
By Voice Of Germany Urdu News Team
پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور چیف آف آرمی اسٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے اہم تکنیکی سطح کے مذاکرات میں شرکت کے لیے سوئٹزرلینڈ روانہ ہو گئے ہیں۔ یہ مذاکرات 21 جون 2026 کو سوئٹزرلینڈ کے تاریخی شہر برگن سٹاک میں منعقد ہو رہے ہیں اور انہیں مشرق وسطیٰ میں حالیہ جنگ کے بعد امن عمل کی کامیابی کے لیے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
وزیراعظم آفس کی جانب سے ہفتہ اور اتوار کی درمیانی شب جاری بیان کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر اسلام آباد مفاہمتی یادداشت (Islamabad Memorandum of Understanding) پر دستخطوں کے بعد شروع ہونے والے سفارتی عمل کے تسلسل میں مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
حکومتی ذرائع کے مطابق یہ مذاکرات امریکہ اور ایران کے درمیان طے پانے والے ابتدائی سیاسی اتفاق رائے کو عملی شکل دینے، متنازع نکات کے حل اور آئندہ جامع معاہدے کی بنیاد رکھنے کے لیے منعقد کیے جا رہے ہیں۔
اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے بعد اہم پیش رفت
پاکستانی دفتر خارجہ کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخطوں کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ دونوں ممالک کے تکنیکی ماہرین، سفارتی نمائندے اور متعلقہ حکام ایک میز پر بیٹھ کر معاہدے کی تفصیلات پر تبادلہ خیال کریں گے۔
اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ امریکہ اور ایران کے وفود براہ راست مذاکرات میں شریک ہوں گے جبکہ پاکستان اور قطر ثالثی اور سہولت کاری کا کردار ادا کریں گے۔
پاکستان نے واضح کیا تھا کہ وہ بطور ثالث مذاکراتی عمل کو آگے بڑھانے، اعتماد سازی پیدا کرنے اور معاہدے پر عمل درآمد کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
سفارتی حلقوں کے مطابق اسلام آباد حالیہ مہینوں میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان رابطوں کے فروغ میں ایک کلیدی کردار ادا کرتا رہا ہے، جبکہ قطر نے بھی پس پردہ سفارت کاری کے ذریعے فریقین کو قریب لانے میں اہم حصہ ڈالا۔
مذاکرات شروع ہونے سے پہلے ہی غیر یقینی صورتحال
اگرچہ سوئٹزرلینڈ میں مذاکرات کے انعقاد کو ایک مثبت پیش رفت قرار دیا جا رہا تھا، تاہم مذاکرات کے آغاز سے قبل ہی کئی ایسے واقعات رونما ہو گئے ہیں جنہوں نے اس عمل کی کامیابی پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
سب سے اہم پیش رفت ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کو دوبارہ بند کرنے کا اعلان ہے، جس نے عالمی سفارتی حلقوں اور توانائی کی منڈیوں میں تشویش پیدا کر دی ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق ایران کے اس فیصلے نے نہ صرف امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کی فضا کو متاثر کیا ہے بلکہ مذاکراتی عمل کی رفتار بھی سست پڑ سکتی ہے۔
جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کے بعد ایران کا سخت ردعمل
خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ایران کی مشترکہ عسکری کمان نے اعلان کیا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بحری آمدورفت کے لیے بند کر دیا گیا ہے۔
ایرانی حکام نے اس اقدام کی وجہ جنوبی لبنان میں اسرائیلی حملوں کو قرار دیا ہے، جو ان کے مطابق جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں۔
ایرانی عسکری بیان میں امریکہ پر بھی "بد نیتی” اور "معاہدے کی واضح خلاف ورزی” کا الزام عائد کیا گیا۔
سرکاری ٹیلی ویژن پر نشر کیے گئے بیان میں کہا گیا کہ اگر اسرائیلی کارروائیاں جاری رہیں اور معاہدے کی شرائط پر عمل درآمد نہ ہوا تو ایران مزید اقدامات کرنے کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آبنائے ہرمز کی بندش خطے میں کشیدگی کے ایک نئے مرحلے کی نشاندہی کر سکتی ہے کیونکہ یہ آبی گزرگاہ عالمی تیل تجارت کی اہم ترین شہ رگ تصور کی جاتی ہے۔
ایرانی مذاکراتی وفد کی سوئٹزرلینڈ روانگی
آبنائے ہرمز کی بندش کے اعلان کے کچھ ہی دیر بعد ایرانی سرکاری نشریاتی ادارے نے اطلاع دی کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم سوئٹزرلینڈ روانہ ہونے والی ہے۔
یہ وفد اصل میں جمعہ کو روانہ ہونا تھا، تاہم بدلتی ہوئی علاقائی صورتحال کے باعث اس سفر میں تاخیر ہوئی۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ نے محتاط مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ حالات میں مذاکرات سے کسی بڑی پیش رفت کی توقع نہیں کی جا سکتی۔
ایرانی حکام کے مطابق اعتماد سازی کے لیے ضروری ہے کہ معاہدے کی ابتدائی شقوں پر مکمل عمل درآمد کیا جائے اور جنگ بندی کی خلاف ورزیاں روکی جائیں۔
محسن نقوی کا ہنگامی دورۂ تہران
ادھر مذاکراتی عمل کو بچانے اور فریقین کے درمیان رابطوں کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی تہران پہنچ گئے ہیں۔
پاکستانی ذرائع کے مطابق محسن نقوی نے ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی اور وزیر خارجہ عباس عراقچی سے الگ الگ ملاقاتیں کی ہیں۔
ملاقاتوں میں امریکہ۔ایران مذاکرات، آبنائے ہرمز کی صورتحال، اسرائیل اور لبنان کے درمیان جاری کشیدگی اور خطے میں امن کے امکانات پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔
سفارتی ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان اس وقت مذاکراتی عمل کے سب سے اہم ثالثوں میں شمار ہو رہا ہے اور اسلام آباد دونوں فریقوں کے درمیان رابطے برقرار رکھنے کے لیے متحرک کردار ادا کر رہا ہے۔
وزیراعظم اور آرمی چیف کی شرکت کیوں اہم ہے؟
سیاسی اور سفارتی مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی براہ راست شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان اس مذاکراتی عمل کو غیر معمولی اہمیت دے رہا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان نہ صرف ایک ثالث کے طور پر کردار ادا کر رہا ہے بلکہ خطے میں امن و استحکام کے قیام کو اپنی قومی اور اقتصادی ترجیحات سے بھی جوڑ کر دیکھ رہا ہے۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر کی موجودگی کو علاقائی سلامتی، دفاعی امور اور سکیورٹی ضمانتوں سے متعلق ممکنہ مشاورت کے تناظر میں بھی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔
عالمی برادری کی نظریں برگن سٹاک پر
سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن سٹاک میں ہونے والے یہ مذاکرات اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن چکے ہیں۔
عالمی طاقتیں، خلیجی ممالک، یورپی یونین اور اقوام متحدہ سمیت متعدد بین الاقوامی ادارے اس عمل کو مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کے لیے ایک اہم موقع قرار دے رہے ہیں۔
تاہم آبنائے ہرمز کی بندش، جنوبی لبنان میں جاری کشیدگی اور فریقین کے درمیان بڑھتے ہوئے عدم اعتماد نے مذاکراتی عمل کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق آئندہ چند گھنٹے نہ صرف امریکہ اور ایران کے تعلقات بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کے مستقبل کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر برگن سٹاک مذاکرات کامیاب رہتے ہیں تو یہ خطے میں ایک نئے سفارتی دور کا آغاز ہو سکتا ہے، جبکہ ناکامی کی صورت میں کشیدگی ایک بار پھر خطرناک سطح تک پہنچنے کا خدشہ موجود ہے۔




