یورپ

لندن کے مشہور سیاحتی علاقے کوونٹ گارڈن کے قریب چاقو حملہ، چار افراد زخمی، خاتون گرفتار، پولیس نے ذہنی صحت کے پہلو سے بھی تحقیقات شروع کر دیں

قابو میں آنے پر پولیس نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ فی الحال کسی اضافی خطرے کی اطلاع نہیں ہے اور علاقے میں معمول کی سرگرمیاں بتدریج بحال کی جا رہی ہیں۔

ناصف اعوان-ادارت

لندن: برطانیہ کے دارالحکومت لندن میں بدھ کے روز شہر کے معروف سیاحتی علاقے کوونٹ گارڈن کے قریب ایک خاتون کی جانب سے مبینہ چاقو حملے میں چار افراد زخمی ہو گئے، جس کے بعد پولیس نے فوری کارروائی کرتے ہوئے مشتبہ خاتون کو گرفتار کر لیا۔ حکام کے مطابق ابتدائی تحقیقات سے اشارہ ملتا ہے کہ واقعہ ممکنہ طور پر ذہنی صحت سے متعلق مسائل سے منسلک ہو سکتا ہے، تاہم تمام پہلوؤں سے تفتیش جاری ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق واقعہ لندن کے مصروف علاقے اینڈل سٹریٹ پر پیش آیا، جو دنیا بھر میں مشہور سیاحتی مقام کوونٹ گارڈن سکوائر سے تقریباً ایک چوتھائی میل کے فاصلے پر واقع ہے۔ یہ علاقہ روزانہ ہزاروں مقامی اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد کا مرکز رہتا ہے اور اپنی تاریخی عمارتوں، خریداری مراکز، ریستورانوں، تھیٹروں، سٹریٹ پرفارمنس اور فنکارانہ سرگرمیوں کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔

حملے کے بعد پولیس کی فوری کارروائی

لندن کی میٹروپولیٹن پولیس نے واقعے کی اطلاع ملتے ہی علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور چند ہی لمحوں میں مشتبہ خاتون کو حراست میں لے لیا۔ پولیس کے مطابق گرفتار خاتون کی عمر تقریباً 40 سال ہے اور اسے خطرناک ہتھیار رکھنے اور چار افراد پر حملہ کرنے کے شبہے میں گرفتار کیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ جائے وقوعہ سے ایک قینچی بھی برآمد کی گئی ہے، جس کے بارے میں شبہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اسے حملے میں استعمال کیا گیا۔ فرانزک ماہرین نے قینچی اور دیگر شواہد اپنی تحویل میں لے لیے ہیں تاکہ ان کا سائنسی تجزیہ کیا جا سکے۔

پولیس کے مطابق اس مرحلے پر واقعے کے محرکات کا حتمی تعین نہیں کیا گیا، تاہم ابتدائی شواہد یہ ظاہر کرتے ہیں کہ حملہ کسی منظم دہشت گردانہ کارروائی کے بجائے ممکنہ طور پر ذہنی صحت سے متعلق مسئلے کا نتیجہ ہو سکتا ہے۔ اس کے باوجود تفتیش کار تمام امکانات کا جائزہ لے رہے ہیں۔

زخمیوں کو فوری طبی امداد

لندن ایمبولینس سروس نے بتایا کہ حملے میں زخمی ہونے والے چار افراد کی عمریں 34، 39، 42 اور 52 سال ہیں۔

ریسکیو ٹیمیں چند ہی منٹوں میں جائے وقوعہ پر پہنچ گئیں اور زخمیوں کو ابتدائی طبی امداد فراہم کرنے کے بعد انہیں قریبی ٹراما سینٹرز منتقل کر دیا گیا، جہاں ڈاکٹروں کی نگرانی میں ان کا علاج جاری ہے۔

حکام نے زخمیوں کی شناخت یا ان کی قومیت سے متعلق معلومات جاری نہیں کیں، تاہم ابتدائی اطلاعات کے مطابق ان میں سے کسی کی حالت فوری طور پر جان لیوا قرار نہیں دی گئی۔

مصروف سیاحتی علاقے میں خوف و ہراس

واقعے کے بعد اینڈل سٹریٹ اور اس سے ملحقہ علاقوں میں کچھ دیر کے لیے خوف و ہراس پھیل گیا۔ پولیس نے احتیاطی طور پر علاقے کے بعض حصوں کو عارضی طور پر بند کر دیا تاکہ فرانزک ٹیمیں شواہد اکٹھے کر سکیں اور تفتیشی کارروائی بلا رکاوٹ جاری رکھی جا سکے۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے فوراً بعد پولیس اور ایمبولینس کی بڑی تعداد موقع پر پہنچ گئی، جبکہ متعدد سیاح اور مقامی شہری حفاظتی اقدامات کے تحت قریبی عمارتوں اور دکانوں میں منتقل ہو گئے۔

بعد ازاں صورتحال قابو میں آنے پر پولیس نے عوام کو یقین دہانی کرائی کہ فی الحال کسی اضافی خطرے کی اطلاع نہیں ہے اور علاقے میں معمول کی سرگرمیاں بتدریج بحال کی جا رہی ہیں۔

ذہنی صحت کے پہلو سے تحقیقات

میٹروپولیٹن پولیس نے اپنے ابتدائی بیان میں کہا کہ تفتیش کار مشتبہ خاتون کی ذہنی حالت اور اس کے طبی پس منظر کا بھی جائزہ لے رہے ہیں۔

حکام کے مطابق اس وقت ایسا کوئی ثبوت سامنے نہیں آیا جس سے واقعے کو دہشت گردی یا کسی منظم گروہ کی کارروائی قرار دیا جا سکے، تاہم تفتیش مکمل ہونے تک کسی بھی امکان کو رد نہیں کیا جا رہا۔

پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ اگر کسی شخص نے واقعے کی ویڈیو بنائی ہے یا اس کے پاس حملے سے متعلق کوئی معلومات موجود ہیں تو وہ تحقیقات میں تعاون کے لیے پولیس سے رابطہ کرے۔

کوونٹ گارڈن کی اہمیت

کوونٹ گارڈن لندن کے قدیم اور معروف ترین سیاحتی مراکز میں شمار ہوتا ہے، جہاں سال بھر دنیا بھر سے لاکھوں سیاح آتے ہیں۔ یہ علاقہ اپنی تاریخی مارکیٹ، تھیٹر ڈسٹرکٹ، اعلیٰ درجے کی خریداری، ریستورانوں، کیفے، موسیقی اور سٹریٹ آرٹسٹوں کی پرفارمنس کی وجہ سے عالمی شہرت رکھتا ہے۔

اس علاقے میں روزانہ بڑی تعداد میں سیاحوں کی موجودگی کے باعث سکیورٹی انتظامات معمول کے مطابق سخت رکھے جاتے ہیں، تاہم بدھ کے روز پیش آنے والے اس واقعے نے مقامی انتظامیہ کو ایک بار پھر عوامی مقامات پر حفاظتی اقدامات کا جائزہ لینے پر مجبور کر دیا ہے۔

تحقیقات جاری

پولیس نے تصدیق کی ہے کہ مشتبہ خاتون سے پوچھ گچھ جاری ہے اور واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔ فرانزک ماہرین جائے وقوعہ سے حاصل کیے گئے شواہد کا تجزیہ کر رہے ہیں، جبکہ تفتیش کار سی سی ٹی وی فوٹیج، عینی شاہدین کے بیانات اور دیگر دستیاب معلومات کی مدد سے حملے کے محرکات اور مکمل حالات معلوم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ہی واقعے کی نوعیت اور ممکنہ قانونی کارروائی سے متعلق مزید معلومات عوام کے سامنے لائی جائیں گی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button