
سیاست میں جو نظر آتا ہے…….ناصف اعوان
ان وی لاگرز نے حکومت کے خلاف کمر کس لی ہے۔ وہ پوری طاقت سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کا جانا ٹھہر گیا اور یہ سب ہی ٹی آئی کے کارکنوں ہمدردوں اور حمایتیوں کو خوش کرنے کے لئے ہی ہے اور پیسا کمانا مقصود ہے
حکومت کے بارے میں طرح طرح کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ جن میں مالی اسکینڈلوں اور اس کے جانے سے متعلق شور مچایا جا رہا ہے جبکہ ہمارا گمان ہے کہ یہ چمن یونہی رہے گا کچھ نہیں ہو گا موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کرے گی یہ جو شور بلند ہوا ہے بہت جلد تھم جائے گا۔ باوجود اس کے کہ وہ بجٹ میں عام آدمی اور ملازمین کو ریلیف نہیں دے سکی مگر مجموعی طور سے اس کی پالیسیاں تسلی بخش ہیں کیونکہ جب ملک کا خزانہ خالی ہو اور ریاستی و حکومتی اخراجات بڑھ رہے ہوں تو ایسے میں بجٹ ایسا ہی آتا ہے۔ رہی بات اس کے اسکینڈلوں کی تو یہ ہر دور میں آتے ہیں خان کے دور میں بھی آئے اس سے پچھلی حکومت میں بھی آئے تمام بڑے سیاسی رہنماؤں نے بقدر جثہ جتنا عوام کا پیسا ذاتی تجوریوں میں منتقل کیا وہ کسی سے ڈھکا چھپا نہیں شاید وہ اسے اپنا حق سمجھتے تھے اور سمجھتے ہیں کہ جب کروڑوں اربوں روپے خرچ کرکے کوئی منتخب ہو کر ایوان میں آئے گا تو لازمی وہ اپنا نقصان پورا کرنے کی کوشش کرے گا پھر یہاں تو جس کے دائرہ اختیار میں جتنا مال پانی ہوتا ہے وہ اس کو سمیٹتا ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارا نظام سیاست و معیشت ہی اس طرح کا ہے کہ اس میں دولت کے حصول کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔ آپ نے دیکھا ہو گا کہ لوگ بڑی بڑی گاڑیوں والوں کو کر کر لمبے ہاتھ ملتے ہیں اسے دانشور سیانا اور عقلمند بھی سمجھتے ہیں لہذا کوئی بھی ہو وہ پیسا اکٹھا کرنے کی کوشش ضرور کرتا ہے اس لئے ہم سمجھتے ہیں کہ اگر ہمارے نمائندے خواہ وہ منتخب ہوں یا غیر منتخب وہ اس نظام میں زر و جواہر سے اپنے ہاتھ بھرنا چاہتے ہیں تو اس میں وہ قصور وار نہیں ٹھہرتے لہذا یہ جو وی لاگرز دُور کی کوڑی لارہے ہیں یہ سب عوام کی توجہ حاصل کرنے کے لئے ہے کیونکہ انہیں تو معلوم ہے کہ یہاں جو بھی آتا ہے اپنا پیٹ بھرتا ہے وہ عوام کی خدمت کے لئے اقتدار میں نہیں آتا اپنی ذات اپنے عزیز و اقارب کی ترقی کے لئے آتا ہے لہذا ہمیں کم از کم کسی کے اسکینڈل سے کوئی دلچسپی نہیں ہماری طرح اور بہت سے لوگوں کو بھی ایسی باتوں سے کوئی غرض نہیں کہ وہ اب تک یہی کچھ سنتے دیکھتے آئے ہیں اب تو ان کے یہ ”انکشافات “سُن سُن کر کان پک چکے ہیں لہذا عرض ہے کہ اسکینڈل کتنے بھی ہوں مال کتنا ہی کیوں نہ اکٹھا کیا گیا ہو اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا کہا جا سکتا ہے کہ یہ ساری باتیں عارضی ہیں حکومت بھی یہیں ہے اور ہم بھی اِدھر ہی ہیں ہمارا رونا دھونا بھی جاری ہے جاری رہے گا؟ تبدیلی سیاسی ہو یا معاشی ‘ ابھی نہیں آیے گی۔ اگرچہ پی ٹی آئی کے بعض بہی خواہ وہ لاگرز چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بس اب پی ٹی آئی آئی کہ آئی؟
ان وی لاگرز نے حکومت کے خلاف کمر کس لی ہے۔ وہ پوری طاقت سے کہہ رہے ہیں کہ حکومت کا جانا ٹھہر گیا اور یہ سب ہی ٹی آئی کے کارکنوں ہمدردوں اور حمایتیوں کو خوش کرنے کے لئے ہی ہے اور پیسا کمانا مقصود ہے ۔ بڑے بڑے نام جو گزشتہ دو برس سے خان کو رہا کروا رہے ہیں یہاں تک کہ وقت کا تعین بھی کر دیتے ہیں۔ کیسی ڈھٹائی ہے کہ وقفے وقفے سے ایسی بات کر دیتے ہیں ۔ پی ٹی آئی کے عہدیدار اور دوسرے تیسرے درجے کے رہنماؤں کا بھی یہی حال ہے وہ بھی کچھ اسی طرح کا تاثر دیتے ہیں کہ ان کی بات ہو چکی ہے لہذا خان رہائی پا جائیں گے جبکہ کہنے والے کہتے ہیں کہ یہ لوگ نہیں چاہتے کہ خان باہر آئے کیونکہ ان کی موجیں لگی ہوئی ہیں تمام مراعات حاصل کر رہے ہیں حکمرانوں سے گلے بھی مل رہے ہیں ان کی اہم تقریبات میں بھی جا رہے ہیں مگر یہ بھی ہے کہ خان بھی شاید زنداں کو خیر باد نہیں کہنا چاہتے وہ کوئی ڈیل کرنے سے اجتناب برت رہے ہیں انہیں یہ سوچنا چاہیے کہ ان کے چاہنے والوں نے بہت سے صدمے برداشت کیے ہیں بہت سے دکھ اٹھائے ہیں انہوں نے اپنے کاروبار برباد کروا لئے ہیں وہ در در کی ٹھوکریں بھی کھا رہے ہیں لہذا ان کی خاطر انہیں تھوڑی لچک دکھانی چاہیے وہ باہر آتے ہیں تو انہیں کوئی یہ نہیں کہے گا کہ انہوں نے کیا‘ کیا وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں مگر ان کے کارکنوں کو چاہیے کہ وہ خان کو اس بات پر آمادہ کریں کہ وہ کچھ لو کچھ دو کے فارمولے کے تحت آزاد فضاؤں میں سانس لیں مگر مجال ہے کہ وہ ان کو یہ باور کروائیں کہ وہ ان کی کسی بھی ڈیل کو غلط نہیں کہیں گے بس یہی کہے جا رہے ہیں کہ ڈٹ کے کھڑا ہے کپتان اور اس ڈٹ جانے سے ان کی ایک آنکھ کی بینائی جا چکی ہے ۔بات صاف اور سیدھی ہے کہ وہ عوام میں آجاتے ہیں تو لوگوں کو خوشی ہو گی اندر رہتے ہیں تو وہ مایوس ہوں گے بہت سے ان کے کارکنان اندر کھاتے پی ٹی آئی سے دور جا چکے ہیں کیونکہ انہوں نے اپنا بہت کچھ گنوا دیا ہے اور پھر بار بار انہیں جلسے جلوسوں کا کہا جاتا ہے وہ اب ایسا نہیں کر سکتے کے پی کے میں بھی یہ دیکھا جا رہا ہے ان کا کہنا ہے کہ حکمرانوں کو ان کی کسی تحریک اور کسی بھی حکمت عملی سے فرق نہیں پڑ رہا وہ اپنی مرضی کیے جا رہے ہیں لہذا جن لوگوں کو خان کے اندر رہنے سے فائدہ پہنچ رہا ہے انہیں ان کی رہائی سے کوئی دلچسپی نہیں یہ جو ان کی تقاریر اور بیانات ہیں یا وی لاگروں کے ”پندرہ منٹی“ انکشافات ہیں سب دکھاوا ہیں انہیں ان سے واقعی ہمدردی ہے تو وہ انہیں کہیں کہ اپنے موقف میں نرمی لائیں سیاست میں سخت رویہ درست نہیں ہوتا کبھی جھکنا بھی پڑتا ہے ۔
بہرحال شروع ہوئی تھی حکومت سے تو بیچ میں پی ٹی آئی کا ذکر بھی آگیا تو قارئین کرام سیاست میں جو نظر آرہا ہوتا ہے وہ اصل نہیں ہوتا اس کے پیچھے کچھ اور ہی چل رہا ہوتا ہے اسی لئے ہمیں یہ جو سیاسی ابھار دکھائی دے رہا ہے مصنوعی ہے۔ بڑے بڑے اسکینڈل دیکھے گئے مگر وہ غائب بھی ہو گئے لہذا عوام کسی خوش فہمی میں مبتلا نہ ہوں حکومت اچھی جا رہی ہے اگر وہ کوئی ٹیکس لگا رہی ہے تو کا استعمال ترقیاتی منصوبوں پر بھی کر رہی ہے کیونکہ آپ دیکھ رہے ہوں گے کہ بہت سے ایسے منصوبے اور پروگرام جو پہلی بار بنائے گئے ہیں لہذا بغلیں بجانے کا ابھی وقت نہیں آیا اور ہاں میرا یہ تجزیہ ہے جو غلط بھی ہو سکتا ہے مگر پی ٹی آئی کو فی الحال صدائے احتجاج ہی بلند کرنا ہے اور یہ اس کا آئینی حق ہے مگر حکومت کہتی ہے کہ اسے واویلا کرنے سے کچھ حاصل نہیں ہوگا وہ مزاکرات کی میز پر آئے مل کر کوئی راستہ نکالتے ہیں کیونکہ سیاست میں مزاکرات کے ذریعے سے ہی کوئی مسلہ حل ہوتا ہے لہذا پی ٹی آئی کے وہ عہدیدار جو خان سے مخلص ہیں انہیں اب گفتگو سے ہی معاملات طے کرنے چاہیں۔ اس طرح جمہوریت کو مضبوط کیا جا سکتا ہے اور ملک کی ترقی میں حصہ ڈالا جا سکتا ہے لہذا حزب اقتدار کی مزاکرات کی پیش کش کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ عین ممکن ہے اس میں ان کی کوئی بہتری ہو۔

