
مولانا فضل الرحمان کے خلاف قصور میں مقدمہ درج ہونے کی وائرل ایف آئی آر جعلی قرار، پولیس کی تردید
انہوں نے کہا کہ ابتدائی جانچ سے ہی واضح ہو گیا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی دستاویز سرکاری ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتی۔
ڈاکٹر اصغر واہلہ-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
قصور: جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہونے سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی مبینہ ایف آئی آر کو پولیس نے جعلی، من گھڑت اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے اس کی سختی سے تردید کر دی ہے۔
تھانہ صدر قصور کے ایس ایچ او ذوالفقار بھٹی نے وضاحتی بیان میں کہا کہ سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ایف آئی آر کا تھانے کے سرکاری ریکارڈ سے کوئی تعلق نہیں اور یہ دستاویز مکمل طور پر جعلی ہے۔
ایف آئی آر نمبر بھی جعلی نکلا
ایس ایچ او ذوالفقار بھٹی کے مطابق وائرل ہونے والی ایف آئی آر میں نمبر 1807 درج کیا گیا ہے، تاہم تھانے کے سرکاری ریکارڈ کے مطابق یہ نمبر درست نہیں اور نہ ہی اس سیریل نمبر پر ایسی کوئی ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ابتدائی جانچ سے ہی واضح ہو گیا کہ سوشل میڈیا پر شیئر کی جانے والی دستاویز سرکاری ریکارڈ سے مطابقت نہیں رکھتی۔
تفتیشی افسر کا نام بھی غلط
پولیس حکام نے مزید بتایا کہ وائرل ایف آئی آر میں تفتیشی افسر کے طور پر اے ایس آئی قمر کا نام درج کیا گیا ہے، جبکہ تھانہ صدر قصور میں اس نام کا کوئی اہلکار تعینات ہی نہیں۔
ایس ایچ او کے مطابق یہ ایک اور واضح ثبوت ہے کہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی دستاویز جعلی طور پر تیار کی گئی۔
پولیس کی عوام سے اپیل
ذوالفقار بھٹی نے شہریوں سے اپیل کی کہ وہ سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی غیر مصدقہ معلومات، جعلی دستاویزات اور افواہوں پر یقین نہ کریں۔
انہوں نے کہا کہ کسی بھی اہم خبر، مقدمے یا قانونی کارروائی سے متعلق معلومات حاصل کرنے کے لیے صرف متعلقہ پولیس، سرکاری اداروں یا مستند ذرائع سے تصدیق کی جائے۔
ان کے مطابق:
"سوشل میڈیا پر پھیلائی جانے والی یہ ایف آئی آر مکمل طور پر جعلی اور گمراہ کن ہے۔ شہری غیر مصدقہ معلومات کو آگے پھیلانے سے گریز کریں اور کسی بھی خبر کی تصدیق متعلقہ حکام سے ضرور کریں۔”
جعلی دستاویزات اور سوشل میڈیا
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ حالیہ برسوں میں سوشل میڈیا پر جعلی سرکاری دستاویزات، فرضی نوٹیفکیشنز اور من گھڑت ایف آئی آرز پھیلانے کے واقعات میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جس سے عوام میں بے چینی اور غلط فہمیاں پیدا ہو سکتی ہیں۔
انہوں نے شہریوں پر زور دیا کہ کسی بھی حساس یا اہم نوعیت کی خبر کو شیئر کرنے سے قبل اس کی تصدیق ضرور کریں تاکہ جھوٹی معلومات کے پھیلاؤ کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔
پولیس نے واضح کیا کہ مولانا فضل الرحمان کے خلاف تھانہ صدر قصور میں مقدمہ درج ہونے سے متعلق زیر گردش ایف آئی آر کا کوئی قانونی وجود نہیں اور اسے مستند سرکاری دستاویز تصور نہیں کیا جا سکتا۔




