کاروبارتازہ ترین

امریکی ایف ڈی اے نے نیکوٹین پاؤچز کو مخصوص "ترمیم شدہ خطرے” کے دعوے کے ساتھ مارکیٹ کرنے کی اجازت دے دی

یہ منظوری صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ کے لیے ہے اور صرف انہی 20 ZYN مصنوعات پر لاگو ہوتی ہے جن کا سائنسی جائزہ لیا گیا ہے۔

امریکی فوڈ اینڈ ڈرگ ایڈمنسٹریشن (FDA) نے وسیع سائنسی جائزے کے بعد 20 ZYN نیکوٹین پاؤچ مصنوعات کے لیے Modified Risk Tobacco Product (MRTP) آرڈرز جاری کر دیے ہیں، جس کے تحت ان مخصوص مصنوعات کو امریکہ میں ایف ڈی اے کی منظور شدہ "ترمیم شدہ خطرے” (Modified Risk) کی معلومات کے ساتھ مارکیٹ کیا جا سکے گا۔

امریکی ایف ڈی اے نے  نیکوٹین پاؤچز کو مخصوص "ترمیم شدہ خطرے" کے دعوے کے ساتھ مارکیٹ کرنے کی اجازت دے دی
امریکی ایف ڈی اے نے نیکوٹین پاؤچز کو مخصوص "ترمیم شدہ خطرے” کے دعوے کے ساتھ مارکیٹ کرنے کی اجازت دے دی

یہ فیصلہ 30 جون 2026 کو جاری کیا گیا، جس کے بعد فلپ مورس انٹرنیشنل یو ایس (PMI U.S.) کو ان مخصوص ZYN نیکوٹین پاؤچز کی امریکہ میں مارکیٹنگ کی اجازت مل گئی۔ ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ یہ اجازت صرف ان 20 مخصوص مصنوعات تک محدود ہے جن کا باقاعدہ سائنسی جائزہ لیا گیا ہے، اور اسے تمام نیکوٹین یا تمباکو مصنوعات پر لاگو نہیں سمجھا جا سکتا۔

ایم آر ٹی پی آرڈر کیا ہے؟

امریکی ایف ڈی اے کے مطابق Modified Risk Tobacco Product (MRTP) آرڈر ایک ایسا ریگولیٹری فیصلہ ہے جس کے تحت مخصوص تمباکو یا نیکوٹین مصنوعات کو صرف اسی صورت میں "ترمیم شدہ خطرے” یا "ترمیم شدہ نمائش” کے دعوے کے ساتھ فروخت کرنے کی اجازت دی جاتی ہے جب سائنسی شواہد یہ ثابت کریں کہ یہ دعویٰ درست ہے اور اس سے مجموعی طور پر عوامی صحت کو فائدہ پہنچ سکتا ہے۔

ایف ڈی اے نے واضح کیا کہ اس منظوری کے ساتھ سخت شرائط بھی عائد کی گئی ہیں، جن میں بعد از مارکیٹنگ نگرانی (Post-Market Surveillance)، مسلسل رپورٹنگ اور صارفین کے رویوں کی مانیٹرنگ شامل ہے۔

فیصلہ صرف امریکہ تک محدود

ایف ڈی اے نے زور دیا کہ یہ منظوری صرف ریاستہائے متحدہ امریکہ کے لیے ہے اور صرف انہی 20 ZYN مصنوعات پر لاگو ہوتی ہے جن کا سائنسی جائزہ لیا گیا ہے۔

ادارے کے مطابق اس فیصلے کو نیکوٹین پاؤچز یا تمباکو مصنوعات کے پورے زمرے کے لیے عمومی منظوری تصور نہیں کیا جا سکتا۔

سائنسی جائزے میں کن پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا؟

ایف ڈی اے نے یہ آرڈرز Swedish Match USA, Inc. کی جانب سے جمع کرائی گئی MRTP درخواستوں کے تفصیلی سائنسی جائزے کے بعد جاری کیے۔

جائزے کے دوران درج ذیل اہم پہلوؤں کا جائزہ لیا گیا:

  • مصنوعات کے استعمال سے متعلق صحت کے ممکنہ خطرات۔
  • تمباکو استعمال کرنے والے بالغ افراد کے لیے نسبتاً کم نقصان کے سائنسی شواہد۔
  • صارفین کی جانب سے مجاز دعوے کو سمجھنے کی صلاحیت۔
  • نوجوانوں میں ان مصنوعات کے استعمال کے ممکنہ خطرات۔
  • مجموعی عوامی صحت پر ان مصنوعات کے ممکنہ اثرات۔

ایف ڈی اے نے اپنے فیصلے میں کہا کہ دستیاب سائنسی شواہد سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ ان مخصوص مصنوعات کے بارے میں مجاز ترمیم شدہ خطرے کا دعویٰ سائنسی بنیاد رکھتا ہے، صارفین اسے درست طور پر سمجھ سکتے ہیں، اور اس دعوے کے ساتھ مصنوعات کی مارکیٹنگ سے مجموعی طور پر عوامی صحت کو فائدہ پہنچنے کا امکان ہے۔

مجاز دعویٰ کیا ہے؟

جنوری 2025 میں یہی ZYN نیکوٹین پاؤچز Premarket Tobacco Product Application (PMTA) کے تحت امریکہ میں فروخت کی اجازت حاصل کر چکے تھے۔

اب ایم آر ٹی پی منظوری کے بعد انہیں درج ذیل ایف ڈی اے سے منظور شدہ دعوے کے ساتھ فروخت کیا جا سکے گا:

"سگریٹ کے بجائے ZYN استعمال کرنے سے پھیپھڑوں کے کینسر، منہ کے کینسر، ایمفیزیما (Emphysema) اور دائمی برونکائٹس (Chronic Bronchitis) جیسے امراض کے خطرات کم ہو سکتے ہیں۔”

تاہم ایف ڈی اے نے اس بات کی بھی وضاحت کی ہے کہ یہ دعویٰ صرف ان بالغ افراد کے لیے ہے جو پہلے سے تمباکو نوشی کرتے ہیں اور سگریٹ کی جگہ ان مخصوص منظور شدہ مصنوعات کا استعمال کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ یہ مصنوعات مکمل طور پر محفوظ یا خطرے سے پاک ہیں۔

ایف ڈی اے کا مؤقف

ایف ڈی اے کے سینٹر فار ٹوبیکو پروڈکٹس کے قائم مقام ڈائریکٹر ڈاکٹر بریٹ کوپلو (Brett Koplow, PhD, JD) نے فیصلے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا:

"ایف ڈی اے کی جانب سے ترمیم شدہ خطرے والی تمباکو مصنوعات کا جائزہ اس مقصد کے لیے کیا جاتا ہے کہ بالغ صارفین کو تمباکو مصنوعات کے نسبتاً نقصانات کے بارے میں واضح اور سائنس پر مبنی معلومات فراہم کی جا سکیں تاکہ وہ باخبر فیصلے کر سکیں۔”

انہوں نے مزید کہا کہ اس فیصلے سے ان بالغ افراد کو، جو پہلے سے سگریٹ نوشی کرتے ہیں، ان مخصوص مصنوعات سے وابستہ نسبتاً کم خطرات کے بارے میں مستند معلومات فراہم کی جا سکیں گی۔

پہلی مرتبہ نیکوٹین پاؤچز کو ایم آر ٹی پی منظوری

ایف ڈی اے کے مطابق یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی ریگولیٹری ادارے نے کسی نیکوٹین پاؤچ پروڈکٹ کے لیے Modified Risk Tobacco Product (MRTP) آرڈر جاری کیا ہے۔

اس سے قبل دیگر محدود اقسام کی تمباکو مصنوعات کو ایسی منظوری دی جا چکی تھی، تاہم ZYN نیکوٹین پاؤچز اس زمرے کی پہلی مصنوعات ہیں جنہیں یہ ریگولیٹری حیثیت حاصل ہوئی ہے۔

فلپ مورس انٹرنیشنل کا مؤقف

فلپ مورس انٹرنیشنل (PMI) نے اس فیصلے کو تمباکو نوشی سے پاک متبادل مصنوعات کی تیاری اور سائنسی تحقیق کے حوالے سے اہم پیش رفت قرار دیا ہے۔

کمپنی کے مطابق وہ کئی برسوں سے ایسے متبادل نیکوٹین مصنوعات تیار کرنے پر سرمایہ کاری کر رہی ہے جن کا مقصد بالغ تمباکو نوش افراد کو سگریٹ کے متبادل فراہم کرنا ہے۔

کمپنی کا کہنا ہے کہ:

  • اس کی دھواں سے پاک مصنوعات اس وقت دنیا کی 105 سے زائد مارکیٹوں میں دستیاب ہیں۔
  • 31 دسمبر 2025 تک کمپنی کے اندازے کے مطابق دنیا بھر میں 4 کروڑ 30 لاکھ سے زائد بالغ صارفین ان مصنوعات کا استعمال کر رہے تھے۔
  • 2026 کی پہلی سہ ماہی میں کمپنی کی مجموعی خالص آمدنی کا 43 فیصد حصہ دھواں سے پاک مصنوعات سے حاصل ہوا۔
  • 2008 سے اب تک کمپنی دھواں سے پاک متبادل مصنوعات کی تحقیق، تیاری اور تجارتی فروغ پر 16 ارب امریکی ڈالر سے زائد سرمایہ کاری کر چکی ہے۔

صحت عامہ کے ماہرین کیا کہتے ہیں؟

صحت عامہ کے ماہرین مسلسل اس بات پر زور دیتے ہیں کہ نیکوٹین ایک نشہ آور مادہ ہے اور نوجوانوں، غیر تمباکو نوش افراد، حاملہ خواتین اور کم عمر افراد کو کسی بھی قسم کی نیکوٹین مصنوعات استعمال نہیں کرنی چاہئیں۔

ان کے مطابق اگرچہ بعض متبادل مصنوعات سگریٹ نوشی کرنے والے بالغ افراد کے لیے نسبتاً کم نقصان دہ ہو سکتی ہیں، لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ وہ مکمل طور پر محفوظ یا صحت کے لیے بے ضرر ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ تمباکو اور نیکوٹین سے متعلق تمام مصنوعات کے استعمال کے حوالے سے متعلقہ ممالک کے صحت عامہ کے قوانین اور ریگولیٹری اداروں کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔

نتیجہ

امریکی ایف ڈی اے کا یہ فیصلہ نیکوٹین پاؤچز کے ریگولیٹری جائزے میں ایک اہم پیش رفت تصور کیا جا رہا ہے۔ تاہم ادارے نے واضح کیا ہے کہ یہ منظوری صرف امریکہ میں مخصوص منظور شدہ ZYN مصنوعات تک محدود ہے، سخت سائنسی شواہد کی بنیاد پر دی گئی ہے، اور اسے دیگر تمام نیکوٹین یا تمباکو مصنوعات پر عمومی طور پر لاگو نہیں کیا جا سکتا۔ ساتھ ہی ایف ڈی اے نے بعد از مارکیٹنگ نگرانی اور مسلسل سائنسی جائزے کو بھی اس منظوری کا لازمی حصہ قرار دیا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button