
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
نیویارک: پاکستان نے یوکرین تنازع کے انسانی اثرات کو وسیع پیمانے پر تباہ کن قرار دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ غلط اندازوں اور کشیدگی میں اضافے کا خطرہ بڑھ رہا ہے، اور یہ رجحان اب پہلے سے کہیں زیادہ واضح اور زیادہ تواتر کے ساتھ سامنے آ رہا ہے۔
بیلاروس کی درخواست پر شہریوں پر مبینہ یوکرینی ڈرون حملوں کے حوالے سے بلائے گئے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پاکستان کا قومی بیان دیتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے نائب مستقل مندوب سفیر عثمان جدون نے مسلح ڈرونز کے مسلسل استعمال سے پیدا ہونے والے خطرات اور ان جدید ٹیکنالوجیز سے وابستہ انسانی چیلنجز کو اجاگر کیا۔
پاکستان کے مستقل مؤقف کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے تمام فریقوں پر زور دیا کہ وہ کسی بھی استثنا کے بغیر بین الاقوامی انسانی قانون کے اصولوں کی سختی سے پابندی کریں۔ انہوں نے کہا کہ اس تنازع کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کا واحد راستہ سفارت کاری اور مذاکرات ہیں۔
انہوں نے کہا، "لہٰذا ہم فوری اور مکمل جنگ بندی کی ناگزیر ضرورت پر زور دیتے ہیں اور تمام فریقوں پر زور دیتے ہیں کہ وہ سنجیدگی کے ساتھ دوبارہ مذاکرات کا راستہ اختیار کریں۔”
سفیر عثمان جدون نے کہا کہ پاکستان کی نظر میں اقوامِ متحدہ کے منشور کے مقاصد اور اصولوں، تمام فریقوں کے جائز سلامتی مفادات اور متعلقہ کثیرالجہتی معاہدوں سے ہم آہنگ، باہمی طور پر قابلِ قبول پُرامن تصفیہ ہی دیرپا امن کی جانب واحد قابلِ عمل راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اس تنازع کے جامع، دیرپا اور پُرامن حل کے لیے کی جانے والی تمام کوششوں کی حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے بیلاروس میں شہری جانوں کے مبینہ ضیاع پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی افسوسناک ہے کہ اس طویل تنازع کے باعث شہری آج بھی جسمانی اور نفسیاتی اذیت کا سامنا کر رہے ہیں۔



