
سید عاطف ندیم-پاکستان،وائس آف جرمنی اردو نیوز
اسلام آباد: پاکستان نے خلیجی خطے میں جاری سکیورٹی صورتحال، ایران اور امریکہ کے درمیان بڑھتی ہوئی کشیدگی اور مشرقِ وسطیٰ میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ تمام علاقائی اور بین الاقوامی تنازعات کا پائیدار حل صرف سفارت کاری، مذاکرات اور سیاسی مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ پاکستان نے ایک بار پھر اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ وہ خطے میں امن و استحکام، کشیدگی میں کمی اور عالمی بحری تجارت کے تحفظ کے لیے اپنا مثبت اور فعال سفارتی کردار جاری رکھے گا۔
یہ بات دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی نے بدھ کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس بریفنگ کے دوران مختلف ملکی و غیر ملکی صحافیوں کے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہی۔ انہوں نے خلیجی خطے، غزہ، فلسطین، ایران۔امریکہ تعلقات، پاکستان کی سفارتی سرگرمیوں، شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں پاکستان کے کردار اور کویت کے ساتھ دوطرفہ تعلقات پر تفصیلی بریفنگ دی۔
خطے میں صورتحال پہلے سے بہتر مگر اب بھی غیر یقینی
ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی نے کہا کہ اگرچہ ماضی قریب کے مقابلے میں خلیجی خطے کی سکیورٹی صورتحال میں کچھ بہتری ضرور آئی ہے، تاہم مجموعی حالات اب بھی غیر یقینی ہیں اور معمولی غلطی بھی پورے خطے کے امن کو متاثر کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان صورتحال پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہے اور خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے تمام متعلقہ ممالک کے ساتھ قریبی رابطے میں ہے۔
مذاکرات ہی واحد راستہ
ترجمان نے واضح کیا کہ پاکستان کا اصولی اور مستقل مؤقف ہے کہ طاقت کے استعمال، دھمکیوں یا فوجی کارروائیوں کے بجائے تمام تنازعات کا حل صرف مذاکرات کے ذریعے ممکن ہے۔
انہوں نے کہا:
"ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات جاری ہیں، اور پاکستان ان سفارتی کوششوں کی حمایت کرتا ہے۔ پاکستان سمجھتا ہے کہ کشیدگی میں کمی، اعتماد سازی اور سیاسی بات چیت ہی خطے میں دیرپا امن کی ضمانت بن سکتی ہے۔”
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان آئندہ بھی ایسے ہر سفارتی عمل کی حمایت اور حوصلہ افزائی کرتا رہے گا جو خطے کو مزید کشیدگی سے بچا سکے۔
پاکستان کا فعال سفارتی کردار جاری
طاہر اندرابی نے بتایا کہ پاکستان صرف بیانات تک محدود نہیں بلکہ عملی سفارتی کوششوں میں بھی سرگرم ہے۔
انہوں نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف اور نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے حالیہ دنوں سعودی عرب سمیت متعدد دوست اور برادر ممالک کی قیادت اور وزرائے خارجہ سے مسلسل رابطے کیے ہیں تاکہ خطے میں امن کے قیام کے لیے مشترکہ حکمت عملی اختیار کی جا سکے۔
ان کے مطابق پاکستان تمام متعلقہ فریقوں کو تحمل، بردباری اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے پر زور دیتا رہے گا۔
بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز کی اہمیت
دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ پاکستان بحیرہ احمر اور آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کے تسلسل کو انتہائی اہم سمجھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ان سمندری راستوں میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کی معیشت، توانائی کی فراہمی اور بین الاقوامی تجارت پر منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ پاکستان عالمی تجارت کے محفوظ اور بلا تعطل تسلسل کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ تعاون جاری رکھے گا۔
غزہ اور فلسطین کی صورتحال پر شدید تشویش
پریس بریفنگ کے دوران ترجمان نے غزہ میں جاری انسانی بحران اور فلسطینی عوام کی مشکلات پر بھی گہری تشویش کا اظہار کیا۔
انہوں نے مقبوضہ فلسطینی علاقوں، خصوصاً غزہ اور مقبوضہ یروشلم میں اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی بھرپور حمایت جاری رکھے گا۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان نے آٹھ عرب اور اسلامی ممالک کے مشترکہ بیان کی مکمل حمایت کی ہے جس میں مقبوضہ یروشلم میں اسرائیلی اقدامات، مذہبی مقامات پر پابندیوں اور فلسطینی عوام کے خلاف کارروائیوں کی شدید مذمت کی گئی ہے۔
ترجمان نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ فوری جنگ بندی، انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی اور دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔
کویت کے ساتھ تعلقات مزید مضبوط
طاہر اندرابی نے اپنی بریفنگ میں کویت کے وزیر خارجہ کے حالیہ دورۂ اسلام آباد کا بھی ذکر کیا اور بتایا کہ اس دورے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، دفاعی تعاون اور علاقائی امور پر مفصل تبادلہ خیال ہوا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان اور کویت کے درمیان برادرانہ تعلقات مزید مضبوط ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک اقتصادی تعاون کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھانے کے خواہاں ہیں۔
شنگھائی تعاون تنظیم میں پاکستان کا متحرک کردار
ترجمان نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) میں پاکستان کے فعال کردار پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ پاکستان علاقائی روابط، اقتصادی تعاون، انسداد دہشت گردی، توانائی، تجارت اور باہمی ترقی کے مختلف منصوبوں میں بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایس سی او کو خطے کے امن، استحکام اور مشترکہ خوشحالی کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم سمجھتا ہے۔
عالمی برادری سے ذمہ دارانہ کردار ادا کرنے کی اپیل
دفتر خارجہ نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ خلیجی خطے میں مزید کشیدگی سے بچنے کے لیے ذمہ دارانہ کردار ادا کرے اور تمام فریقوں کو تحمل، مکالمے اور سفارتی ذرائع اختیار کرنے کی ترغیب دے۔
ترجمان نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں امن صرف علاقائی ممالک ہی نہیں بلکہ پوری دنیا کے مفاد میں ہے، کیونکہ کسی بھی بڑے تصادم کے اثرات عالمی معیشت، توانائی کی منڈیوں اور بین الاقوامی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
پاکستان کا واضح مؤقف
ترجمان دفتر خارجہ نے اپنے اختتامی کلمات میں کہا کہ پاکستان ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر ہمیشہ امن، مذاکرات، باہمی احترام، خودمختاری اور بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کا حامی رہا ہے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان مستقبل میں بھی ایران اور امریکہ سمیت تمام متعلقہ فریقین کے درمیان کشیدگی کم کرنے، خطے میں استحکام کو فروغ دینے اور عالمی امن کے قیام کے لیے اپنی سفارتی کوششیں جاری رکھے گا، کیونکہ پاکستان کا یقین ہے کہ طاقت کے استعمال کے بجائے مذاکرات اور سفارت کاری ہی ہر بحران کا دیرپا اور قابلِ قبول حل فراہم کر سکتے ہیں۔



