
محرم الحرام کی فضیلت……. پیر مشتاق رضوی
قرآن و سنت کی روشنی میں محرم الحرام کی فضیلت بڑی اھیت کی حامل ہے محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت عطا کی ہے۔
اسلام سے پہلے بھی محرم الحرام کو عربوں کے ہاں خاص تقدس اور فضیلت حاصل تھی۔ اس کی چند اہم وجوہات درج ذیل ہیں محرم الحرام ان چار "اشہر حرم” یعنی حرمت والے مہینوں میں شامل تھا جن کا ذکر قرآن میں بھی آیا ہے:”ذُو القَعدَة، ذُو الحِجَّة، مُحَرَّم اور رَجَب” اہل عرب زمانہ جاہلیت میں بھی ان مہینوں کا احترام کرتے تھےان مہینوں میں جنگ و جدال، قتل و غارت اور لوٹ مار حرام سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے محرم کو "محرم” یعنی حرام کیا گیا، حرمت والا کہا جاتا تھا۔
ذوالحجہ میں حج کے بعد لوگ اپنے گھروں کو واپس لوٹتے تھے۔ محرم میں جنگیں بند ہونے کی وجہ سے راستے محفوظ ہو جاتے تھے، اس لیے اسے امن و امان کا مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ قبائل آپس کے جھگڑے موقوف کر دیتے تھے۔
اہل عرب کبھی اپنے دنیاوی مفادات کے لیے "نسی” یعنی مہینوں کو آگے پیچھے کر دیتے تھے۔ اگر انہیں محرم میں جنگ کرنی ہوتی تو محرم کی حرمت کو صفر کے مہینے میں ڈال دیتے اور صفر کو محرم بنا لیتے۔ قرآن نے سورۃ التوبہ آیت 37 میں اس عمل کی مذمت کی۔ اس سے پتا چلتا ہے کہ محرم کی حرمت کا تصور اسلام سے پہلے بھی موجود تھا، مگر لوگ اس میں تحریف کر دیتے تھے۔
صحیح بخاری کی روایت ہے کہ قریش زمانہ جاہلیت میں یوم عاشورہ یعنی 10 محرم کا روزہ رکھتے تھے۔ نبی کریم ﷺ بھی نبوت سے پہلے یہ روزہ رکھتے تھے۔ جب آپ ﷺ مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہود بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں کیونکہ اس دن حضرت موسیٰؑ کو فرعون سے نجات ملی تھی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ 10 محرم کی فضیلت پچھلی شریعتوں اور عربوں میں بھی تھی۔
حرمت والے مہینے ہونے کی وجہ سے محرم میں بڑے تجارتی قافلے بے خوف سفر کرتے تھے۔ اس لیے معاشی طور پر بھی یہ مہینہ اہم تھا۔ اسلام سے پہلے محرم میں بندی، امن، تقدس اور عبادت کا مہینہ تھا۔ اسلام نے اس کی حرمت کو برقرار رکھا اور "نسی” کی رسم ختم کر کے اسے اللہ کے مہینوں میں سے ایک عظیم مہینہ قرار دیا۔ نبی ﷺ نے فرمایا: "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں”۔
قرآن و سنت کی روشنی میں محرم الحرام کی فضیلت بڑی اھیت کی حامل ہے
محرم الحرام اسلامی سال کا پہلا مہینہ ہے اور اسے اللہ تعالیٰ نے خاص فضیلت عطا کی ہے۔
قرآن مجید میں
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے "إِنَّ عِدَّةَ الشُّهُورِ عِندَ اللَّهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِي كِتَابِ اللَّهِ يَوْمَ خَلَقَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ مِنْهَا أَرْبَعَةٌ حُرُمٌ ۚ ذَٰلِكَ الدِّينُ الْقَيِّمُ ۚ فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ” ترجمہ: "بے شک اللہ کے نزدیک مہینوں کی گنتی بارہ ہے، اللہ کی کتاب میں جس دن اس نے آسمان و زمین پیدا کیے، ان میں سے چار حرمت والے ہیں۔ یہی سیدھا دین ہے، پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو”(التوبہ: 36)
چار حرمت والے مہینوں میں ذوالقعدہ، ذوالحجہ، محرم اور رجب شامل ہیں۔ ان میں گناہ کرنا عام دنوں کی نسبت زیادہ سخت ہے اور نیکی کا اجر بھی بڑھ جاتا ہے
نبی کریم ﷺ نے محرم کو "شھر اللہ” یعنی اللہ کا مہینہ فرمایا "رمضان کے بعد سب سے افضل روزے اللہ کے مہینے محرم کےہیں(صحیح مسلم )
کسی اور مہینے کو نبی ﷺ نے "اللہ کا مہینہ” نہیں کہا۔ یہ اس کی خاص فضیلت ہے۔
یوم عاشورہ 10 محرم کا روزہ
،گناہوں کا کفارہ ہے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: "مجھے اللہ سے امید ہے کہ یوم عاشورہ کا روزہ گزشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا”(صحیح مسلم) زمانہ جاہلیت میں قریش اور نبی ﷺ خود بھی عاشورہ کا روزہ رکھتے تھے۔ مدینہ آ کر آپ ﷺ نے دیکھا کہ یہود بھی اس دن روزہ رکھتے ہیں کیونکہ اس دن حضرت موسیٰؑ کو فرعون سے نجات ملی تھی۔ آپ ﷺ نے فرمایا: "ہم موسیٰ کے تم سے زیادہ حق دار ہیں”، چنانچہ آپ ﷺ نے روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی حکم دیا (صحیح بخاری)
، آپ ﷺ نے فرمایا: "اگر میں اگلے سال تک زندہ رہا تو 9 محرم کا روزہ بھی رکھوں گا”(صحیح مسلم)تاکہ یہود کی مشابہت نہ ہو۔ اس لیے سنت 9 اور 10 یا 10 اور 11 محرم کا روزہ رکھنا ہے جبکہ محرم میں روزے رکھنا رمضان کے بعد سب سے افضل ہے۔ پورے محرم میں نفلی روزے رکھ سکتے ہیں، خاص کر عاشورہ کے دن
روزہ رکھنے والے کے گزشتہ سال کے گناہ معاف کر دئے جاتے ہیں اشہر حرم میں گناہ سے بچنا لازم ہے الغرض محرم اللہ کا مہینہ ہے، اشہر حرم میں سے ہے، اور اس میں روزہ خصوصاً عاشورہ کا روزہ بہت بڑی فضیلت رکھتا ہے۔ اس مہینے میں گناہوں سے بچنا اور نیکیوں میں آگے بڑھنا چاہیے۔
محرم الحرام میں تاریخ اسلام اور پچھلی امتوں کے کئی اہم واقعات پیش آئے۔ قرآن و سنت اور مستند تاریخ سے ثابت شدہ اہم واقعات یہ ہیں یوم عاشورہ 10 محرم کے واقعات کے مطابق حضرت موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کی نجات ہوئی اللہ نے فرعون اور اس کے لشکر کو دریا میں غرق کیا اور حضرت موسیٰؑ کو نجات دی۔ اسی خوشی میں یہود روزہ رکھتے تھے اور نبی ﷺ نے بھی اس دن روزے کا حکم دیا۔ (صحیح بخاری، صحیح مسلم) حضرت نوحؑ کی کشتی کا جودی پہاڑ پر ٹھہرنا، طوفان نوح کے بعد کشتی 10 محرم کو جودی پہاڑ پر ٹھہری۔حضرت آدمؑ کی توبہ قبول ہونا، بعض روایات کے مطابق اللہ نے حضرت آدمؑ کی توبہ 10 محرم کو قبول فرمائی حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نجات ملی للہ نے حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے 10 محرم کو نجات دی۔ تفاسیر میں مذکور
*2. واقعات جو اسلامی تاریخ میں محرم می ھجرتِ مدینہ کا آغاز ہوا یکم محرم پہلی ہجری اگرچہ نبی ﷺ کی ہجرت ربیع الاول میں ہوئی، لیکن اسلامی کیلنڈر کا آغاز حضرت عمرؓ نے یکم محرم سے کیا کیونکہ اسی مہینے میں ہجرت کا عزم کیا گیا تھا۔غزوہ خیبر کی تیاری محرم 7 ہجری میں ہوئی رسول اللہ ﷺ نے محرم کے آخر میں خیبر کی طرف پیش قدمی کا ارادہ فرمایا۔
یکم محرم 24ھ خلیفہ دوم حضرت عمرؓ فاروق پر بدبخت ابو لؤلؤ فیروز نے حملہ کیا۔ آپؓ یکم محرم کو شہید ہوئے۔ اسلامی تاریخ کا عظیم ترین سانحہ "واقعہ کربلا” 10 محرم 61 ہجری میں وقوع پذیر ہوا حضرت سیدنا امام حسینؓ اور ان کے 72 ساتھیوں کو کربلا میں شہید کیا گیا۔ یہ امت مسلمہ کا عظیم سانحہ ہے،حضرت سیدنا امام زین العابدینؓ کی اہل بیت کے ساتھ مدینہ واپسی محرم 61 ہجری واقعہ کربلا کے بعد قیدیوں کا قافلہ محرم میں ہی مدینہ پہنچا۔ محرم کا احترام ہم پر اس لیے ضروری ہے کہ خود اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے اس مہینے کو عزت دی ہے۔ اس کی 5 بڑی وجوہات ہیں:
اللہ تعالیٰ نے محرم کو "اشہر حرم” یعنی 4 حرمت والے مہینوں میں شامل کیا ہے۔
فَلَا تَظْلِمُوا فِيهِنَّ أَنفُسَكُمْ
ترجمہ: "پس ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو”(التوبہ: 36) ان مہینوں میں گناہ کرنا عام دنوں سے زیادہ سخت ہے۔ جب اللہ نے خود اس مہینے کو حرمت دی تو ہمارا فرض ہے کہ ہم بھی اس کی حرمت کا خیال رکھیں۔ گناہ، لڑائی، جھگڑا، ظلم سے خاص طور پر بچیں۔ یہ "اللہ کا مہینہ” ہے*
نبی ﷺ نے صرف محرم کو "شھر اللہ” یعنی اللہ کا مہینہ کہاگیا ہے جس مہینے کو اللہ سے نسبت دی جائے، اس کا ادب اور احترام ہر مومن پر لازم ہے۔ جیسے ہم مسجد
جب نبی ﷺ کسی مہینے کو خاص اہمیت دیں تو امتی پر اس کا احترام ضروری ہو جاتا ہے۔امام ابن عباسؓ فرماتے ہیں: "اللہ نے چار مہینوں کو خاص کیا، ان کو حرمت والا بنایا، ان میں گناہ کو بہت بڑا کیا اور نیک عمل کو بھی بہت بڑا کیا”(تفسیر ابن کثیر) یعنی محرم میں کیا ہوا نیک کام عام دنوں سے زیادہ وزنی ہے، اور گناہ بھی زیادہ بھاری ہے۔ اس لیے احترام کا تقاضا ہے کہ نیکی زیادہ کریں اور گناہ سے بچیں۔ محرم کا احترام اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ اللہ کا حکم ہے، نبی ﷺ کی سنت ہے، اور اس مہینے میں نیکی و بدی کا حساب عام دنوں سے بڑھ کر ہے۔ اصل احترام یہ ہے کہ ہم اسے شکر، روزہ اور توبہ کا مہینہ بنائیں، نہ کہ غم اور بدعات کا۔اللہ نے اسے "حرمت والا” بنایا ہے، ہم پر لازم ہے کہ ہم بھی اسے حرمت والا سمجھیں۔ محرم کا احترام اس لیے ضروری ہے کیونکہ یہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کا حکم ہے۔ جو اللہ کے شعائر کی تعظیم کرتا ہے، وہ دل کے تقویٰ کی علامت ہے:
"وَمَن يُعَظِّمْ شَعَائِرَ اللَّهِ فَإِنَّهَا مِن تَقْوَى الْقُلُوب”(الحج: 32) اسلامی ہجری کیلنڈر کا آغاز یکم محرم سے ہوتا ہے۔ حالانکہ نبی ﷺ کی ہجرت مدینہ ربیع الاول میں ہوئی تھی۔ پھر محرم کو ہی سال کا پہلا مہینہ کیوں بنایا گیا؟ اس کی 4 بڑی تاریخی وجوہات ہیں نبئ کریم ﷺ کے زمانے میں کوئی باقاعدہ اسلامی سن رائج نہیں تھا۔ لوگ کسی بڑے واقعے سے تاریخیں گنتے تھے، جیسے عام الفیل، تعمیر کعبہ وغیرہ۔
17 ہجری میں حضرت ابو موسیٰ اشعریؓ نے یمن سے حضرت عمرؓ کو خط لکھا کہ آپ کے خطوط پر تاریخ نہیں ہوتی، پتہ نہیں چلتا کہ کون سا پہلے ہے۔ اس پر حضرت عمرؓ نے صحابہؓ سے مشورہ کیا۔ حضرت عمرؓ اور حضرت علیؓ کرم اللہ وجہ نے اس پر اتفاق کیا کیونکہ ہجرت سے ہی اسلام کو غلبہ، ریاست اور نظام ملا۔ یہی فیصلہ ہوا۔حضرت عثمانؓ اور حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ نے رائے دی کہ بیعت عقبہ ثانیہ ذوالحجہ میں ہوئی۔ اس کے بعد محرم میں صحابہؓ نے ہجرت کا پختہ ارادہ کیا اور سب سے پہلے مہاجرین محرم میں ہی نکلنا شروع ہوئے۔ یعنی "ہجرت کا منصوبہ” محرم سے شروع ہوا ۔ذوالحجہ میں حج مکمل ہو جاتا ہے۔ عربوں کے ہاں بھی ذوالحجہ سال کا آخری مہینہ سمجھا جاتا تھا۔ حج سے واپسی کے بعد محرم میں لوگ اپنے گھروں کو پہنچ کر نئے سال کا آغاز کرتے تھے۔ اس لیے محرم کو "افتتاحی مہینہ” مانا گیا
محرم حرمت والے 4 مہینوں میں سے ہے۔ سال کا آغاز ایک مقدس، امن والے مہینے سے کرنا زیادہ برکت والا ہے۔ حضرت عمرؓ نے فرمایا: "محرم کو سال کا پہلا مہینہ بناؤ، کیونکہ لوگ حج سے فارغ ہو کر اسی میں اپنے گھروں کو لوٹتے ہیں” (تاریخ طبری) سال کا آغاز جنگ بندی اور امن کے مہینے سے ہوتا ہے۔ اسلام سلامتی کا دین ہے۔ ہر سال کا آغاز ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دین کے لیے گھر، وطن، مال سب چھوڑنا پڑ سکتا ہے۔ نیا سال توبہ، محاسبہ اور نئی نیت کا موقع ہے۔ نبی ﷺ محرم میں روزے رکھتے تھے۔ عرب پہلے ہی محرم کو سال کا پہلا مہینہ مانتے تھے۔ ہجرت ربیع الاول میں ہوئی مگر اس کا عزم و ارادہ محرم میں ہوا تھا۔ محرم کو پہلا مہینہ بنانے میں حج کی تکمیل، امن کا پیغام اور اشہر حرم کا احترام پیش نظر تھا۔ اس لیے محرم صرف "نیا سال” نہیں بلکہ "ہجرت کے جذبے” کی تجدید کا مبارک مہینہ ہے۔#


