
وہ آفتاب کہ جو گم ہو گیا اندھیروں میں……ناصف اعوان
عوام سے کوئی ہمدردی نہیں وہ انہی ہر وقت پریشان دیکھنا چاہتے ہیں لہذا وہ اس سے متعلق قوانین بناتے رہتے ہیں
اس وقت دو جہاں دیدہ و کہنہ مشق سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے جو مل کر ملکی نظم و نسق چلا رہی ہیں اور انہیں اقتدار کے تخت پر براجمان ہوئے دو برس ہو گئے ہیں۔ اگرچہ پی پی پی حکومت میں شامل نہ ہونے کا بھی کہتی رہتی ہے مگر یہ درست نہیں اگر یہ شامل نہیں ہوتی تو حکومت کا وجود ہی باقی نہیں رہتا در اصل وہ دیرینہ و غیر دیرینہ عوامی مسائل نہ حل ہونے کی بنا پر خود کو ذمہ دار نہیں قرار دلوانا چاہتی لہذا وہ کہہ دیتی ہے کہ وہ حکومت میں نہیں ہے جبکہ سب کو معلوم ہے اور اچھی طرح سے معلوم ہے کہ وہ دو صوبوں میں وزارت اعلیٰ کی کرسی پر بیٹھی ہوئی ہے ۔ دوسروں میں گورنری کر رہی ہے صدر بھی اس کا اپنا ہے اور اب جب اسے مرکز میں اہم ترین وزارتیں ملنے والی ہیں تو وہ لب کشائی نہیں کر سکے گی۔
بہرحال تسلیم کہ یہ سیاسی جماعتیں ملک کے بڑے مسائل کو حل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں
جن میں معیشت کا مسلہ سر فہرست ہے ۔ معاشی مسلہ اس قدر الجھ چکا ہے اور گمبھیر شکل اختیار کر گیا ہے کہ اب صوبوں نے ترقیاتی فنڈز میں سےمرکز کو رقوم دی ہیں تاکہ امور مملکت چلتے رہیں مگر یہ کوئی حل نہیں اس طرح تو مشکلات ختم نہیں ہوں گی بلکہ ان میں اور اضافہ ہو گا کیونکہ حکومت فنڈز کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ٹیکسوں کی بھرمار کر دے گی بلکہ کر رہی ہے اس بجٹ میں بھی اس نے کوئی کسر نہیں چھوڑی اُدھر صوبائی حکومتیں بھی دھڑا دھڑ نئے نئے ٹیکس لگا رہی ہیں۔ اب ذرا دیکھیے کہ واش روموں پر بھی ٹیکس لگا دیا گیا ہے یعنی جو مشیر حضرات مشورہ دیتے ہیں کہ فلاں مد میں ٹیکس لگانے سے اتنے پیسوں کی وصولی ہو گی تو حکومت فوراً اس پر عمل درآمد کر دیتی ہے یہ نہیں دیکھتی کہ غریب عوام تو پہلے ہی ٹیکسوں کے بوجھ تلے ہانپ رہے ہیں اوپر سے ان پر مزید بوجھ لاد دیا جاتا ہے ۔ کوئی کیا کرے۔ ہونا تو یہ چاہیے کہ ملک میں بڑے بڑے سرمایہ کار تشریف لائیں نئی انڈسٹری لگے پرانی کو توانائی کم قیمت پر دی جائے۔ کسانوں کی اجناس کو برآمد کیا جائے تاکہ ملک اور کسانوں کو فائدہ پہنچے۔ کوئی سبیل ایسی نظر نہیں آرہی کہ جو ہمارے قومی سرمائے میں اضافہ کر سکے حیرت اور افسوس ہمیں اس بات سے بھی ہے کہ اہل اختیار یہ جانتے ہوئے بھی کہ ملک کو معاشی بحران کا سامنا ہے اپنی شاہانہ زندگی میں کمی نہیں لا رہے وہ بے دریغ اربوں کھربوں خرچ کر رہے ہیں۔ انہیں عوام سے کوئی ہمدردی نہیں وہ انہی ہر وقت پریشان دیکھنا چاہتے ہیں لہذا وہ اس سے متعلق قوانین بناتے رہتے ہیں ۔ ایک نیا قانون بنایا گیا ہے کہ کسی بھی فون کمپنی کو جہاں کہیں جگہ کی ضرورت پڑی تو وہ اس میں اپنا کھمبا وغیرہ لگا سکے گی۔ اس جگہ کا مالک اس کو نہیں روک سکے گا روکے گا تو پانچ کروڑ روپے جرمانہ ادا کرے گا۔ چلئے حکومت کو تومفاد عامہ کے نقطہء نظر سے ضرورت پڑتی ہے تو بات سمجھ میں آتی ہے مگر نجی اداروں کے لئے ایسی قانون سازی سمجھ سے بالاتر ہے اس سے پورے ملک کے عوام میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے کہ یہ کیا ہو رہا ہے مگر خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اس کمپنی کو مسائل کا سامنا ہمیشہ رہے گا کیونکہ جس کسی کی زبردستی جگہ پر قبضہ کیا جائے وہ ٹھنڈے پیٹوں برداشت نہیں کرے گا لہذا اس قانون کو ختم کرنا چاہیے۔ عدم تحفظ تو پہلے ہی محسوس کیا جا رہا ہے چند سرکاری ادارے براہ راست عوام کے لئے پریشانی کا سبب بنے ہوئے ہیں اب ایک اور پریشانی ان پر مسلط ہوگی تو وہ حکومت کے کسی طور بھی گُن نہیں گائیں گے اور اپنا ردعمل ظاہر کریں گے مگر اہل اقتدار کو اس کی کوئی فکر نہیں۔ وہ اپنے اختیارات کے نشے میں جھوم رہے ہیں اس کے ہمراہ اب کچھ نئے لوگ بھی اختیارات کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں لہذا وہ جلد ہی وزارتوں کے قلمدان سنبھال لیں گے ۔
کہا جا رہا ہے کہ وفاقی کابینہ میں رد و بدل کیا جا رہا ہے کچھ وزیروں کو فارغ اور ان کی جگہ کوئی دوسرے لائے جا رہے ہیں ۔بلاول بھٹو زرداری کو بھی کوئی اہم عہدہ دیا جا رہا ہے۔ ان سب کا ایک ہی مقصد ہے۔ موجیں کرنا وگرنہ ملک کی معیشت اور سیاسی عدم استحکام سے انہیں زیادہ دلچسپی نہیں اگر ہوتی تو اب تک ملک میں سرمایہ کاروں کی بہتات ہوتی صنعت کا پہیہ تیزی سے چل رہا ہوتا غربت کی لکیر کے نیچے جانے والے اوپر آگئے ہوتے۔ یہ جو آئے روز ٹیکس لگانا پڑ رہے ہیں ان کی ضرورت نہ پڑتی بجلی گیس اور پٹرول کی قیمتیں عام صارف کی پہنچ میں ہوتیں۔ مہنگائی کا اژدھا نہ پھنکار رہا ہوتا مگر افسوس صد افسوس انہیں اپنی ذات کے آگے سوچنا ہی نہیں تھا سو اب تک یہی ہوا ہے اب جب نئی کابینہ تشکیل دینے کی باتیں سننے میں آرہی ہیں تو حیرت ہوتی ہے۔ یہ محض عوام کو بیوقوف بنانے والی بات ہے کہ ان کے آنے سے بجھتے چراغ جل اٹھیں گے
عوام کو جس طرح ماضی کی حکومتیں بیوقوف بناتی رہی ہیں یہ بھی اسی طرح کر رہی ہے مگر چونکہ پہلے ذرائع ابلاغ محدود تھے لوگ بیوقوف بن بھی جاتے تھے مگر اب ایسا نہیں ہے کیونکہ سوشل میڈیا نے ان کی آنکھیں کھول دی ہیں لہذا وہ سوچ سمجھ کر ہی کسی کی بات کو مانتے ہیں۔ لہذا اب انہیں بیانات و اشتہارات سے مطمئن نہیں کیا جا سکتا وہ عمل چاہتے ہیں مگر اہل سیاست کے پلے میں اتنی دام نہیں کہ جس سے وہ اپنے کسی وعدے کو عملی جامہ پہنا سکیں مگر ان کے بہی خواہ اپنے وی لاگوں مذاکروں اور مباحثوں میں سب اچھا کا راگ الاپ رہے ہیں جس کا کسی پر کوئی اثر نہیں پڑتا ۔
بہر کیف اب بدحال معیشت کو مستحکم کرنے کے لئے اکھاڑ پچھاڑ کی جا رہی ہے جبکہ اصل وجہ کی طرف پھر بھی نہیں آیا جا رہا کہ جب تک سیاسی عدم استحکام رہے گا انصاف پر مبنی فیصلے نہیں ہوں گے عوام کو دبانے کی پالیسی سے نجات نہیں دلوائی جائے گی ۔ بجلی گیس پٹرول کی قیمتوں میں عوام کی قوت خرید کے قریب تر نہیں لایا جائے گا ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ سکیں گی اور یہ جو مختلف محکموں کے ملازمین اور کارکنان تنخواہوں وغیرہ کے حوالے سے سراپا احتجاج ہیں گھروں میں نہیں بیٹھیں گے اور اگر انہیں طاقت زے خاموش کرنے کی کوشش کی گئی تو ان کے ساتھ دوسرے ملازمین بھی شامل ہو سکتے ہیں۔ ہر کام ڈنڈے سے نہیں ہو سکتا مکالمہ و مزاکرات ہی بہتر راستہ ہوا کرتے ہیں ۔ خیر پی پی پی کو یہ راستہ ضرور اختیار کرنا چاہیے۔ جوڑ توڑ کی حکومت سے خوشحالی نہیں آتی۔ بلکہ وہ مسائل کو جنم دیتی ہے اب تک کی مدتِ حکمرانی نے یہ ثابت کر دیا ہے لہذا سب کو ساتھ لے کر ہی لرزاں معیشت سنبھل سکے گی کہ دنیابھر میں یہ تاثر جائے گا کہ ہم سیاسی طور سے بھی سب ایک ہیں اِدھر سے اُدھر کرنے سے سونے کی کانیں ہاتھ نہیں لگ جائیں گی لہذا عرض ہے تو اتنی کہ اتفاق و اتحاد کے ساتھ نئی کابینہ بنائی جائے تاکہ سیاسی استحکام آسکے تب ہی یہ بوجھل فضا مہک سکتی ہے.
آخر میں مشتاق احمد کا یہ شعر: وہ آفتاب کہ جو گُم ہو گیا اندھیروں میں
اُسی کو ڈھونڈ کے لاؤ کہ روشنی پھیلے


