
جنوبی افریقہ میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ، چار پاکستانی تاجر جاں بحق، پولیس نے تحقیقات شروع کر دیں
ریسکیو اہلکاروں کے پہنچنے تک گاڑی میں موجود چاروں پاکستانی تاجروں کی موت واقع ہو چکی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ چاروں افراد گولیوں کے شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
جوہانسبرگ/کیمپٹن پارک: جنوبی افریقہ کے صوبہ گوٹینگ (Gauteng) کے علاقے کیمپٹن پارک میں نامعلوم مسلح افراد کی فائرنگ کے نتیجے میں چار پاکستانی تاجر جاں بحق ہو گئے۔ افسوسناک واقعہ ہفتے کی شام اس وقت پیش آیا جب متاثرہ افراد اپنی دکانیں بند کرکے گھر واپس جا رہے تھے۔
گوٹینگ پولیس کے مطابق حملہ چلوہرکوپ (Chloorkop) کے علاقے میں پیش آیا، جہاں پاکستانی نژاد چاروں تاجر ٹمبیسا (Tembisa) میں واقع اپنی سپازا شاپس (Spaza Shops) بند کرنے کے بعد ایک ہی گاڑی میں اپنے گھر روانہ ہوئے تھے۔
سرخ سگنل پر رکی گاڑی کو نشانہ بنایا گیا
گوٹینگ پولیس کی ترجمان کرنل ڈماکاٹسی نیوووہولوی نے واقعے کی تفصیلات بتاتے ہوئے بتایا کہ چاروں افراد ایک ہونڈا بالیڈ (Honda Ballade) گاڑی میں سفر کر رہے تھے۔
پولیس کے مطابق جب ان کی گاڑی زورفونٹین (Zuurfontein) اور اورینجریویئر (Oranjerivier) روڈز کے سنگم پر ٹریفک سگنل سرخ ہونے کے باعث رکی تو اسی دوران ایک سفید رنگ کی سیڈان گاڑی ان کے برابر آ کر رکی۔
ترجمان کے مطابق سفید گاڑی سے دو نامعلوم مسلح افراد باہر نکلے اور انہوں نے پاکستانی تاجروں کی گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دی۔ حملہ اتنا اچانک اور شدید تھا کہ گاڑی میں سوار افراد کو سنبھلنے کا موقع ہی نہ مل سکا۔
فرار کی کوشش ناکام، گاڑی ٹریفک ڈیوائیڈر سے ٹکرا گئی
پولیس کے مطابق فائرنگ کے دوران ہونڈا گاڑی کے ڈرائیور نے حملہ آوروں سے بچنے کے لیے گاڑی موڑ کر فرار ہونے کی کوشش کی، تاہم شدید زخمی ہونے کے باعث وہ گاڑی پر قابو نہ رکھ سکا اور گاڑی سڑک کے درمیان موجود ٹریفک ڈیوائیڈر سے جا ٹکرائی۔
ریسکیو اہلکاروں کے پہنچنے تک گاڑی میں موجود چاروں پاکستانی تاجروں کی موت واقع ہو چکی تھی۔ پولیس نے بتایا کہ چاروں افراد گولیوں کے شدید زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گئے۔
حملہ آور فائرنگ کے بعد فوری طور پر اپنی گاڑی میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔
پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے تحقیقات شروع کر دیں
گوٹینگ پولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کی وجوہات تاحال واضح نہیں ہو سکیں اور ابتدائی تحقیقات میں حملے کا مقصد معلوم نہیں ہو سکا۔
پولیس نے قتل کا مقدمہ درج کرکے مختلف پہلوؤں سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کیے جا رہے ہیں۔ تاحال کسی مشتبہ شخص کو گرفتار نہیں کیا جا سکا۔
حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی کے پاس اس حملے سے متعلق معلومات موجود ہوں تو وہ پولیس سے فوری رابطہ کرے تاکہ ملزمان کو قانون کے کٹہرے میں لایا جا سکے۔
جنوبی افریقہ میں پاکستانی تاجروں کو درپیش سکیورٹی چیلنجز
جنوبی افریقہ میں پاکستانی اور دیگر ایشیائی ممالک سے تعلق رکھنے والے ہزاروں تاجر چھوٹے کاروبار، بالخصوص سپازا شاپس چلاتے ہیں۔ تاہم گزشتہ کئی برسوں سے یہ کاروباری طبقہ ڈکیتی، مسلح حملوں اور پرتشدد جرائم کا سامنا کر رہا ہے۔
پاکستانی کمیونٹی کے نمائندے متعدد مواقع پر جنوبی افریقی حکام سے مطالبہ کرتے رہے ہیں کہ غیر ملکی تاجروں کے جان و مال کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، کیونکہ کئی پاکستانی شہری اس سے قبل بھی مسلح وارداتوں میں اپنی جانیں گنوا چکے ہیں۔
غیر ملکیوں کے خلاف بڑھتی کشیدگی
یہ واقعہ ایسے وقت میں پیش آیا ہے جب جنوبی افریقہ میں غیر قانونی تارکین وطن کے خلاف مقامی سطح پر سرگرم گروہوں، جن میں "مارچ اینڈ مارچ” اور "آپریشن ڈڈولا” شامل ہیں، کی جانب سے غیر ملکیوں کے خلاف احتجاجی مہم جاری ہے۔
ان گروہوں نے غیر قانونی تارکین وطن کو ملک چھوڑنے کے مطالبات کیے ہیں اور بعض علاقوں میں غیر ملکی کاروباری افراد کو دباؤ، ہراسانی اور تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا ہے۔
مقامی آبادی کے بعض حلقوں کا مؤقف ہے کہ غیر ملکی کم اجرت پر کام کرکے یا کاروبار کرکے مقامی افراد کے روزگار کو متاثر کر رہے ہیں، جبکہ ماہرین کے مطابق جنوبی افریقہ میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، معاشی مشکلات اور سماجی دباؤ نے غیر ملکیوں کے خلاف نفرت اور کشیدگی میں اضافہ کیا ہے۔
سرکاری اور مقامی ذرائع کے مطابق حالیہ مہینوں میں شروع ہونے والی مہم کے بعد ہزاروں غیر ملکی متاثر ہوئے ہیں، جبکہ متعدد افراد اپنے کاروبار بند کرکے اپنے آبائی ممالک واپس جانے پر مجبور ہوئے ہیں۔
پاکستانی کمیونٹی میں غم و غصہ
چار پاکستانی تاجروں کی ہلاکت کی خبر کے بعد جنوبی افریقہ میں مقیم پاکستانی برادری میں شدید غم و افسوس پایا جاتا ہے۔ کمیونٹی رہنماؤں نے واقعے کی شفاف تحقیقات، ملزمان کی فوری گرفتاری اور پاکستانی شہریوں کے تحفظ کے لیے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
انہوں نے دونوں ممالک کی حکومتوں سے بھی اپیل کی ہے کہ اس واقعے کی مکمل تحقیقات کو یقینی بنایا جائے، متاثرہ خاندانوں کی ہر ممکن مدد کی جائے اور مستقبل میں ایسے افسوسناک واقعات کی روک تھام کے لیے جامع سکیورٹی حکمت عملی اختیار کی جائے۔
چار پاکستانی تاجروں کی المناک ہلاکت نے ایک مرتبہ پھر جنوبی افریقہ میں مقیم غیر ملکی کاروباری افراد، خصوصاً پاکستانی کمیونٹی، کی سکیورٹی سے متعلق سنگین خدشات کو اجاگر کر دیا ہے۔ اب سب کی نظریں پولیس کی تحقیقات پر مرکوز ہیں کہ آیا حملہ آوروں کو گرفتار کرکے اس واردات کے محرکات سامنے لائے جا سکیں گے یا نہیں۔



