
وزیراعظم شہباز شریف سے چینی سفیر جیانگ زائی ڈونگ کی ملاقات، پاک چین اسٹریٹجک شراکت داری، سی پیک اور علاقائی امن پر تفصیلی تبادلہ خیال
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام، مشترکہ مفادات اور دہائیوں پر محیط دوستی پر استوار ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف سے پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے وزیراعظم ہاؤس میں ملاقات کی، جس میں پاکستان اور چین کے درمیان دیرینہ اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون، چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC)، علاقائی سلامتی، مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور جنوبی ایشیا کی مجموعی صورتحال سمیت باہمی دلچسپی کے متعدد اہم امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ملاقات میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی، ترقی و خصوصی اقدامات احسن اقبال، وزیراعظم کے مشیر ڈاکٹر سید توقیر شاہ اور سیکرٹری خارجہ سفیر آمنہ بلوچ بھی شریک تھیں۔
پاک چین تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ
وزیراعظم شہباز شریف نے ملاقات کے دوران چین کے صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ کے لیے نیک تمناؤں اور خیرسگالی کے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان چین کے ساتھ اپنی دیرینہ، آزمودہ اور ہر موسم کی دوستی کو انتہائی اہمیت دیتا ہے۔
انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ پاکستان دونوں ممالک کے درمیان ہمہ جہت اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پُرعزم ہے اور دوطرفہ تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے ہر ممکن اقدامات جاری رکھے گا۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات باہمی اعتماد، احترام، مشترکہ مفادات اور دہائیوں پر محیط دوستی پر استوار ہیں، جو وقت کے ساتھ مزید مستحکم ہوئی ہے۔
دورۂ چین کی یاد تازہ
وزیراعظم شہباز شریف نے رواں سال مئی 2026 میں اپنے سرکاری دورۂ چین کو خوشگوار انداز میں یاد کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کی اعلیٰ قیادت کے درمیان ہونے والی ملاقاتوں میں متعدد اہم فیصلے اور معاہدے طے پائے تھے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور چین ان فیصلوں پر مؤثر اور بروقت عملدرآمد کے لیے قریبی رابطے میں ہیں تاکہ دونوں ممالک کے عوام کو ان کے ثمرات جلد از جلد حاصل ہو سکیں۔
وزیراعظم کے مطابق اقتصادی تعاون، سرمایہ کاری، صنعتی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی بہتری، زرعی شعبے میں تعاون، توانائی، جدید ٹیکنالوجی اور علاقائی روابط جیسے شعبے دونوں ممالک کے مشترکہ تعاون کا اہم محور ہیں۔
سی پیک اور اقتصادی تعاون پر زور
ملاقات میں پاکستان اور چین کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید وسعت دینے پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔
وزیراعظم نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی تعاون کی بنیاد ہے اور اس منصوبے نے پاکستان کی اقتصادی ترقی، توانائی کے شعبے، بنیادی ڈھانچے اور علاقائی رابطہ کاری میں نمایاں کردار ادا کیا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ حکومت سی پیک کے جاری منصوبوں کی بروقت تکمیل اور نئے منصوبوں پر تیزی سے پیش رفت کو یقینی بنانے کے لیے تمام ضروری اقدامات جاری رکھے گی۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چینی سرمایہ کاروں کے لیے مزید سازگار ماحول فراہم کرنے، کاروباری سہولیات میں اضافہ کرنے اور سرمایہ کاری کے نئے مواقع پیدا کرنے کے لیے اصلاحاتی عمل جاری رکھے ہوئے ہے۔
علاقائی صورتحال پر تبادلہ خیال
ملاقات کے دوران مشرقِ وسطیٰ، افغانستان اور جنوبی ایشیا کی مجموعی سکیورٹی صورتحال پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
دونوں رہنماؤں نے خطے میں امن، استحکام، اقتصادی ترقی اور باہمی تعاون کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے اس بات پر اتفاق کیا کہ علاقائی تنازعات کا حل مذاکرات، سفارت کاری اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق تلاش کیا جانا چاہیے۔
اس موقع پر خطے میں بدلتی ہوئی جغرافیائی اور سیاسی صورتحال، علاقائی رابطہ کاری اور اقتصادی تعاون کے فروغ پر بھی گفتگو کی گئی۔
چین کا پاکستان کے لیے غیر متزلزل تعاون
پاکستان میں چین کے سفیر جیانگ زائی ڈونگ نے وزیراعظم شہباز شریف کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ چین پاکستان کو اپنا "آہنی بھائی” (Iron Brother) سمجھتا ہے اور دونوں ممالک کے تعلقات باہمی اعتماد اور آزمودہ دوستی پر مبنی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ چین پاکستان کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور قومی مفادات کی حمایت جاری رکھے گا۔
چینی سفیر نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ بیجنگ پاکستان کی سماجی و اقتصادی ترقی، بنیادی ڈھانچے کی تعمیر، سرمایہ کاری، صنعتی تعاون اور عوامی فلاح و بہبود کے منصوبوں میں ہر ممکن تعاون فراہم کرتا رہے گا۔
دیرینہ دوستی کی نئی جہت
چینی سفیر نے کہا کہ پاکستان اور چین کے تعلقات صرف سفارتی یا اقتصادی نوعیت کے نہیں بلکہ عوامی سطح پر بھی دونوں ممالک کے درمیان مضبوط اعتماد، احترام اور دوستی موجود ہے۔
انہوں نے کہا کہ چین مستقبل میں بھی پاکستان کے ساتھ مختلف شعبوں میں تعاون کو مزید فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے تاکہ دونوں ممالک کے عوام ترقی اور خوشحالی کے ثمرات سے مستفید ہو سکیں۔
پاک چین تعلقات کی اہمیت
پاکستان اور چین گزشتہ سات دہائیوں سے دفاع، معیشت، تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر، تعلیم، سائنس و ٹیکنالوجی، زراعت، خلائی تحقیق اور علاقائی رابطہ کاری سمیت متعدد شعبوں میں قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہیں۔
چین پاکستان کا سب سے بڑا ترقیاتی شراکت دار اور اہم تجارتی سرمایہ کار بھی ہے، جبکہ سی پیک کو دونوں ممالک کے تعلقات کا مرکزی ستون تصور کیا جاتا ہے۔
مستقبل کے تعاون پر اتفاق
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان اور چین اپنی ہمہ موسمی اسٹریٹجک تعاون پر مبنی شراکت داری کو مزید مستحکم بنانے، اعلیٰ سطح کے رابطوں کو برقرار رکھنے، اقتصادی و تجارتی تعاون میں اضافہ کرنے اور خطے میں امن، استحکام اور مشترکہ ترقی کے لیے مل کر کام کرتے رہیں گے۔
سیاسی مبصرین کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور چینی سفیر کے درمیان یہ ملاقات ایسے وقت میں ہوئی ہے جب پاکستان اور چین سی پیک کے نئے مرحلے، اقتصادی تعاون میں توسیع اور علاقائی روابط کو مزید مضبوط بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اس ملاقات سے دونوں ممالک کے درمیان اسٹریٹجک شراکت داری، اقتصادی تعاون اور سفارتی روابط مزید مستحکم ہونے کی توقع ہے۔




