

By Voice of Germany Urdu News Team
بنوں: خیبر پختونخوا کے ضلع بنوں میں سڑک کنارے نصب دیسی ساختہ بموں کے دو پے در پے دھماکوں میں کم از کم سات افراد جاں بحق جبکہ متعدد زخمی ہو گئے۔ افسوسناک واقعہ ایسے وقت پیش آیا ہے جب صوبے کے جنوبی اضلاع میں دہشت گردی اور سکیورٹی خدشات کے حوالے سے تشویش میں مسلسل اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق پہلا دھماکہ ایک نجی پک اپ گاڑی کو نشانہ بنا کر کیا گیا، جس میں مقامی مسافر سوار تھے۔ دھماکے کے نتیجے میں گاڑی کو شدید نقصان پہنچا اور متعدد افراد موقع پر ہی زخمی ہو گئے۔
زخمیوں کو لے جانے والی گاڑی پر دوسرا حملہ
ضلع بنوں کے پولیس افسر یاسر آفریدی نے بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ پہلا دھماکہ ریموٹ کنٹرول دیسی ساختہ بم (آئی ای ڈی) کے ذریعے کیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ ابتدائی دھماکے کے بعد زخمی افراد کو فوری طبی امداد کے لیے ہسپتال منتقل کیا جا رہا تھا کہ اسی دوران راستے میں ایک دوسرا بم بھی دھماکے سے پھٹ گیا۔

دوسرے دھماکے نے امدادی کارروائیوں کو شدید متاثر کیا اور زخمیوں کو لے جانے والی گاڑی بھی اس کی زد میں آ گئی، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد میں اضافہ ہوا۔
پولیس کے مطابق دونوں دھماکوں میں مجموعی طور پر کم از کم سات افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے جن میں سے بعض کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔
جاں بحق افراد میں عام شہری شامل
مقامی ذرائع کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں زیادہ تر عام شہری شامل ہیں جو روزمرہ کے معمولات کے سلسلے میں سفر کر رہے تھے۔
ریسکیو ٹیموں اور مقامی افراد نے دھماکوں کے فوراً بعد امدادی کارروائیاں شروع کر دیں جبکہ زخمیوں کو بنوں کے مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا۔
ہسپتال انتظامیہ کے مطابق زخمیوں میں بعض افراد کے جسم کے مختلف حصوں پر گہرے زخم آئے ہیں جنہیں ہنگامی طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔
کسی گروپ نے ذمہ داری قبول نہیں کی
واقعے کے فوری بعد کسی بھی تنظیم یا گروہ نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی۔
تاہم سکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ بنوں اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کالعدم تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور دیگر مسلح گروہ ماضی میں بھی اس نوعیت کی کارروائیوں میں ملوث رہے ہیں۔

حکام کے مطابق حملے کی نوعیت اور استعمال ہونے والے دھماکہ خیز مواد کے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں تاکہ ذمہ دار عناصر کی نشاندہی کی جا سکے۔
سکیورٹی فورسز کا سرچ آپریشن
دھماکوں کے بعد سکیورٹی فورسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور سرچ آپریشن شروع کر دیا۔
بم ڈسپوزل اسکواڈ کی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جبکہ قریبی علاقوں میں مشتبہ افراد کی تلاش کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
حکام کا کہنا ہے کہ حملہ آوروں اور ان کے سہولت کاروں کو جلد قانون کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
وزیراعظم شہباز شریف کی شدید مذمت
وزیراعظم شہباز شریف نے بنوں دھماکوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قیمتی انسانی جانوں کے ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔
وزیراعظم نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے کی ہدایت کی۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا:”دہشت گردی کے ناسور کے خاتمے کے لیے حکومت پوری طرح پرعزم ہے اور اس بزدلانہ حملے میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔”
وزیراعظم نے سکیورٹی اداروں کی قربانیوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ ملک سے دہشت گردی کے مکمل خاتمے تک کارروائیاں جاری رہیں گی۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان بڑھتی کشیدگی
یہ حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب پاکستان اور افغانستان کے درمیان تعلقات شدید تناؤ کا شکار ہیں۔
پاکستان مسلسل یہ مؤقف اختیار کرتا رہا ہے کہ بعض دہشت گرد گروہ افغان سرزمین استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں حملے کرتے ہیں۔ اسلام آباد کا کہنا ہے کہ سرحد پار موجود دہشت گرد پناہ گاہیں ملک کے امن و استحکام کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
دوسری جانب کابل میں قائم طالبان حکومت پاکستان کے ان الزامات کو بارہا مسترد کر چکی ہے اور اس بات سے انکار کرتی رہی ہے کہ افغان سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال ہو رہی ہے۔
سرحدی صورتحال اور تجارتی سرگرمیاں متاثر
دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان حالیہ مہینوں میں کشیدگی میں مسلسل اضافہ دیکھنے میں آیا ہے جس کے نتیجے میں سرحدی جھڑپیں بھی ہوئیں۔
بعض مواقع پر پاکستان کی جانب سے افغانستان کے اندر فضائی کارروائیاں بھی کی گئیں جن کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے۔

رواں ماہ سرحدی علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کے دوران کم از کم 12 افراد کے ہلاک ہونے کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں۔
سکیورٹی صورتحال خراب ہونے کے باعث اکتوبر سے دونوں ممالک کے درمیان سرحدی آمدورفت بڑی حد تک محدود ہے جبکہ تجارتی سرگرمیاں بھی شدید متاثر ہوئی ہیں۔
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ
سکیورٹی ماہرین کے مطابق خیبر پختونخوا خصوصاً بنوں، شمالی وزیرستان، جنوبی وزیرستان، لکی مروت اور ڈیرہ اسماعیل خان کے اضلاع میں حالیہ مہینوں کے دوران دہشت گردی کے واقعات میں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایسے حملوں کا مقصد خوف و ہراس پھیلانا اور ریاستی اداروں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کو نشانہ بنانا ہے۔
بنوں میں ہونے والے حالیہ دھماکوں نے ایک بار پھر صوبے کی سکیورٹی صورتحال اور دہشت گردی کے خطرات کے حوالے سے سنجیدہ سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ عوامی حلقوں نے حکومت اور سکیورٹی اداروں سے دہشت گرد عناصر کے خلاف مزید مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔



