مشرق وسطیٰتازہ ترین

فلسطینی سرزمین پر اسرائیل کے تمام یکطرفہ اقدامات باطل ہیں، القدس کا تحفظ پائیدار امن کی بنیادی شرط ہے: سعودی وزیر خارجہ

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ امن مذاکرات اور دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

سید عاطف ندیم-ادارت

سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے تمام یکطرفہ اقدامات کو بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے منافی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اقدامات کی کوئی قانونی حیثیت نہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ القدس الشریف کا تاریخی، مذہبی اور قانونی تشخص محفوظ رکھنا خطے میں پائیدار امن کے قیام کے لیے بنیادی شرط ہے، جبکہ غزہ میں جاری اسرائیلی کارروائیوں اور انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ان کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔

یہ بات انہوں نے اردن کے دارالحکومت عمان میں القدس اور اس کے مقدس مقامات کی حمایت کے لیے منعقد ہونے والے وزارتی اجلاس کے موقع پر کہی، جہاں متعدد عرب اور اسلامی ممالک کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں فلسطینی عوام کی حمایت، مقدس مقامات کے تحفظ اور مشرق وسطیٰ کی موجودہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔

غزہ میں انسانی بحران پر شدید تشویش

شہزادہ فیصل بن فرحان نے اپنے خطاب میں کہا کہ غزہ کی پٹی میں جاری فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں انسانی صورتحال انتہائی سنگین ہو چکی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ عام شہری، خواتین اور بچے مسلسل مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ بنیادی سہولیات، طبی خدمات، خوراک اور صاف پانی کی فراہمی بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔

انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی انسانی قوانین پر عمل درآمد کو یقینی بنانے، شہری آبادی کے تحفظ، فوری جنگ بندی اور متاثرہ علاقوں تک انسانی امداد کی بلا رکاوٹ رسائی کے لیے مؤثر کردار ادا کرے۔

القدس کا تحفظ امن کی بنیاد قرار

سعودی وزیر خارجہ نے کہا کہ القدس الشریف تینوں ابراہیمی مذاہب کے ماننے والوں کے لیے غیر معمولی مذہبی اور تاریخی اہمیت رکھتا ہے، اس لیے شہر کی قانونی اور تاریخی حیثیت میں کسی بھی قسم کی یکطرفہ تبدیلی نہ صرف بین الاقوامی قوانین بلکہ امن کے امکانات کے بھی منافی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ سعودی عرب فلسطینی عوام کے جائز حقوق، آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کے قیام اور مشرقی القدس کو اس کا دارالحکومت بنانے کے مؤقف پر بدستور قائم ہے۔ ان کے مطابق مسئلہ فلسطین کا منصفانہ اور جامع حل ہی مشرق وسطیٰ میں دیرپا امن اور استحکام کی ضمانت فراہم کر سکتا ہے۔

اسرائیلی اقدامات پر قانونی مؤقف

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ فلسطینی علاقوں میں اسرائیل کی جانب سے کیے جانے والے یکطرفہ اقدامات، بشمول مقبوضہ علاقوں میں انتظامی تبدیلیاں اور دیگر اقدامات، بین الاقوامی قوانین اور اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کوئی قانونی حیثیت نہیں رکھتے۔

انہوں نے کہا کہ ایسے اقدامات نہ صرف خطے میں کشیدگی کو بڑھاتے ہیں بلکہ امن مذاکرات اور دو ریاستی حل کے امکانات کو بھی نقصان پہنچاتے ہیں۔

اردن میں اعلیٰ سطحی دوطرفہ ملاقات

وزارتی اجلاس کے موقع پر سعودی وزیر خارجہ نے اردن کے نائب وزیر اعظم، وزیر خارجہ اور امورِ تارکین وطن ایمن الصفدی سے بھی ملاقات کی۔ ملاقات میں دونوں برادر ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات، اقتصادی و سیاسی تعاون، علاقائی سلامتی اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔

دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور اردن کے تاریخی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے، مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے مشترکہ سفارتی کوششوں کو جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔

غزہ اور مغربی کنارے کی صورتحال پر مشاورت

ملاقات کے دوران مغربی کنارے اور غزہ کی تازہ صورتحال کا بھی جائزہ لیا گیا۔ دونوں وزرائے خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ فلسطینی علاقوں میں کشیدگی کم کرنے، انسانی امداد کی فراہمی بہتر بنانے اور سیاسی حل کی جانب پیش رفت کے لیے علاقائی اور بین الاقوامی سطح پر مربوط سفارتی کوششوں کی ضرورت ہے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ موجودہ بحران کا دیرپا حل صرف مذاکرات، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور اقوام متحدہ کی متعلقہ قراردادوں پر عمل درآمد کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

سعودی عرب کا مستقل مؤقف

شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا کہ سعودی عرب مسئلہ فلسطین کے حوالے سے اپنے تاریخی اور مستقل مؤقف پر قائم ہے اور فلسطینی عوام کے جائز حقوق کی حمایت جاری رکھے گا۔ انہوں نے کہا کہ ریاض خطے میں امن، استحکام اور انصاف کے قیام کے لیے عرب اور اسلامی ممالک کے ساتھ قریبی تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ دو ریاستی حل، فلسطینی عوام کے حق خودارادیت کا احترام، مقبوضہ علاقوں میں کشیدگی کا خاتمہ اور القدس کے تاریخی و قانونی تشخص کا تحفظ ہی مشرق وسطیٰ میں پائیدار امن کی بنیاد بن سکتا ہے۔

علاقائی سفارت کاری میں تیزی

تجزیہ کاروں کے مطابق غزہ میں جاری بحران، مغربی کنارے کی بدلتی صورتحال اور القدس کے معاملے پر عرب ممالک کے درمیان سفارتی رابطوں میں حالیہ دنوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ سعودی عرب اور اردن سمیت متعدد علاقائی ممالک اس بات پر زور دے رہے ہیں کہ کشیدگی کے خاتمے، انسانی بحران کے حل اور سیاسی مذاکرات کی بحالی کے لیے مشترکہ سفارتی حکمت عملی اختیار کی جائے تاکہ خطے میں دیرپا امن اور استحکام کی راہ ہموار ہو سکے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button