پاکستان پریس ریلیزاہم خبریں

وفاقی حکومت کی اہم انتظامی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے پر غور

ہفتے میں تین تعطیلات، ورک فرام ہوم اور ایندھن کی بچت سمیت متعدد تجاویز زیرِ غور

شیخ جعفر محمود-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز

اسلام آباد: وفاقی حکومت توانائی کے مؤثر استعمال، سرکاری اخراجات میں کمی اور ایندھن کی بچت کے لیے ایک بار پھر اہم انتظامی اقدامات متعارف کرانے پر غور کر رہی ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق متعدد تجاویز زیرِ غور ہیں، جن میں ہفتے میں تین تعطیلات، ورک فرام ہوم (گھر سے کام)، سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندیاں، پٹرول و ڈیزل کے اخراجات میں کمی اور مارکیٹوں کے اوقاتِ کار محدود کرنے جیسے اقدامات شامل ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان تجاویز پر متعلقہ وزارتوں اور اداروں کی سطح پر مشاورت جاری ہے اور آئندہ چند روز میں ان کے بارے میں حتمی فیصلے کیے جانے کا امکان ہے۔

توانائی کی بچت اور اخراجات میں کمی مقصد

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان مجوزہ اقدامات کا بنیادی مقصد سرکاری اخراجات میں کمی، توانائی کے وسائل کا مؤثر استعمال، ایندھن کی بچت اور بجلی کی مجموعی کھپت کو کم کرنا ہے۔

حکام کے مطابق حالیہ برسوں میں بڑھتے ہوئے توانائی بحران، درآمدی ایندھن پر انحصار اور مالی دباؤ کے باعث حکومت مختلف شعبوں میں کفایت شعاری کی پالیسی پر عمل پیرا ہے۔

ہفتے میں تین تعطیلات کی تجویز

ذرائع کے مطابق زیرِ غور تجاویز میں ہفتے کے دوران تین چھٹیوں کا آپشن بھی شامل ہے۔

اس تجویز کے تحت سرکاری دفاتر کے اوقاتِ کار اور ہفتہ وار ورکنگ ڈیز کو ازسرِنو ترتیب دینے پر غور کیا جا رہا ہے تاکہ دفاتر میں بجلی، گیس، ایندھن اور دیگر آپریشنل اخراجات میں کمی لائی جا سکے۔

اگرچہ اس حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا گیا، تاہم متعلقہ ادارے مختلف ماڈلز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

ورک فرام ہوم دوبارہ متعارف کرانے کی تجویز

ذرائع کے مطابق کورونا وبا کے دوران متعارف کرائے گئے ورک فرام ہوم نظام کو بھی جزوی طور پر دوبارہ نافذ کرنے کی تجویز زیرِ غور ہے۔

اس منصوبے کے تحت بعض سرکاری محکموں کے ایسے ملازمین، جن کے فرائض آن لائن یا ڈیجیٹل ذرائع سے انجام دیے جا سکتے ہیں، انہیں مخصوص دنوں میں گھر سے کام کرنے کی اجازت دی جا سکتی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس اقدام سے:

  • دفاتر میں بجلی کی کھپت کم ہوگی،
  • ٹریفک کا دباؤ کم ہوگا،
  • ایندھن کی بچت ہوگی،
  • اور سرکاری اخراجات میں بھی کمی آئے گی۔

سرکاری گاڑیوں کے استعمال پر پابندیاں

وفاقی حکومت سرکاری گاڑیوں کے استعمال کو بھی محدود کرنے پر غور کر رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق نئی پالیسی کے تحت:

  • غیر ضروری سرکاری گاڑیوں کا استعمال کم کیا جا سکتا ہے۔
  • مخصوص افسران تک سرکاری گاڑیوں کی سہولت محدود کی جا سکتی ہے۔
  • گاڑیوں کے استعمال کی نگرانی مزید سخت کی جا سکتی ہے۔

اس اقدام کا مقصد سرکاری وسائل کے مؤثر استعمال اور ایندھن کے اخراجات میں کمی لانا بتایا جا رہا ہے۔

پٹرول اور ڈیزل کے اخراجات کم کرنے کی تجویز

سرکاری محکموں میں پٹرول اور ڈیزل کے استعمال کو بھی محدود کرنے کی تجویز زیر غور ہے۔

ذرائع کے مطابق مختلف وزارتوں اور سرکاری اداروں کو ایندھن کے استعمال میں کمی کے اہداف دیے جا سکتے ہیں، جبکہ سرکاری سفری اخراجات اور غیر ضروری دوروں کو بھی محدود کرنے کی سفارش کی جا رہی ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ اس سے حکومتی اخراجات میں خاطر خواہ کمی ممکن ہو سکتی ہے۔

مارکیٹوں کے اوقاتِ کار محدود کرنے پر غور

ذرائع کے مطابق حکومت توانائی بچت مہم کے تحت مارکیٹوں، تجارتی مراکز اور کاروباری سرگرمیوں کے اوقاتِ کار محدود کرنے کی تجویز پر بھی غور کر رہی ہے۔

اس حوالے سے مختلف اسٹیک ہولڈرز، تاجروں کی تنظیموں اور متعلقہ صوبائی حکام سے مشاورت جاری ہے تاکہ ایسا لائحہ عمل مرتب کیا جا سکے جس سے کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر نہ ہوں اور توانائی کی بچت بھی ممکن ہو۔

حتمی فیصلے چند روز میں متوقع

ذرائع کے مطابق تمام تجاویز مختلف وزارتوں، توانائی ڈویژن اور دیگر متعلقہ اداروں کی مشاورت کے بعد وفاقی حکومت کے سامنے پیش کی جائیں گی۔

امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آئندہ چند روز کے دوران ان تجاویز پر حتمی فیصلہ کر لیا جائے گا، جس کے بعد باضابطہ نوٹیفکیشن یا حکومتی اعلان جاری کیا جائے گا۔

ماضی میں بھی ایسے اقدامات کیے جا چکے ہیں

یاد رہے کہ اس سے قبل بھی توانائی بحران اور معاشی دباؤ کے دوران وفاقی حکومت نے:

  • سرکاری دفاتر کے اوقاتِ کار میں تبدیلی،
  • مارکیٹوں کی جلد بندش،
  • غیر ضروری سرکاری اخراجات میں کمی،
  • ورک فرام ہوم،
  • اور ایندھن کی بچت سے متعلق متعدد اقدامات متعارف کرائے تھے۔

حکومت کا مؤقف رہا ہے کہ ایسے اقدامات سے نہ صرف توانائی کی بچت ممکن ہوتی ہے بلکہ مالی وسائل پر دباؤ بھی کم کیا جا سکتا ہے۔

باضابطہ اعلان کا انتظار

تاحال وفاقی حکومت کی جانب سے ان تجاویز کی منظوری یا نفاذ سے متعلق کوئی باضابطہ نوٹیفکیشن جاری نہیں کیا گیا۔ اس لیے ہفتے میں تین تعطیلات، ورک فرام ہوم، سرکاری گاڑیوں کے استعمال میں پابندی، ایندھن کی بچت اور مارکیٹوں کے اوقاتِ کار میں تبدیلی سے متعلق تمام تجاویز فی الحال غور و خوض کے مرحلے میں ہیں۔

حکومتی فیصلے کے بعد ہی یہ واضح ہوگا کہ کن تجاویز پر عمل درآمد کیا جائے گا، ان کا دائرہ کار کیا ہوگا اور یہ اقدامات کب سے نافذ کیے جائیں گے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button