اہم خبریںپاکستان

مطالبات تسلیم نہ ہوئےتو 15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف مارچ کریں گے: کشمیری مظاہرین کی دھمکی

گذشتہ ماہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت جے اے اے سی پر پابندی عائد کر دی گئی جس کے باوجود حامیوں نے مظاہرے جاری رکھے ہیں

سید عاطف ندیم-پاکستان، وائس آف جرمنی اردو نیوز
آزاد کشمیر میں احتجاجی رہنماؤں نے ہفتوں سے جاری مظاہروں اور جھڑپوں کے بعد جمعرات کو خبردار کیا کہ اگر حکومت ان کے مطالبات تسلیم کرنے میں ناکام رہی تو وہ 15 جولائی کو علاقائی دارالحکومت مظفرآباد کی طرف مارچ کریں گے۔
مقامی حکام اور شہری حقوق کی ایک کالعدم تحریک جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی (جے اے اے سی) کے حامیوں میں تصادم اسلام آباد کے لیے ایک حساس چیلنج ہے جو بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں نئی دہلی کے اختلافِ رائے سے نمٹنے کے طریقے پر اکثر تنقید کرتا ہے لیکن اب اسے اپنے ہی زیرِ انتظام علاقے میں عوامی غم و غصے کا سامنا ہے۔
بدامنی کا آغاز نو جون کی جے اے اے سی کی ایک ہڑتال سے پہلے ہوا جو بنیادی طور پر 27 جولائی کو علاقے کی 45 نشستووں والی قانون ساز اسمبلی کے انتخابات میں پناہ گزینوں کے لیے 12 نشستیں مخصوص کرنے کے خلاف کی گئی تھی۔ 1947 کی تقسیمِ برصغیر کے بعد بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر سے بے گھر ہو جانے والے یہ مہاجرین پاکستان میں رہتے ہیں۔
گذشتہ ماہ راولاکوٹ میں تشدد میں چار پولیس اہلکاروں اور تین مظاہرین سمیت کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے جہاں حکام نے جے اے اے سی کے حامیوں پر قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملہ کرنے کا الزام لگایا۔ احتجاجی رہنماؤں نے پیر کو کہا کہ میرپور میں تازہ جھڑپوں میں دو مظاہرین ہلاک ہو گئے جبکہ علاقائی پولیس سربراہ نے اس دعوے کی تردید کی۔
جے اے اے سی نے جمعرات کے اواخر میں ایک بیان میں کہا، "15 جولائی کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ ہو گا۔ 14 جولائی کے بعد ہمارے مطالبات اس منشور تک محدود نہیں رہیں گے اور ہم ایک نئے اعلان کے ساتھ سامنے آئیں گے۔”
گذشتہ ماہ انسدادِ دہشت گردی قوانین کے تحت جے اے اے سی پر پابندی عائد کر دی گئی جس کے باوجود حامیوں نے مظاہرے جاری رکھے ہیں۔ احتجاج، دھرنوں اور کاروباری ہڑتالوں نے پورے خطے میں روزمرہ کی زندگی مفلوج کر دی ہے حالانکہ فریقین حالات کے متضاد بیانات پیش کرتے ہیں۔
جے اے اے سی کے ہزاروں حامیوں نے اس وقت علاقائی دارالحکومت مظفرآباد سے تقریباً 100 کلومیٹر (62 میل) جنوب میں راولاکوٹ کے مضافات میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔
آزاد جموں و کشمیر کی حکومت نے "ممکنہ تشدد، ہتھیاروں کے حصول، قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں پر حملوں اور معمول کی زندگی کو درہم برہم کرنے کے منصوبوں” میں ملوث ہونے کی اطلاعات کا حوالہ دیتے ہوئے پانچ جون کو جے اے اے سی پر پابندی لگا دی تھی۔ گروپ ان الزامات کی تردید کرتے ہوئے کہتا ہے کہ حقوق کے لیے اس کی جدوجہد پرامن ہے۔
جے اے اے سی پاکستان کی وفاقی حکومت کے ساتھ مہاجرین کی نشستوں کا تنازعہ حل کرنے میں ناکام ہو گیا جس کے بعد اس نے نو جون کو پورے آزاد جموں و کشمیر (اے جے کے) میں مظاہروں کی کال دی۔ گروپ کا استدلال ہے کہ مخصوص نشستوں سے پاکستان کی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتوں کا اے جے کے میں حکومت سازی پر اثر انداز ہونا ممکن ہو جاتا ہے اور انہیں فوراً ختم کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔
تاہم جے اے اے سی کی مہم کو گذشتہ مہینے دھچکا لگا جب اے جے کے سپریم کورٹ نے مشاہدہ کیا کہ نشستوں کو آئینی تحفظ حاصل ہے اور انہیں انتظامی کارروائی کے ذریعے ختم نہیں کیا جا سکتا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button