
آبنائے ہرمز جلد کھول دی جائے گی، ورنہ ایران کو سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑے گا: ٹرمپ
دونوں ممالک کے درمیان "بہت اچھی بات چیت" جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ سفارتی عمل کسی مثبت نتیجے تک پہنچے گا
سید عاطف ندیم-ادارت
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز بہت جلد بحری آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی، تاہم اگر ایران نے اس حوالے سے پیش رفت نہ کی اور جاری سفارتی کوششیں ناکام ہوئیں تو اسے سخت فوجی کارروائی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب خطے میں کشیدگی برقرار ہے اور ایران، امریکہ اور عمان کے درمیان مختلف سفارتی رابطے جاری ہیں۔
فوکس نیوز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ سفارتی رابطوں کے دوران ایک بڑے فوجی تصادم کو وقتی طور پر ٹال دیا گیا۔ ان کے مطابق صورتحال اس نہج پر پہنچ چکی تھی جہاں دوسری عالمی جنگ کے بعد کی سب سے بڑی فوجی کارروائی کا امکان پیدا ہو گیا تھا، تاہم بعد ازاں ایرانی حکام نے رابطہ کر کے مذاکرات کی خواہش ظاہر کی۔
ٹرمپ نے کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ بحران کا حل سفارتی ذرائع سے نکلے، لیکن اگر ایران مذاکراتی عمل سے دستبردار ہوا یا آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمد و رفت کی راہ میں رکاوٹیں برقرار رکھیں تو امریکہ سخت ردعمل دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر معاہدہ نہ ہو سکا تو خطے میں کشیدگی مزید بڑھ سکتی ہے۔
ایران کے جوہری پروگرام پر سخت مؤقف
امریکی صدر نے ایک مرتبہ پھر اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ ایران کو کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ ان کے مطابق ممکنہ معاہدے میں ایسی مضبوط ضمانتیں شامل ہوں گی جو اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ تہران مستقبل میں جوہری ہتھیار تیار نہ کر سکے۔
انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان "بہت اچھی بات چیت” جاری ہے اور انہیں امید ہے کہ سفارتی عمل کسی مثبت نتیجے تک پہنچے گا، تاہم اگر ایسا نہ ہوا تو یہ نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کے لیے افسوسناک ہوگا۔
ایران نے براہ راست مذاکرات کی تردید کر دی
دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے امریکی صدر کے دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان کوئی براہ راست مذاکرات نہیں ہو رہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایران کی بات چیت صرف سلطنت عمان کے ساتھ جاری ہے، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بحری جہازوں کی محفوظ آمد و رفت کے لیے ایک ایسا راستہ طے کرنا ہے جو دونوں فریقوں کے لیے قابل قبول ہو۔
بقائی کے مطابق زیر غور مجوزہ راستہ نہ تو شمالی بحری گزرگاہ ہوگا اور نہ ہی جنوبی، بلکہ ایسا متوازن راستہ ہوگا جو دونوں ممالک کی خودمختاری، بین الاقوامی قوانین، قومی سلامتی اور خطے کے استحکام کو مدنظر رکھتے ہوئے تشکیل دیا جائے گا۔
آبنائے ہرمز پر ایران کی سخت نگرانی
رپورٹس کے مطابق جنگ کے آغاز کے بعد ایران نے عملی طور پر آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر اپنا کنٹرول مزید سخت کر دیا ہے۔ اس وقت بین الاقوامی تجارتی اور تیل بردار جہازوں کو ایرانی رابطہ کاری کے ذریعے مخصوص بحری راستے استعمال کرنے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔
ایران نے واضح کیا ہے کہ جنگ سے پہلے کی بحری نقل و حرکت کا نظام فوری طور پر بحال نہیں ہوگا اور آبنائے استعمال کرنے والے جہازوں سے "سروس فیس” وصول کی جائے گی۔
دوسری جانب امریکہ اور اس کے اتحادی اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے بین الاقوامی سمندری قوانین کے تحت آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمد و رفت کے حق پر زور دے رہے ہیں۔ واشنگٹن کا کہنا ہے کہ عالمی تجارت کے اس اہم راستے پر کسی ایک ملک کی جانب سے اضافی پابندیاں قابل قبول نہیں۔
جون کی مفاہمتی یادداشت اور اس کی ناکامی
یاد رہے کہ جون میں ایران، امریکہ اور ثالثی کردار ادا کرنے والے عمان کے درمیان ایک مفاہمتی یادداشت پر دستخط کیے گئے تھے، جس کے تحت ساٹھ روزہ سفارتی عمل کا آغاز ہوا تھا۔ اس عمل کا مقصد مشرق وسطیٰ میں جاری جنگ کا مستقل خاتمہ، ایران کے جوہری پروگرام سمیت دیگر حساس معاملات پر پیش رفت اور آبنائے ہرمز میں عالمی بحری تجارت کی بحالی تھا۔
اس معاہدے کے بعد کچھ عرصے کے لیے بحری آمد و رفت معمول پر آ گئی تھی، تاہم جولائی کے آغاز میں دوبارہ عسکری کارروائیاں شروع ہونے کے باعث یہ مفاہمت برقرار نہ رہ سکی اور کشیدگی ایک بار پھر شدت اختیار کر گئی۔
بحری نقل و حرکت پر نئی پابندیاں
امریکی حملوں کے دوبارہ آغاز کے بعد ایران نے آبنائے ہرمز میں بحری نقل و حرکت پر مزید سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ مختلف رپورٹس کے مطابق ایرانی اجازت کے بغیر گزرنے کی کوشش کرنے والے متعدد جہاز حملوں اور خطرناک حالات کا سامنا کرتے رہے، جس سے عالمی شپنگ کمپنیوں اور توانائی کی منڈیوں میں تشویش پیدا ہوئی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی سطح پر خام تیل اور قدرتی گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ اس راستے میں کسی بھی قسم کی رکاوٹ نہ صرف مشرق وسطیٰ بلکہ عالمی توانائی کی منڈی، بین الاقوامی تجارت اور تیل کی قیمتوں پر بھی گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
خطے میں غیر یقینی صورتحال برقرار
سفارتی کوششوں کے باوجود امریکہ اور ایران کے درمیان اعتماد کا فقدان برقرار ہے۔ ایک جانب واشنگٹن مذاکرات کے ذریعے بحران کے حل کی بات کر رہا ہے، جبکہ دوسری جانب سخت فوجی کارروائی کی وارننگ بھی دے رہا ہے۔ ایران مسلسل اس بات پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنی خودمختاری، قومی سلامتی اور بحری حدود کے تحفظ پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق آئندہ چند ہفتے مشرق وسطیٰ کی صورتحال کے لیے انتہائی اہم ثابت ہو سکتے ہیں۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب ہو جاتی ہیں تو آبنائے ہرمز میں بحری سرگرمیاں معمول پر آنے اور خطے میں کشیدگی کم ہونے کے امکانات پیدا ہو سکتے ہیں، تاہم مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایک نئی فوجی کشیدگی نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتی ہے۔



