
روئٹرز کے ساتھ
پاکستان نے بلوچستان میں چینی تعاون سے چلنے والی تانبے اور سونے کی کان سیندک کے گرد سکیورٹی مزید سخت کرنے کا اعلان کیا ہے، جبکہ منصوبے کی انتظامیہ نے ان خبروں کو مسترد کر دیا ہے کہ سکیورٹی صورتحال کے باعث یہ منصوبہ بند ہو جانے کے خطرے سے دوچار ہے۔
سیندک میٹلز کے مینیجنگ ڈائریکٹر رازق سنجرانی نے کہا کہ برطانوی اخبار فنانشل ٹائمز کی رپورٹ میں اس منصوبے کی ممکنہ بندش کے حوالے سے شائع کی گئی خبر ’’حقائق کے منافی‘‘ ہے۔ ان کے مطابق یہ کان گزشتہ 25 برسوں سے بلاتعطل کام کر رہی ہے اور اس کے بند کیے جانے کا کوئی امکان نہیں۔
سنجرانی نے بتایا کہ کمپنی نے بلوچستان میں بعض راستوں پر سکیورٹی خدشات کے باعث فرنس آئل کی ترسیل کے لیے حکام سے مدد طلب کی تھی کیونکہ کچھ ٹرانسپورٹرز مخصوص راستوں پر جانے سے گریز کر رہے تھے۔ تاہم سکیورٹی اداروں نے یقین دہانی کرائی ہے کہ ایندھن اور دیگر سامان کی فراہمی بلارکاوٹ جاری رہے گی۔

وزیر مملکت برائے داخلہ امور طلال چوہدری نے روئٹرز کو بتایا کہ حکومت کو جولائی کے آغاز میں منصوبے کی انتظامیہ کی جانب سے سکیورٹی خدشات سے آگاہ کیا گیا تھا، جس کے بعد متعلقہ اداروں کو منصوبے کی تنصیبات، عملے، لاجسٹکس اور سامان کی نقل و حمل کے لیے اضافی سکیورٹی فراہم کرنے کی ہدایت جاری کر دی گئی۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان میں بین الاقوامی کمپنیوں کے تمام منصوبوں کا تحفظ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور سیندک منصوبے تک سامان کی ترسیل کو بھی خصوصی سکیورٹی فراہم کی جائے گی۔
ایران اور افغانستان سے متصل پاکستانی صوبہ بلوچستان چین کے تعاون سے جاری کئی بڑے منصوبوں کا مرکز ہے، جن میں گوادر بندرگاہ بھی شامل ہے۔ صوبے میں سرگرم بلوچ علیحدگی پسند گروہ کئی دہائیوں سے یہ موقف اختیار کرتے آئے ہیں کہ صوبے کے قدرتی وسائل سے مقامی آبادی کو مناسب فائدہ نہیں پہنچ رہا۔
اخبار فنانشل ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ خراب ہوتی ہوئی سکیورٹی صورتحال اور سپلائی روٹس میں رکاوٹوں کے باعث سیندک منصوبہ ایک ماہ کے اندر اندر غیر پائیدار ہو سکتا ہے۔
سیندک کان میٹالرجیکل کارپوریشن آف چائنہ (MCC) کے زیر انتظام چل رہی ہے، جس کی لیز میں 2022 میں توسیع کی گئی تھی، جبکہ کان سے حاصل ہونے والی زیادہ تر پیداوار چین برآمد کر دی جاتی ہے۔

دوسری جانب چین کی وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ اسے اس مخصوص معاملے کی تفصیلات معلوم نہیں تاہم بیجنگ پاکستان کے ساتھ مل کر پاکستان میں چینی شہریوں، منصوبوں اور اداروں کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے تعاون جاری رکھے گا۔
بلوچستان میں بڑھتی ہوئی بدامنی نے نو ارب ڈالر مالیت کے سونے و تانبے کی کان کنی کے منصوبے ریکوڈک کے مستقبل سے متعلق بھی خدشات پیدا کر دیے ہیں، جو سیندک سے تقریباً 50 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔



