
چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل عامر رضا کی ملاقات، نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد، پاکستان کے سٹریٹجک دفاعی نظام پر تبادلہ خیال
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ تقرری آئینی اصلاحات کے تحت قائم کیے گئے نئے عسکری ڈھانچے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کے سٹریٹجک دفاعی نظام کو مزید مؤثر اور مربوط بنانا ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
راولپنڈی: پاکستان کے چیف آف ڈیفنس فورسز اور چیف آف آرمی اسٹاف، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، نشانِ امتیاز (ملٹری)، ہلالِ جرات سے نو تعینات کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ جنرل سید عامر رضا نے پیر کے روز جنرل ہیڈ کوارٹرز (جی ایچ کیو) راولپنڈی میں ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران ملک کے دفاعی امور، نئی ذمہ داریوں اور سٹریٹجک دفاعی نظام سے متعلق مختلف معاملات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے جنرل عامر رضا کو نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے پہلے کمانڈر کا منصب سنبھالنے پر مبارکباد پیش کی اور ان کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔
شہداء کو خراجِ عقیدت
جی ایچ کیو آمد سے قبل جنرل سید عامر رضا نے یادگارِ شہداء پر حاضری دی، پھولوں کی چادر چڑھائی اور وطن کے دفاع میں اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کرنے والے شہداء کے درجات کی بلندی کے لیے فاتحہ خوانی کی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق یہ اقدام پاک فوج کی اس روایت کا تسلسل ہے جس کے تحت اعلیٰ عسکری ذمہ داریاں سنبھالنے والے افسران شہداء کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہیں۔
گارڈ آف آنر پیش، نئی عسکری ذمہ داریوں کا باقاعدہ آغاز
راولپنڈی: پاکستان کے نو تعینات کمانڈر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ، جنرل سید عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت (HI(M), SBT) کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے کے موقع پر ایک پروقار تقریب میں گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔ تقریب میں پاک فوج کے اعلیٰ افسران نے شرکت کی اور جنرل عامر رضا کو ان کی نئی ذمہ داریوں پر مبارکباد پیش کی۔

گارڈ آف آنر کی تقریب پاکستان کی عسکری روایات کے مطابق منعقد کی گئی، جہاں چاق و چوبند دستے نے جنرل سید عامر رضا کو سلامی پیش کی۔ تقریب اس امر کی علامت تھی کہ جنرل عامر رضا نے باضابطہ طور پر نیشنل اسٹریٹجک کمانڈ کے پہلے کمانڈر کی حیثیت سے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لی ہیں۔
جنرل عامر رضا کی ترقی اور نئی تعیناتی
واضح رہے کہ وزیراعظم شہباز شریف نے گزشتہ جمعہ کو لیفٹیننٹ جنرل سید عامر رضا، ہلالِ امتیاز (ملٹری)، ستارۂ بسالت کو فور اسٹار جنرل کے عہدے پر ترقی دینے اور انہیں کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ مقرر کرنے کا اعلان کیا تھا۔
وزیراعظم آفس سے جاری اعلامیے کے مطابق یہ تقرری آئینی اصلاحات کے تحت قائم کیے گئے نئے عسکری ڈھانچے کا حصہ ہے، جس کا مقصد ملک کے سٹریٹجک دفاعی نظام کو مزید مؤثر اور مربوط بنانا ہے۔
نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کیا ہے؟
نیشنل سٹریٹجک کمانڈ (National Strategic Command) پاکستان کے دفاعی نظام میں ایک نیا عسکری ادارہ ہے، جسے گزشتہ برس منظور کی جانے والی 27ویں آئینی ترمیم کے تحت قائم کیا گیا۔
اس آئینی اصلاحات کے نتیجے میں پاکستان کی عسکری قیادت کے ڈھانچے میں نمایاں تبدیلیاں متعارف کرائی گئیں، جن میں:
- جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کے چیئرمین کا عہدہ ختم کیا گیا۔
- چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے کو وسعت دیتے ہوئے اسے چیف آف ڈیفنس فورسز کا درجہ دیا گیا۔
- تینوں مسلح افواج کی مجموعی عسکری قیادت چیف آف ڈیفنس فورسز کے سپرد کی گئی۔
- ملک کی سٹریٹجک افواج کی نگرانی کے لیے کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا نیا عہدہ تشکیل دیا گیا۔
دفاعی ماہرین کے مطابق یہ تبدیلیاں پاکستان کے دفاعی کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ بنانے کی کوششوں کا حصہ ہیں۔
جنرل عامر رضا کا پیشہ ورانہ کیریئر
جنرل سید عامر رضا کا شمار پاک فوج کے تجربہ کار اور اعلیٰ پیشہ ورانہ صلاحیتوں کے حامل افسران میں کیا جاتا ہے۔
نئی ذمہ داری سنبھالنے سے قبل وہ چیف آف جنرل اسٹاف (CGS) کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، جہاں وہ آپریشنل منصوبہ بندی، انٹیلی جنس رابطہ کاری اور فوجی حکمت عملی کے اہم امور کے نگران تھے۔
اس سے قبل وہ:
- کور کمانڈر لاہور کی حیثیت سے خدمات انجام دے چکے ہیں۔
- ہیوی انڈسٹریز ٹیکسلا (HIT) کے چیئرمین کے طور پر پاکستان کی دفاعی صنعت کی نگرانی بھی کر چکے ہیں۔
دفاعی حلقوں کے مطابق ان کا وسیع تجربہ انہیں نئی ذمہ داری کے لیے موزوں انتخاب بناتا ہے۔
تقرری کا آئینی طریقہ کار
27ویں آئینی ترمیم کے مطابق:
- کمانڈر نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا تقرر وزیراعظم پاکستان کرتے ہیں۔
- تقرری چیف آف ڈیفنس فورسز کی سفارش پر کی جاتی ہے۔
- اس عہدے پر صرف حاضر سروس فور اسٹار جنرل تعینات ہو سکتا ہے۔
- اس عہدے کی آئینی مدت تین سال مقرر کی گئی ہے۔
پاکستان کا سٹریٹجک دفاعی نظام
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو ایٹمی صلاحیت رکھتے ہیں۔
ملک کی سٹریٹجک اور جوہری پالیسی کا تعین نیشنل کمانڈ اتھارٹی (National Command Authority – NCA) کرتی ہے، جو پاکستان کا اعلیٰ ترین سول و عسکری فیصلہ ساز ادارہ ہے۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی کی ذمہ داریوں میں شامل ہیں:
- قومی سٹریٹجک پالیسی کی تشکیل
- جوہری اثاثوں کی نگرانی
- کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم کی منظوری
- قومی دفاع سے متعلق اہم سٹریٹجک فیصلے
دفاعی ماہرین کے مطابق نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کے قیام سے سٹریٹجک فورسز کے آپریشنل انتظام، کمانڈ اینڈ کنٹرول اور دفاعی منصوبہ بندی کو مزید منظم اور مؤثر بنانے میں مدد ملے گی۔
دفاعی اصلاحات کا تسلسل
حالیہ آئینی اصلاحات کو پاکستان کے دفاعی ڈھانچے میں ایک بڑی تنظیمی تبدیلی قرار دیا جا رہا ہے۔
ماہرین کے مطابق ان اصلاحات کا مقصد تینوں مسلح افواج کے درمیان مربوط کمانڈ، تیز تر فیصلہ سازی اور جدید دفاعی تقاضوں کے مطابق ایک مؤثر عسکری نظام تشکیل دینا ہے۔
ملاقات کی اہمیت
تجزیہ کاروں کے مطابق جی ایچ کیو میں ہونے والی یہ ملاقات صرف ایک رسمی ملاقات نہیں بلکہ پاکستان کے نئے دفاعی ڈھانچے کے عملی آغاز کی علامت بھی ہے۔
فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی جانب سے جنرل عامر رضا کو نئی ذمہ داریاں سنبھالنے پر مبارکباد اور نیک خواہشات کا اظہار اس امر کی عکاسی کرتا ہے کہ پاک فوج نئی آئینی اور عسکری اصلاحات کے تحت دفاعی اداروں کے درمیان مؤثر رابطے اور ہم آہنگی کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پرعزم ہے۔
دفاعی مبصرین کا کہنا ہے کہ نیشنل سٹریٹجک کمانڈ کا قیام اور اس کے پہلے کمانڈر کی تقرری پاکستان کے سٹریٹجک دفاعی نظام میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس کا مقصد قومی سلامتی، دفاعی تیاری اور سٹریٹجک اثاثوں کی نگرانی کے نظام کو مزید مضبوط، مربوط اور مؤثر بنانا ہے۔




