
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
عالمی ذرائع ابلاغ اور تحقیقاتی ادارے معرکہ حق میں پاکستان کی عسکری برتری اور بھارت کی بدترین شکست کا بارہا اعتراف کر چکے ہیں۔ برطانوی اشاعتی ادارے میں پاکستان پلے بک کی تحقیقاتی رپورٹ نے معرکۂ حق میں پاکستان کی فیصلہ کن برتری کو حقائق اور شواہد کے ساتھ اجاگر کیا ہے۔
پاکستان پلے بک ایک آزاد تحقیقی اور تجزیاتی ادارہ ہے جو جنوبی ایشیا کی جیوپولیٹکس، علاقائی سلامتی اور اسٹریٹجک کمیونیکیشنز کا احاطہ کرتا ہے۔
برطانوی سٹریٹجک ریسرچ اینڈ کمیونیکیشن فرم کی رپورٹ کے مطابق معرکہ حق میں پاکستان کی عسکری برتری نمایاں رہی جس میں متعدد بھارتی طیارے بشمول رافیل تباہ ہوئے۔ امریکی اور فرانسیسی انٹیلیجنس حکام نے بھی معرکہ حق میں بھارت کے بھاری نقصانات کی توثیق کی۔ بھارت کے چیف آف ڈیفنس سٹاف اور دفاعی اتاشی بھی معرکہ حق میں اپنے بھاری نقصانات کا برملا اعتراف کر چکے ہیں۔ تحقیقاتی رپورٹ میں بتایا گیا کہ معرکہ حق میں فتح کے بعد امریکہ سمیت دیگر ممالک کے ساتھ بہترین اور مضبوط سفارتی تعلقات قائم کرنے میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کا کلیدی کردار ہے۔ معرکہ حق میں پاکستان کی واضح عسکری برتری نے فضائیہ سمیت دیگرشعبوں میں بھارت کی دفاعی کمزوریوں کو عیاں کیا۔ پاکستان کی مؤثر دفاعی حکمت عملی کے باعث آپریشن سندور میں بھارت کے حملے پاکستانی تنصیبات کو نقصان پہنچانے میں ناکام رہے۔
تحقیقاتی رپورٹ میں یہ بھی اعتراف کیا گیا کہ پاکستان کی معرکہ حق میں کامیابی جدید جنگی نظام اور پیشہ ورانہ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ معرکہ حق کے دوران پاکستان کے مضبوط ایئر ڈیفنس سسٹم کی بدولت بھارتی ڈرونز مؤثر ثابت نہیں ہو سکے۔ سیٹلائٹ تصاویر اور شواہد اس مؤقف کو تقویت دیتے ہیں کہ پاکستان کے کسی جنگی طیارے کا نقصان نہیں ہوا۔
یہ بھی کہا گیا کہ معرکہ حق میں پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود بھارت پر واضح عسکری برتری حاصل کر کے کامیابی حاصل کی۔ پاکستان کے لڑاکا طیارہ جے 10 سی کی قیمت 40 سے 55 ملین ڈالر جبکہ بھارتی رافیل کی قیمت 115 سے 140 ملین ڈالر ہے۔ معرکہ حق میں پاکستان کے نقصانات کی شرح انتہائی کم جبکہ بھارت کو تقریباً 45 سے51 بلین ڈالر کا نقصان برداشت کر نا پڑا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ اس جنگ کے بعد یورپی یونین سمیت بڑے عالمی اداروں سے تعلقات نے پاکستان کے عالمی وقار اور سفارتی ساکھ میں بے پناہ اضافہ کیا۔ معرکہ حق کے بعد سفارتی کامیابیوں کے تسلسل میں پاکستان کی امریکہ اور ایران امن معاہدہ کی تکمیل کوعالمی سطح پر سراہا گیا۔
عالمی ماہرین کے مطابق معرکہ حق میں پاکستان نہ صرف عسکری بلکہ سفارتی محاذ پر بھی فاتح رہا اور امریکہ ایران جنگ بندی سےپاکستان نے خطے میں امن کے فروغ کیلئے کلیدی کردار ادا کیا۔
تحقیقاتی رپورٹ سے واضح ہے کہ جدید جنگوں میں صرف دفاعی اخراجات نہیں بلکہ عسکری قیادت کی بصیرت، پیشہ ورانہ مہارت اورمضبوط حکمت عملی فیصلہ کن کردار ادا کرتی ہے۔



