
کھڈ کوچہ میں دو شہریوں کے اغوا کا دعویٰ، تاوان طلب کیے جانے کی اطلاعات، بی ایل اے پر اغوا برائے تاوان اور مجرمانہ سرگرمیاں بے نقاب
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مغویوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں، جبکہ علاقے میں سکیورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی۔
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
کھڈ کوچہ/کوئٹہ: بلوچستان کے علاقے کھڈ کوچہ میں دو شہریوں کے مبینہ اغوا اور تاوان طلب کیے جانے کے واقعے نے صوبے میں امن و امان کی صورتحال پر ایک بار پھر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔ حکام کے مطابق 24 جولائی کو نامعلوم مسلح افراد نے ایک کورئیر کمپنی کی گاڑی کو روک کر دو شہریوں کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا، جبکہ بعد ازاں اس واقعے کا الزام کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) پر عائد کیا گیا۔
سرکاری ذرائع کے مطابق اغوا کے دو روز بعد، 26 جولائی کو مبینہ طور پر اغوا کاروں نے کورئیر کمپنی کے مالک سے رابطہ کیا اور مغویوں کی رہائی کے بدلے ڈھائی کروڑ روپے تاوان کا مطالبہ کیا۔ ذرائع کے مطابق عدم ادائیگی کی صورت میں مغویوں کو قتل کرنے کی دھمکی بھی دی گئی۔
تاہم، اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی، اور بی ایل اے کی جانب سے اس حوالے سے فوری طور پر کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
اغوا کا واقعہ
حکام کے مطابق 24 جولائی کو دو شہری ایک نجی کورئیر کمپنی کی گاڑی میں معمول کی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے کہ کھڈ کوچہ کے علاقے میں مسلح افراد نے انہیں روک لیا۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ حملہ آور دونوں افراد اور گاڑی کو اپنے ساتھ لے گئے۔
واقعے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے مغویوں کی بازیابی اور ملزمان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں شروع کر دیں، جبکہ علاقے میں سکیورٹی بھی مزید سخت کر دی گئی۔
تاوان کا مطالبہ
سرکاری مؤقف کے مطابق اغوا کے دو روز بعد مبینہ اغوا کاروں نے کورئیر کمپنی کے مالک سے رابطہ کیا اور مغویوں کی رہائی کے لیے ڈھائی کروڑ روپے تاوان طلب کیا۔
ذرائع کے مطابق مبینہ اغوا کاروں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ رقم ادا نہ کی گئی تو مغویوں کو نقصان پہنچایا جا سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ اس دعوے کی بھی تحقیقات جاری ہیں اور تمام دستیاب شواہد کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔
بی ایل اے پر الزامات
سرکاری بیان میں الزام عائد کیا گیا ہے کہ کالعدم بلوچ لبریشن آرمی (بی ایل اے) کی سرگرمیاں صرف سکیورٹی فورسز پر حملوں تک محدود نہیں رہیں بلکہ ان میں اغوا برائے تاوان، بھتہ خوری، گاڑیاں چھیننے، بینک ڈکیتیوں اور دیگر مجرمانہ سرگرمیوں کے الزامات بھی شامل ہیں۔
حکام کے مطابق ایسے جرائم کا مقصد تنظیم کے لیے مالی وسائل حاصل کرنا اور اپنی سرگرمیوں کو جاری رکھنے کے لیے فنڈنگ فراہم کرنا ہے۔
دوسری جانب، ان الزامات کی آزادانہ تصدیق نہیں ہو سکی، اور تنظیم کی جانب سے اس واقعے پر کوئی باضابطہ مؤقف سامنے نہیں آیا۔
کاروباری طبقے میں تشویش
واقعے کے بعد مقامی کاروباری حلقوں اور نجی کمپنیوں میں تشویش پائی جا رہی ہے۔ کاروباری شخصیات کا کہنا ہے کہ اگر اغوا برائے تاوان جیسے واقعات میں اضافہ ہوا تو اس سے نہ صرف کاروباری سرگرمیاں متاثر ہوں گی بلکہ سرمایہ کاری اور تجارتی سرگرمیوں پر بھی منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
مقامی تاجروں نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ شاہراہوں، کاروباری مراکز اور حساس علاقوں میں سکیورٹی مزید مؤثر بنائی جائے تاکہ شہریوں اور کاروباری اداروں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے۔
عام شہری سب سے زیادہ متاثر
سکیورٹی تجزیہ کاروں کے مطابق اغوا، بھتہ خوری، لوٹ مار اور گاڑیاں چھیننے جیسے جرائم کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں اور مقامی معیشت کو پہنچتا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ اس نوعیت کے واقعات سے نہ صرف خوف و ہراس کی فضا پیدا ہوتی ہے بلکہ روزگار، تجارتی سرگرمیوں اور عوامی نقل و حرکت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کارروائیاں
حکام کے مطابق مغویوں کی بحفاظت بازیابی اور واقعے میں ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے مختلف علاقوں میں انٹیلی جنس کی بنیاد پر کارروائیاں جاری ہیں۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ترجیح ہے، اور اغوا برائے تاوان سمیت ہر قسم کی جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث عناصر کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔
بلوچستان میں سکیورٹی چیلنجز
بلوچستان گزشتہ کئی برسوں سے شورش، دہشت گردی اور مختلف نوعیت کے سکیورٹی چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے نتیجے میں متعدد شدت پسند نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا گیا ہے، تاہم بعض علاقوں میں اب بھی امن و امان کے مسائل موجود ہیں۔
دفاعی و سکیورٹی ماہرین کے مطابق بلوچستان میں دیرپا امن کے لیے سکیورٹی اقدامات کے ساتھ ساتھ اقتصادی ترقی، روزگار کے مواقع، بنیادی سہولیات کی فراہمی اور مقامی آبادی کا اعتماد بحال کرنا بھی اہم ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ کھڈ کوچہ میں پیش آنے والے اس واقعے کی تمام پہلوؤں سے تحقیقات کی جا رہی ہیں اور مغویوں کی بحفاظت بازیابی کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ ذمہ دار عناصر کو قانون کے مطابق انصاف کے کٹہرے میں لانے کے لیے کارروائی جاری رہے گی۔




