کھیلتازہ ترین

ایران کا فیفا فٹبال ورلڈ کپ 2026 کا سفر اختتام پذیر

کوچ امیر قلعه‌نوئی نے کہا، ''فیصلہ قوانین کے مطابق تھا لیکن چند ملی میٹر کے فرق نے ہماری قسمت بدل دی۔‘‘

https://vogurdunews.de/our-team/

سیاسی تنازعات، سفری پابندیوں، ویزوں میں رکاوٹوں اور آخری لمحے میں کھیل کے ایک نئے موڑ نے ایران کے فیفا ورلڈ کپ 2026ء کے سفر کو ایسے موڑ پر لا کھڑا کیا، جہاں کھیل سے زیادہ سیاست فیصلہ کن ثابت ہوئی۔

کپتان مہدی طارمی نے کہا کہ یہ ورلڈ کپ ان کے لیے کھیل سے زیادہ مشکلات کا سبب بنا۔ انہوں نے کہا کہ بار بار شکایت کے باوجود کوئی مدد نہیں ملی اور ہر میچ کے بعد فوری روانگی کی شرط نے کھلاڑیوں کی تیاری اور بحالی کو شدید متاثر کیا۔

فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جی کے میچ میں مصر کے محمود صابر اپنے پہلے گول کا جشن مناتے ہوئے۔
فیفا ورلڈ کپ 2026 کے گروپ جی کے میچ میں مصر کے محمود صابر اپنے پہلے گول کا جشن مناتے ہوئے۔تصویر: Steven Bisig/IMAGN Images/REUTERS
گروپ مرحلہ: تین میچ ڈرا، ایک منسوخ گول

میدان میں ایران نے تینوں میچ برابر کھیلے اور تین پوائنٹس حاصل کیے۔ فیصلہ کن لمحہ مصر کے خلاف آخری میچ میں آیا جب اضافی وقت کے تیسرے منٹ میں شجاع خلیل زادہ نے گول کیا لیکن ویڈیو ریویو نے چند لمحوں بعد گول منسوخ کر دیا۔ خلیل زادہ کا پاؤں آف سائیڈ لائن سے معمولی آگے تھا۔

کوچ امیر قلعه‌نوئی نے کہا، ”فیصلہ قوانین کے مطابق تھا لیکن چند ملی میٹر کے فرق نے ہماری قسمت بدل دی۔‘‘

آخری امید بھی دم توڑ گئی

اگلے مرحلے میں جانے کے لیے ایران کو آسٹریا اور الجزائر کے میچ کے نتیجے پر انحصار کرنا تھا۔ اگر کوئی ایک ٹیم جیتتی تو ایران بہترین تیسرے نمبر کی ٹیموں میں جگہ بنا سکتا تھا لیکن وہ میچ 3-3 کی برابری پر ختم ہوا۔ الجزائر چھٹے نمبر پر آیا اور ایران آٹھ بہترین ٹیموں میں جگہ نہ بنا سکا۔

جنگ سے تباہ حال غزہ میں بے گھر فلسطینی خیموں میں اور تباہ شدہ عمارتوں کے سائے تلے مصر اور ایران کے درمیان ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا میچ دیکھ رہے ہیں۔
جنگ سے تباہ حال غزہ میں بے گھر فلسطینی خیموں میں اور تباہ شدہ عمارتوں کے سائے تلے مصر اور ایران کے درمیان ہونے والا فیفا ورلڈ کپ 2026 کا میچ دیکھ رہے ہیں۔تصویر: Mohammed M Skaik/JNA Press/IMAGO
سیاست کا سایہ

ایران اس ورلڈ کپ میں ایسے وقت شریک ہوا جب ملک میزبان امریکہ  کے ساتھ سنگین تنازعات میں الجھا ہوا تھا۔ ٹیم نے کوشش کی کہ میدان کے باہر کی کشیدگی کھیل کو متاثر نہ کرے لیکن سفری پابندیوں، ویزوں کی رکاوٹو اور مستقل نگرانی نے پوری مہم کو متاثر کیے رکھا۔

کھلاڑیوں اور کوچنگ اسٹاف کے مطابق یہ ورلڈ کپ میدان سے زیادہ میدان کے باہر کی رکاوٹوں کا امتحان تھا، ایک امتحان جس میں انہیں شکست ہوئی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button