئی دہلی کے دفاعی اداروں میں تشویش پیدا کی ہے، جس کے نتیجے میں بھارت اپنی بحری صلاحیتوں میں بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
پاکستان اور چین کا دفاعی تعاون بھی بھارتی تشویش کا سبب
بھارت کے لیے ایک اور اہم دفاعی چیلنج پاکستان اور چین کے درمیان بڑھتا ہوا دفاعی تعاون ہے۔
پاکستان چین کے ساتھ معاہدے کے تحت آٹھ جدید آبدوزیں حاصل کر رہا ہے۔ ان میں سے چار آبدوزیں چین میں جبکہ چار پاکستان میں چینی ٹیکنالوجی کی مدد سے تیار کی جا رہی ہیں۔
دفاعی ماہرین کے مطابق پاکستان کی آبدوزی قوت میں متوقع اضافہ بحر ہند میں طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے، جس کے پیش نظر بھارت اپنی زیرِ آب جنگی صلاحیتوں کو مزید جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
روس پر انحصار کم کرنے کی بھارتی کوشش
اگرچہ بھارت گزشتہ کئی دہائیوں سے روسی اسلحے اور فوجی سازوسامان کا بڑا خریدار رہا ہے، تاہم حالیہ برسوں میں نئی دہلی نے دفاعی سپلائرز کے دائرے کو وسعت دینا شروع کر دی ہے۔
1960 کی دہائی سے بھارتی مسلح افواج کی ضروریات بڑی حد تک سوویت یونین اور بعد ازاں روس پوری کرتا رہا ہے، لیکن اب فرانس، امریکہ، اسرائیل اور دیگر مغربی ممالک بھارت کے اہم دفاعی شراکت دار بن چکے ہیں۔
جرمنی بھی اسی بدلتے ہوئے دفاعی منظرنامے میں بھارتی منڈی میں اپنی جگہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔
جرمنی کے لیے معاہدے کی اسٹریٹیجک اہمیت
ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ صرف ایک تجارتی منصوبہ نہیں بلکہ اس کے پس منظر میں وسیع جغرافیائی سیاسی مقاصد بھی کارفرما ہیں۔
روس اور یوکرین جنگ کے بعد یورپی ممالک روسی دفاعی اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔ جرمنی کے لیے بھارت کو جدید دفاعی ٹیکنالوجی فراہم کرنا ایک ایسا موقع ہے جس کے ذریعے وہ ایشیا میں اپنی موجودگی مضبوط کر سکتا ہے اور روسی دفاعی مصنوعات کے متبادل فراہم کر سکتا ہے۔
اس معاہدے سے جرمنی کو نہ صرف اربوں ڈالر کے معاشی فوائد حاصل ہوں گے بلکہ اسے انڈو پیسیفک خطے کی سلامتی اور اسٹریٹیجک معاملات میں زیادہ فعال کردار ادا کرنے کا موقع بھی ملے گا۔
دفاعی ٹیکنالوجی کی منتقلی معاہدے کا اہم پہلو
دفاعی تجزیہ کاروں کے مطابق اس منصوبے کا سب سے اہم پہلو جدید آبدوزی ٹیکنالوجی کی منتقلی ہے۔
عالمی سطح پر آبدوزوں کی تیاری اور ان سے متعلق حساس ٹیکنالوجی کو انتہائی محدود اور محفوظ شعبہ تصور کیا جاتا ہے۔ ایسے میں جرمنی کی جانب سے بھارت کو تکنیکی مہارت، تربیت اور مقامی تیاری کی سہولت فراہم کرنا غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔
بھارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ اس سے ملک کے دفاعی صنعتی شعبے کو فروغ ملے گا، ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہوں گی اور "میک اِن انڈیا” پروگرام کو مزید تقویت ملے گی۔
بھارت کی غیر جانبدار خارجہ پالیسی برقرار رہے گی
اگرچہ بھارت مغربی ممالک کے ساتھ دفاعی تعاون میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، تاہم ماہرین کے مطابق اس معاہدے کو روس سے مکمل دوری یا مغربی اتحاد میں شمولیت کے طور پر نہیں دیکھا جانا چاہیے۔
نئی دہلی بدستور "اسٹریٹیجک خودمختاری” کی پالیسی پر کاربند ہے، جس کے تحت وہ مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ متوازن تعلقات برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جرمن آبدوزوں کی خریداری بھارت کو جدید دفاعی صلاحیتیں فراہم کرے گی، لیکن اس سے بھارت جرمنی، یورپی یونین یا نیٹو کا خصوصی اتحادی نہیں بن جائے گا۔
خطے میں طاقت کے توازن پر ممکنہ اثرات
دفاعی مبصرین کے مطابق بھارت اور جرمنی کے درمیان یہ معاہدہ نہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گا بلکہ بحر ہند اور انڈو پیسیفک خطے میں طاقت کے توازن پر بھی دور رس اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
ایک ایسے وقت میں جب چین اپنی بحری قوت میں مسلسل اضافہ کر رہا ہے، پاکستان اپنی آبدوزی صلاحیتوں کو جدید بنا رہا ہے اور عالمی طاقتیں بحر ہند میں اپنے اثر و رسوخ کے لیے سرگرم ہیں، بھارت کا یہ اقدام خطے میں بحری مسابقت کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کرتا ہے۔
ماہرین کے مطابق آنے والے برسوں میں انڈو پیسیفک خطہ عالمی سیاست، تجارت اور سلامتی کے حوالے سے مزید اہمیت اختیار کرے گا، اور بھارت-جرمنی آبدوز معاہدہ اسی بدلتے ہوئے عالمی منظرنامے کا ایک نمایاں حصہ بن سکتا ہے۔


