پاکستاناہم خبریں

امریکہ-ایران مذاکرات: پاکستانی، ایرانی اور امریکی حکام سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے

دریں اثناء  ٹرمپ  نے ہفتے کے روز یہ دھمکی بھی دی کہ اگر 60 دن میں ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ خود آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد کرے گا

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور پاکستانی فوج کے سربراہ فیلڈ مارشل عاصم منیر سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔ وہ وہاں امریکہ اور ایران کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

پاکستان کے دفتر خارجہ کے مطابق، ’’وزیراعظم شہباز شریف ایران، سوئٹزرلینڈ اور امریکہ کے وفود سے الگ الگ ملاقاتیں کریں گے، تاکہ خطے میں مکالمے اور پائیدار امن کے لیے پاکستان کے دیرینہ عزم کا اعادہ کیا جا سکے۔‘‘

دوسری جانب،  امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی ان اہم مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ وہ اپنی اہلیہ، اوشا وینس کے ہمراہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً چھ بجے سوئٹزر لینڈ پہنچے۔

اطلاعات کے مطابق امریکی نائب صدر اس وقت امریکہ سے روانہ ہوئے جب  ایرانی  سرکاری ٹی وی نے اعلان کیا کہ ایران کے مذاکراتی نمائندے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں۔ تہران کے وفد میں پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، وزیر خارجہ  عباس عراقچی  کے علاوہ مرکزی بینک اور تیل کے شعبے کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیں۔

جوائنٹ بیس اینڈریوز 2026 | جے ڈی وینس سوئٹزرلینڈ میں ایران کے ساتھ مذاکرات کے لیے روانہ ہو رہے ہیں
جے ڈی وینس بھی ان اہم مذاکرات کے لیے سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیںتصویر: Elizabeth Frantz/AFP

جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل کہا کہ وہ ان مذاکرات کے دوران ایران کے جوہری پروگرام اور لبنان  میں جنگ بندی کے حوالے سے پیش رفت کے لیے پُرامید ہیں۔
وینس نے عندیہ دیا کہ وہ صرف ایک یا دو دن سوئٹزرلینڈ میں قیام کریں گے، جبکہ تفصیلی مذاکرات کی قیادت اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کُشنر کریں گے۔

ان مذاکرات میں جے ڈی وینس کا  کردار اس لیے بھی اہم ہے کہ اس وقت امریکی نائب صدر پر عوامی توجہ میں اضافہ دیکھا جا رہا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب وہ 2028 کے صدارتی انتخابات کی مہم میں فعال ہونے پر غور کر رہے ہیں۔

یہ مذاکرات عالمی سطح پر توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں اور انہیں خطے میں کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

ٹرمپ اور وینس کو اس معاہدے پر اپنی ہی جماعت کے بعض حلقوں کی جانب سے سخت تنقید کا سامنا ہے۔ ریپبلکن پارٹی کے سخت گیر ارکان اس معاہدے کا موازنہ اوباما دور کے جوہری معاہدے سے کرتے ہوئے اسے ناپسندیدہ قرار دے رہے ہیں۔ اس معاہدے کے بارے میں ٹرمپ اور ریپبلکنز کا مؤقف رہا ہے کہ اس نے ایران کے جوہری پروگرام کو عملی طور پر ختم نہیں کیا۔

سوئٹزرلینڈ برگن  شٹاک 2026 | ایرانی وزیر خارجہ عراقچی امریکہ ایران مذاکرات میں شرکت کے لیے اپنے وفد کے ساتھ
تہران کے وفد میں وزیر خارجہ عراقچی ، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور مرکزی بینک اور تیل کے شعبے کے اعلیٰ حکام بھی شامل ہیںتصویر: Urs Flueeler/KEYSTONE/picture alliance

اس معاہدے کے تحت تہران کو فوری طور پر آزادانہ طور پر تیل فروخت کرنے کی اجازت ملے گی، جبکہ اس سے ایران کی ان اربوں ڈالر کے اثاثوں تک رسائی بھی ممکن ہو سکے گی جو اس وقت منجمد ہیں۔ مفاہمتی معاہدے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ  ایران اپنے اعلیٰ سطح پر افزودہ یورینیم کے ذخیرے کو کم کرے گا،  جو خیال کیا جاتا ہے کہ ان جوہری تنصیبات کے نیچے موجود ہے جنہیں گزشتہ موسمِ گرما میں امریکی حملوں کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
دریں اثناء  ٹرمپ  نے ہفتے کے روز یہ دھمکی بھی دی کہ اگر 60 دن میں ایران کے ساتھ معاہدہ نہ ہوا تو امریکہ خود آبنائے ہرمز پر ٹول ٹیکس عائد کرے گا۔ انہوں نے سوشل میڈیا پر اپنی ایک پوسٹ میں کہا کہ یہ رقم مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے لیے ’’نگہبان فرشتہ‘‘ کے طور پر فراہم کی جانے والی خدمات کے عوض ہوگی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button