
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کراچی میں پاکستان رینجرز کی ایک تنصیب کو نشانہ بنانے کی مبینہ دہشت گردانہ کوشش کو سیکیورٹی فورسز نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکام بنا دیا۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق 27 جون 2026 کو گلشنِ اقبال کے قریب دہشت گردوں نے بارودی مواد سے بھری گاڑی (VBIED) کے ذریعے حملے کی کوشش کی، تاہم الرٹ سیکیورٹی اہلکاروں نے فوری ردعمل دیتے ہوئے پانچ مبینہ دہشت گردوں کو ہلاک کر دیا۔
ذرائع کے مطابق حملے کے بعد علاقے کو مکمل طور پر گھیرے میں لے کر کلیئرنس اور سرچ آپریشن شروع کر دیا گیا، جو آخری اطلاعات تک جاری تھا۔ بم ڈسپوزل اسکواڈ، قانون نافذ کرنے والے اداروں اور دیگر متعلقہ سیکیورٹی ٹیموں نے جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کرنے کا عمل بھی شروع کر دیا ہے تاکہ حملے کی نوعیت، منصوبہ بندی اور سہولت کاروں کا تعین کیا جا سکے۔
بارودی مواد سے بھری گاڑی کے ذریعے حملے کی کوشش
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گردوں نے پاکستان رینجرز کی تنصیب کو ایک گاڑی میں نصب بھاری مقدار میں دھماکہ خیز مواد کے ذریعے نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کی تھی۔
تاہم، رینجرز کے اہلکاروں نے مشکوک سرگرمی کو بروقت بھانپ لیا اور فوری کارروائی کرتے ہوئے دہشت گردوں کا راستہ روک لیا، جس کے نتیجے میں شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔
حکام کے مطابق مقابلے کے دوران پانچ مبینہ دہشت گرد مارے گئے اور حملہ ناکام بنا دیا گیا، جس سے بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان ٹل گیا۔
کلیئرنس آپریشن اور شواہد اکٹھے کرنے کا عمل جاری
حملے کے بعد سیکیورٹی فورسز نے پورے علاقے کو گھیرے میں لے کر کلیئرنس آپریشن شروع کیا تاکہ کسی بھی ممکنہ ساتھی یا فرار ہونے والے حملہ آور کو گرفتار کیا جا سکے۔
بم ڈسپوزل یونٹ نے جائے وقوعہ سے دھماکہ خیز مواد، گاڑی کے باقی ماندہ حصوں اور دیگر شواہد کو تحویل میں لے لیا ہے، جبکہ فرانزک ماہرین بھی تحقیقات میں حصہ لے رہے ہیں۔
افغان روابط کے شواہد ملنے کا دعویٰ
سیکیورٹی ذرائع کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات میں ہلاک ہونے والے دہشت گردوں کے مبینہ افغان روابط کے شواہد سامنے آئے ہیں۔
ذرائع کے مطابق ان شواہد کی بنیاد پر اس امکان کا جائزہ لیا جا رہا ہے کہ حملے کی منصوبہ بندی یا سہولت کاری سرحد پار موجود عناصر کی جانب سے کی گئی ہو۔
تاہم حکام نے واضح کیا ہے کہ تحقیقات ابھی ابتدائی مرحلے میں ہیں اور حتمی نتائج مکمل تفتیش کے بعد سامنے آئیں گے۔
کراچی کو نشانہ بنانے کا مقصد
سیکیورٹی ذرائع کے مطابق حملہ آوروں کا مقصد کراچی میں خوف و ہراس پھیلانا اور پاکستان کے سب سے بڑے معاشی و تجارتی مرکز کو عدم استحکام سے دوچار کرنا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ کراچی ملک کی معیشت، بندرگاہوں، صنعتی سرگرمیوں، مالیاتی نظام اور بین الاقوامی تجارت کا مرکز ہے، اس لیے دہشت گرد عناصر ایسے اہداف کو نشانہ بنا کر معاشی سرگرمیوں کو متاثر کرنا چاہتے ہیں۔
بیان میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ ایسے حملوں کا مقصد خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے اقتصادی روابط، بالخصوص ایران اور دیگر ہمسایہ ممالک کے ساتھ تجارتی و رابطہ منصوبوں کو نقصان پہنچانا بھی ہو سکتا ہے۔
انسداد دہشت گردی کارروائیاں مزید تیز کرنے کا عزم
سیکیورٹی حکام نے کہا ہے کہ پاکستان کی مسلح افواج، رینجرز، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے ادارے دہشت گردی کے مکمل خاتمے کے لیے بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔
حکام کے مطابق ملک بھر میں انٹیلی جنس پر مبنی آپریشنز، حساس تنصیبات کی نگرانی اور دہشت گرد نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں مزید مؤثر بنائی جا رہی ہیں تاکہ کسی بھی ممکنہ خطرے کا بروقت سدباب کیا جا سکے۔
تحقیقات جاری
حکام نے بتایا کہ حملے سے متعلق تمام پہلوؤں کی جامع تحقیقات کی جا رہی ہیں، جن میں حملہ آوروں کی شناخت، ان کے سہولت کار، مالی معاونت، مواصلاتی روابط اور ممکنہ بین الاقوامی نیٹ ورک کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیکیورٹی اداروں کا کہنا ہے کہ اگر تحقیقات میں سرحد پار روابط یا کسی بیرونی معاونت کے شواہد ملے تو ان کی روشنی میں مزید کارروائی کی جائے گی۔
ملکی سلامتی پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہوگا
سیکیورٹی حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان دہشت گردی کے ہر خطرے کا پوری قوت سے مقابلہ کرے گا اور ملک کے امن، استحکام اور معاشی ترقی کو سبوتاژ کرنے کی کسی بھی کوشش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز ہر قسم کے دہشت گرد نیٹ ورکس اور ان کے سہولت کاروں کے خلاف کارروائیاں جاری رکھیں گی تاکہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ اور ملک میں پائیدار امن یقینی بنایا جا سکے۔



