بین الاقوامیاہم خبریں

آٹھ سال بعد اوباما کی وارننگ حقیقت بن گئی،کیا جنگ کے بعد تہران مضبوط اور واشنگٹن کمزور ہو گیا؟ رپورٹ

، ماہرین نے نئے معاہدے کو امریکہ اور اسرائیل کی سٹریٹجک ناکامی قرار دے دیا

رپورٹ سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

سابق امریکی صدر باراک اوباما نے مئی 2018 میں اس وقت خبردار کیا تھا جب صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکہ کو ایران کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے الگ کرنے کا اعلان کیا تھا کہ یہ فیصلہ "ایران کی جانب سے کسی خلاف ورزی کے بغیر ایک سنگین غلطی” ثابت ہوگا۔ اوباما نے اس وقت یہ پیش گوئی بھی کی تھی کہ امریکہ بالآخر "جوہری ہتھیاروں سے لیس ایران یا مشرق وسطیٰ میں ایک اور جنگ” کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہو سکتا ہے۔

آٹھ برس بعد مشرق وسطیٰ ایک ایسی جنگ کا مشاہدہ کر چکا ہے جس نے نہ صرف خطے کی سیاسی و عسکری صورتحال کو بدل کر رکھ دیا بلکہ عالمی طاقتوں کے توازن پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔ امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ فوجی آپریشن کے بعد شروع ہونے والی جنگ اگرچہ فی الحال رک چکی ہے، لیکن اس کے نتائج اور اثرات پر بحث تاحال جاری ہے۔

جمعرات کو امریکہ اور ایران کے درمیان 1050 الفاظ پر مشتمل مفاہمتی یادداشت (MoU) منظر عام پر آنے کے بعد بین الاقوامی تجزیہ کاروں اور سفارتی ماہرین کی ایک بڑی تعداد نے اسے واشنگٹن اور تل ابیب کے لیے سٹریٹجک ناکامی جبکہ ایران کے لیے ایک اہم سفارتی اور سیاسی کامیابی قرار دیا ہے۔


ماہرین کا تجزیہ: ’’یہ معاہدہ ایران کے علاوہ سب کے لیے نقصان دہ ہے‘‘

برطانیہ کے سابق سفیر سر جان جینکنز نے معاہدے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ بظاہر یہ ایران کے علاوہ تقریباً تمام فریقوں کے لیے ایک ناقص معاہدہ دکھائی دیتا ہے۔

ان کے مطابق خلیجی ممالک کے لیے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ اگر امریکہ ان کے بنیادی سلامتی مفادات کا تحفظ کرنے میں ناکام رہتا ہے تو پھر خطے کے مستقبل کے سکیورٹی انتظامات کس بنیاد پر استوار ہوں گے۔

اسی طرح برطانیہ کے سکول آف اورینٹل اینڈ افریقن سٹڈیز (SOAS) کے پروفیسر ارشین ادیب مقدم نے اس معاہدے کو صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو دونوں کی بڑی سٹریٹجک شکست قرار دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ جنگ کے آغاز میں جن مقاصد کا اعلان کیا گیا تھا، ان میں سے کوئی بھی حاصل نہیں کیا جا سکا۔ ان کے مطابق ایران نہ صرف اپنی سیاسی بقا برقرار رکھنے میں کامیاب رہا بلکہ لبنان اور فلسطین میں اس کا اثر و رسوخ پہلے سے زیادہ مضبوط ہو گیا ہے۔


سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی محتاط حمایت

اگرچہ جنگ کے دوران سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایرانی حملوں کے اثرات سے متاثر ہوئے، تاہم دونوں ممالک نے مفاہمتی معاہدے کا خیر مقدم کیا ہے۔

سعودی کابینہ نے اپنے بیان میں امید ظاہر کی کہ یہ معاہدہ خطے میں ایک ایسے پائیدار امن کی بنیاد بنے گا جو علاقائی اور عالمی سلامتی کو مضبوط بنانے کے ساتھ ساتھ تمام ممالک کے جائز سلامتی مفادات کا احترام کرے گا۔

متحدہ عرب امارات نے بھی مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کو خطے کے مسائل کا واحد مؤثر حل قرار دیا۔


ایران کا نیا علاقائی سکیورٹی وژن

سعودی عرب میں ایران کے سفیر علی رضا عنایتی نے اس جنگ کو مشرق وسطیٰ کے پرانے سکیورٹی نظام کی ناکامی کا ثبوت قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ خطے میں ایک نیا اجتماعی سلامتی کا نظام تشکیل دیا جائے جو بیرونی مداخلت کے بجائے علاقائی تعاون، سیاسی حل، اقتصادی شراکت داری اور باہمی احترام پر مبنی ہو۔

ان کے مطابق ایران اپنے ہمسایہ ممالک بالخصوص سعودی عرب کے ساتھ مل کر ایک مستحکم، محفوظ اور خوشحال مستقبل کی تعمیر کے لیے تیار ہے۔


ایران کو 300 ارب ڈالر کے اقتصادی منصوبے کا فائدہ

معاہدے کی ایک اہم شق کے مطابق امریکہ خلیجی ممالک کو جنگ کے دوران ہونے والے نقصانات کی تلافی کا پابند نہیں ہوگا، تاہم واشنگٹن ایران کی تعمیر نو اور اقتصادی ترقی کے لیے کم از کم 300 ارب ڈالر کے سرمایہ کاری پروگرام پر علاقائی شراکت داروں کے ساتھ تعاون کرے گا۔

معاہدے کے تحت امریکی محکمہ خزانہ ایران کے تیل اور پیٹرولیم مصنوعات کی عالمی منڈیوں تک رسائی کے لیے پابندیوں میں نرمی کرے گا۔

اس کے علاوہ ایران کے منجمد اثاثوں اور بیرون ملک روکے گئے مالی وسائل تک رسائی بھی بحال کی جائے گی، جس سے ایرانی معیشت کو نمایاں فائدہ پہنچنے کی توقع ہے۔


34 ممالک کی حمایت، لیکن سوالات برقرار

فرانس، جرمنی، اٹلی اور برطانیہ سمیت 34 ممالک نے اس معاہدے کو سفارت کاری کی کامیابی قرار دیا ہے۔

تاہم متعدد ماہرین کا خیال ہے کہ یہ دراصل ایک ایسی مہنگی جنگ کے بعد حاصل ہونے والا نتیجہ ہے جس نے خطے کو شدید نقصان پہنچایا لیکن بالآخر فریقین کو تقریباً اسی مقام پر واپس لا کھڑا کیا جہاں وہ جنگ سے قبل موجود تھے۔

یونیورسٹی کالج لندن کے پروفیسر کرسچین ایمری کے مطابق صدر ٹرمپ اپنے کسی بھی جنگی مقصد کو حاصل نہیں کر سکے۔

ان کے مطابق ایران کی حکومت، جو جنگ سے پہلے اندرونی سیاسی اور معاشی دباؤ کا سامنا کر رہی تھی، اب پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط اور مستحکم محسوس کر رہی ہے۔


امریکہ اور اسرائیل کے بنیادی مطالبات کیوں غائب ہو گئے؟

جنگ سے قبل امریکہ اور اسرائیل کے دو بنیادی مطالبات تھے:

  1. ایران اپنے علاقائی اتحادی گروہوں کی حمایت ترک کرے۔
  2. ایران اپنے بیلسٹک میزائل پروگرام پر سخت بین الاقوامی پابندیاں قبول کرے۔

تاہم نئی مفاہمتی یادداشت میں ان دونوں نکات کا کوئی واضح ذکر موجود نہیں۔

کیلیفورنیا اسٹیٹ یونیورسٹی کے پروفیسر ابراہیم المراشی کے مطابق یہ حقیقت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ جنگ اپنے اصل سیاسی مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہی۔

ان کے بقول اس تنازع نے ثابت کر دیا ہے کہ ایران خطے میں عدم استحکام پیدا کر کے دنیا کی طاقتور ترین فوجی قوتوں کے منصوبوں کو چیلنج کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔


آبنائے ہرمز: جنگ کا اصل میدان

معاہدے کے تحت امریکہ ایران پر عائد بحری ناکہ بندی ختم کرے گا اور حتمی معاہدے کے 30 روز بعد خطے میں اپنی فوجی موجودگی کم یا ختم کرنا شروع کرے گا۔

اس کے بدلے ایران صرف یہ ضمانت دیتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی جہاز رانی بحال رہے گی۔

تاہم معاہدے میں یہ انتظام صرف 60 دن کے لیے واضح کیا گیا ہے، جس کے بعد مستقبل کے انتظامات پر ایران اور عمان کے درمیان مشاورت ہوگی۔

سر جان جینکنز کے مطابق اگر ایران آبنائے ہرمز پر زیادہ عملی اثر و رسوخ حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتا ہے تو یہ مستقبل میں اس کے لیے ایک طاقتور سیاسی اور اقتصادی ہتھیار بن سکتا ہے۔


جوہری پروگرام: کیا سب کچھ دوبارہ وہیں پہنچ گیا؟

2018 میں صدر ٹرمپ نے JCPOA کو "یک طرفہ اور خوفناک معاہدہ” قرار دے کر ختم کر دیا تھا۔

تاہم موجودہ مفاہمتی یادداشت کے تحت امریکہ تقریباً تمام اقتصادی پابندیاں ختم کرنے پر آمادہ ہے جبکہ ایران صرف یہ عہد کرتا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار تیار یا حاصل نہیں کرے گا۔

تجزیہ کاروں کے مطابق یہ صورتحال بڑی حد تک اسی فریم ورک سے ملتی جلتی ہے جو پہلے JCPOA کے تحت موجود تھا۔

اگرچہ جون 2025 میں امریکی حکام نے دعویٰ کیا تھا کہ ایران کی جوہری صلاحیت تباہ کر دی گئی ہے، لیکن نئی یادداشت اس بات کا اشارہ دیتی ہے کہ ایران کا جوہری پروگرام مکمل طور پر ختم نہیں ہوا۔

معاہدے کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کے ذخائر بدستور موجود رہیں گے جبکہ دونوں ممالک ان ذخائر کے مستقبل کے بارے میں مزید مذاکرات کریں گے۔

فی الحال ایران اپنے جوہری پروگرام کی موجودہ حیثیت برقرار رکھے گا جبکہ امریکہ نئی پابندیاں عائد نہیں کرے گا اور خطے میں اضافی فوجی دستے بھی تعینات نہیں کرے گا۔


مستقبل کیا ہوگا؟

اگرچہ جنگ رک چکی ہے اور معاہدے پر دستخط ہو چکے ہیں، لیکن مشرق وسطیٰ میں طاقت کے توازن، آبنائے ہرمز کی سلامتی، ایران کے جوہری پروگرام اور امریکی اثر و رسوخ کے مستقبل کے حوالے سے کئی اہم سوالات ابھی باقی ہیں۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ معاہدہ صرف ایک جنگ کے خاتمے کا اعلان نہیں بلکہ مشرق وسطیٰ میں ایک نئے جغرافیائی و سیاسی دور کے آغاز کی علامت بھی ثابت ہو سکتا ہے، جہاں علاقائی طاقتیں اپنی سلامتی اور ترقی کے لیے نئے اتحاد اور نئے سکیورٹی ڈھانچے تشکیل دینے کی کوشش کریں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button