
اے ایف پی کے ساتھ
اس رپورٹ میں آٹھ بڑے موسمیاتی خطرات کا جائزہ لیا گیا، جن میں ساحلی سیلاب، دریائی سیلاب، خشک سالی، سمندری طوفان، ہیٹ ویوز، شدید گرمی، جنگلاتی آگ اور گرد کے طوفان شامل ہیں۔
رپورٹ کے مطابق ایک ارب 10 کروڑ بچے کم از کم تین موسمیاتی خطرات کی زد میں ہیں۔ ان میں سب سے عام خطرات خشک سالی، شدید گرمی (35 ڈگری سینٹی گریڈ سے زائد) اور ہیٹ ویوز کے ہیں۔
یہ خطرناک صورتحال تقریباً 29 کروڑ 60 لاکھ بچوں کو متاثر کر رہی ہے، جن میں نائجیریا کے سات کروڑ 40 لاکھ، پاکستان کے تین کروڑ 40 لاکھ اور بھارت کے تین کروڑ 20 لاکھ بچے بھی شامل ہیں۔

گزشتہ دو دہائیوں میں متاثرہ بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ
یونیسیف کے مطابق گزشتہ 20 برسوں کے دوران تین یا اس سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا سامنا کرنے والے بچوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تقریباً دو ارب 30 کروڑ بچے کم از کم ایک موسمیاتی خطرے کی زد میں ہیں، جبکہ دو ارب بچے دو یا اس سے بھی زیادہ خطرات کا سامنا کر رہے ہیں۔ اسی طرح 36 کروڑ 40 لاکھ بچے چار یا اس سے زیادہ خطرات سے متاثر ہیں۔
مزید برآں دنیا بھر میں ایک لاکھ 23 ہزار بچے ایسے ہیں جو سات یا اس سے زیادہ موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جن میں سے تقریباً 46 ہزار بچے میانمار میں رہتے ہیں۔
یونیسیف کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر کیتھرین رسل نے کہا، ”موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات کا سب سے زیادہ بوجھ بچوں پر پڑ رہا ہے۔‘‘

افریقہ اور جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثر
رپورٹ کے شریک مصنف ٹام سلےمکیر کے مطابق موسمیاتی خطرات دنیا بھر میں یکساں نہیں ہیں۔
انہوں نے کہا، ”بعض علاقے خاص طور پر زیادہ متاثر ہیں، اور یہ خطرات زیادہ تر سب صحارا والے افریقہ اور جنوبی ایشیا کے بعض حصوں میں مرکوز ہیں۔‘‘
بنگلہ دیش، بھارت، نائجیریا اور پاکستان جیسے ممالک، جہاں بچوں کی آبادی بہت زیادہ ہے، میں تین یا تین سے زیادہ موسمیاتی خطرات سے متاثرہ بچوں کی تعداد بھی سب سے زیادہ ہے۔
تاہم تناسب کے اعتبار سے زیریں صحارا والے افریقہ خصوصاً ساحل کے ممالک سب سے زیادہ متاثر ہیں۔ ان ممالک میں حکومتی وسائل کی کمی موسمیاتی آفات کے اثرات کو مزید سنگین بنا دیتی ہے۔
اس رپورٹ میں چاڈ کی مثال دی گئی ہے، جہاں پانی، بجلی اور خوراک کی محدود دستیابی کے باعث انسانی بحران شدت اختیار کر چکا ہے۔ اس ملک میں 95 فیصد سے زائد بچے کم از کم تین موسمیاتی خطرات کا سامنا کر رہے ہیں، جو دنیا میں اپنی نوعیت کی بلند ترین شرحوں میں سے ایک ہے۔
رپورٹ کے مطابق 39 جزیرہ یا جزیرہ نما ریاستیں بھی انتہائی حساس قرار دی گئی ہیں۔ ان ممالک کو محدود میٹھے پانی، درآمدات پر انحصار اور سمندری طوفانوں جیسی قدرتی آفات کے بعد محفوظ پناہ گاہوں کی کمی جیسے مسائل کا سامنا ہے۔

کوئی ملک مکمل طور پر محفوظ نہیں
یونیسیف کی اس رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ دنیا کا کوئی بھی ملک موسمیاتی خطرات سے مکمل طور پر محفوظ نہیں ہے۔
ٹام سلےمیکر کے مطابق شمالی نصف کرّے کے بعض ممالک، خصوصاً اسکینڈے نیویا کے چند علاقوں میں ایسے مقامات موجود ہیں، جہاں آبادی کا ایک حصہ ان مخصوص خطرات سے نسبتاً محفوظ ہے۔
تاہم انہوں نے وضاحت کی کہ رپورٹ میں صرف دنیا کے آٹھ سب سے عام موسمیاتی خطرات کا جائزہ لیا گیا ہے۔ ان ممالک کے بچوں کو دیگر خطرات جیسے گلیشیئرز کے پگھلنے اور مستقل منجمد زمین (پرما فراسٹ) کے نرم ہونے جیسے مسائل کا سامنا ہو سکتا ہے، جو اس رپورٹ میں شامل نہیں ہیں۔
ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلیوں کے بڑھتے ہوئے اثرات اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ دنیا بھر میں بچوں کے تحفظ اور ان کے مستقبل کو محفوظ بنانے کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات ناگزیر ہو چکے ہیں۔



