مشرق وسطیٰتازہ ترین

امریکہ کا ایران سے دوٹوک مطالبہ، آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں پر حملے روکنے کا عوامی اعلان کرے، ورنہ مذاکرات خطرے میں پڑ سکتے ہیں

ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایران عوامی طور پر یہ تسلیم کرے کہ آبنائے ہرمز کے تمام بحری راستے کھلے ہیں

https://vogurdunews.de/our-team/

By Voice of Germany Urdu News Team

واشنگٹن / تہران / خلیج عمان: مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کم کرنے کی سفارتی کوششوں کے درمیان امریکہ نے ایران سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ باضابطہ اور عوامی سطح پر یہ اعلان کرے کہ آبنائے ہرمز میں تجارتی بحری جہازوں پر حملے بند کر دیے جائیں گے اور اس اہم عالمی بحری گزرگاہ سے گزرنے والے تمام بحری راستے محفوظ اور کھلے رہیں گے۔

امریکی میڈیا کے مطابق جمعہ کے روز نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں سے گفتگو کرنے والے متعدد سینیئر امریکی حکام نے بتایا کہ اگرچہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے، تاہم امریکہ کسی بھی ممکنہ معاہدے سے قبل ایران کی جانب سے واضح، عوامی اور قابلِ تصدیق یقین دہانی چاہتا ہے کہ آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ مکمل طور پر بند ہو جائے گا۔

امریکہ کا سخت مؤقف

ایک سینیئر امریکی عہدیدار نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن کا مؤقف انتہائی واضح ہے۔

انہوں نے کہا:

"ہم مطالبہ کر رہے ہیں کہ ایران عوامی طور پر یہ تسلیم کرے کہ آبنائے ہرمز کے تمام بحری راستے کھلے ہیں، وہاں کسی تجارتی جہاز پر فائرنگ نہیں کی جا رہی اور مستقبل میں بھی ایسے حملے نہیں ہوں گے۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران ایسا واضح اعلان نہیں کرتا تو جاری مذاکرات کا انجام تہران کے لیے مثبت نہیں ہوگا۔

امریکی حکام کے مطابق عالمی تجارت، توانائی کی سپلائی اور بین الاقوامی بحری نقل و حمل کے تحفظ کو یقینی بنانا امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی اولین ترجیح ہے۔

مذاکرات میں پیش رفت، مگر اعتماد کا بحران برقرار

امریکی ذرائع کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے جاری ہیں اور بعض معاملات پر پیش رفت بھی ہوئی ہے، لیکن حالیہ بحری حملوں نے اعتماد کی فضا کو شدید متاثر کیا ہے۔

واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ کسی بھی مستقل یا عبوری معاہدے کے لیے ضروری ہے کہ ایران نہ صرف حملے روکنے کی یقین دہانی کرائے بلکہ عالمی برادری کے سامنے اس کا باضابطہ اعلان بھی کرے تاکہ تجارتی کمپنیوں، شپنگ انڈسٹری اور توانائی کی عالمی منڈیوں کا اعتماد بحال ہو سکے۔

قطر اور سعودی عرب سے وابستہ آئل ٹینکروں پر حملہ

یہ مطالبہ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب حال ہی میں آبنائے ہرمز میں قطر اور سعودی عرب سے وابستہ تین تجارتی آئل ٹینکروں پر فائرنگ کے واقعات رپورٹ ہوئے، جس سے خلیج میں سکیورٹی صورتحال ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی۔

ان حملوں کے بعد عالمی شپنگ کمپنیوں اور انشورنس اداروں نے بھی خدشات کا اظہار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز میں عدم استحکام برقرار رہا تو عالمی تجارت اور تیل کی ترسیل شدید متاثر ہو سکتی ہے۔

صدر ٹرمپ کا سخت ردعمل

حملوں کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے ساتھ موجود عبوری امن معاہدہ اب مؤثر نہیں رہا۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ حالات میں وہ ایرانی قیادت کے ساتھ کسی نئی ڈیل میں دلچسپی نہیں رکھتے۔

صدر ٹرمپ کے بیان کو امریکی پالیسی میں سختی کی علامت قرار دیا جا رہا ہے، جس کے بعد ایران پر سفارتی دباؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

ایران کا مؤقف

امریکی حکام کے مطابق مذاکرات کے دوران ایرانی نمائندوں نے مؤقف اختیار کیا کہ آبنائے ہرمز میں ہونے والے حالیہ حملے ایرانی حکومت کی باقاعدہ پالیسی کا حصہ نہیں تھے۔

ایک امریکی عہدیدار کے مطابق ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ کارروائیاں "اس کے نظام کے ایک بے قابو حصے” کی جانب سے کی گئیں، جن پر مکمل کنٹرول موجود نہیں تھا۔

اگرچہ اس وضاحت کی تفصیلات سامنے نہیں آئیں، تاہم امریکی حکام کا کہنا ہے کہ واشنگٹن اس مؤقف کو ناکافی سمجھتا ہے اور ایران سے واضح اور سرکاری سطح پر ذمہ داری قبول کرنے یا حملوں کے خاتمے کی عوامی یقین دہانی کا مطالبہ کر رہا ہے۔

آبنائے ہرمز کیوں اہم ہے؟

آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے روزانہ لاکھوں بیرل خام تیل اور مائع قدرتی گیس عالمی منڈیوں تک پہنچائی جاتی ہے۔

خلیجی ممالک، خصوصاً سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت، عراق اور دیگر توانائی برآمد کرنے والے ممالک کی بڑی مقدار میں تیل کی برآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔

ماہرین کے مطابق اس آبی گزرگاہ میں معمولی کشیدگی بھی عالمی تیل کی قیمتوں، بحری انشورنس، شپنگ اخراجات اور بین الاقوامی تجارت پر فوری اثرات مرتب کر سکتی ہے۔

عالمی برادری کی تشویش

بین الاقوامی سفارتی حلقے اس صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔ متعدد ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ خلیج میں کشیدگی کو سفارت کاری کے ذریعے کم کیا جائے تاکہ عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی اور علاقائی امن کو مزید خطرات لاحق نہ ہوں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق آئندہ چند روز میں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری مذاکرات فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو سکتے ہیں، جہاں آبنائے ہرمز کی سکیورٹی، بحری جہازوں کے محفوظ گزر اور اعتماد سازی کے اقدامات مرکزی موضوعات ہوں گے۔

آئندہ منظرنامہ

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر ایران امریکہ کے مطالبے کے مطابق عوامی سطح پر آبنائے ہرمز میں حملے روکنے کی یقین دہانی کرا دیتا ہے تو مذاکرات میں پیش رفت کا امکان بڑھ سکتا ہے۔ تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو واشنگٹن کی جانب سے مزید سفارتی دباؤ، اضافی پابندیوں یا دیگر اقدامات پر غور کیا جا سکتا ہے۔

دوسری جانب عالمی منڈیاں، توانائی کے شعبے سے وابستہ کمپنیاں اور بین الاقوامی شپنگ انڈسٹری اس پیش رفت کو انتہائی اہم قرار دے رہی ہیں، کیونکہ آبنائے ہرمز میں استحکام نہ صرف خلیجی خطے بلکہ پوری عالمی معیشت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button