پاکستاناہم خبریں

نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر عملدرآمد تیز کرنے کا فیصلہ، وزیراعظم کی نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع بڑھانے کی ہدایت

وزیراعظم نے واضح کیا کہ نوجوانوں کے لیے صرف تربیتی پروگرام شروع کرنا کافی نہیں بلکہ تربیت کو حقیقی روزگار، کاروباری مواقع اور ملکی و عالمی مارکیٹ کی طلب سے جوڑنا ضروری ہے۔

سید عاطف ندیم-ادارت

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے نوجوانوں کے لیے باعزت اور پائیدار روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک کے باصلاحیت اور ہنرمند نوجوان پاکستان کا قیمتی اثاثہ ہیں، جنہیں ملکی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے لیے جدید مہارتوں، معیاری تربیت اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کرنا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔

وزیراعظم نے نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے نفاذ کے روڈ میپ پر پیش رفت کا جائزہ لینے کے لیے اسلام آباد میں منعقدہ اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت کی، جہاں انہیں نوجوانوں کے لیے روزگار، فنی تربیت، ڈیجیٹل مہارتوں، بیرون ملک ملازمتوں اور کاروباری مواقع کے حوالے سے کیے جانے والے اقدامات پر تفصیلی بریفنگ دی گئی۔

نوجوانوں کے لیے مربوط حکمت عملی تیار کرنے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے متعلقہ وزارتوں اور اداروں کو ہدایت کی کہ نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے ایک جامع، مربوط اور نتیجہ خیز حکمت عملی پر مؤثر انداز میں عملدرآمد یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے پالیسی پر عملدرآمد کی رفتار اور نتائج کا باقاعدگی سے جائزہ لینے کے لیے ماہانہ بنیادوں پر جائزہ اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت بھی کی تاکہ مختلف وزارتوں اور اداروں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جا سکے اور جہاں ضرورت ہو وہاں فوری اقدامات کیے جائیں۔

وزیراعظم نے واضح کیا کہ نوجوانوں کے لیے صرف تربیتی پروگرام شروع کرنا کافی نہیں بلکہ تربیت کو حقیقی روزگار، کاروباری مواقع اور ملکی و عالمی مارکیٹ کی طلب سے جوڑنا ضروری ہے۔

بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے نوجوان خصوصی توجہ کا مرکز

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے خاص طور پر بلوچستان اور خیبرپختونخوا کے نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دینے کی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ ملک کے تمام علاقوں کے نوجوانوں کو ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرنا ضروری ہے اور پسماندہ یا کم ترقی یافتہ علاقوں کے نوجوانوں کو تعلیم، ہنر، روزگار اور کاروبار کے میدان میں آگے بڑھنے کے لیے خصوصی سہولتیں فراہم کی جانی چاہئیں۔

وزیراعظم کی ہدایت کے مطابق روزگار کے پروگراموں کو علاقائی ضروریات اور مقامی معیشت سے ہم آہنگ کرنے پر بھی توجہ دی جائے گی تاکہ تربیت حاصل کرنے والے نوجوانوں کو ان کے اپنے علاقوں میں بھی روزگار اور کاروبار کے مواقع میسر آسکیں۔

خواتین کو روزگار کے مواقع فراہم کرنے پر زور

وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوان خواتین کو بھی روزگار اور معاشی سرگرمیوں میں زیادہ سے زیادہ شامل کرنے پر زور دیا۔

انہوں نے ہدایت کی کہ پالیسی کے تحت نوجوانوں، بالخصوص خواتین، کو ایسی جدید مہارتیں فراہم کی جائیں جو انہیں ملکی اور بین الاقوامی روزگار کی منڈی میں مسابقت کے قابل بنا سکیں۔

حکومت کی جانب سے نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت لیبر فورس میں خواتین کی شرکت بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا گیا ہے۔ وزیراعظم نے نوجوان خواتین کو تعلیم، ٹیکنالوجی، فنی تربیت، کاروبار اور اسٹارٹ اپس کے شعبوں میں آگے بڑھنے کے لیے مواقع فراہم کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

NAVTTC میں اصلاحات اور عالمی مارکیٹ کے مطابق تربیت

اجلاس کو بتایا گیا کہ نیشنل ووکیشنل اینڈ ٹیکنیکل ٹریننگ کمیشن (NAVTTC) میں ادارہ جاتی اصلاحات متعارف کرائی گئی ہیں تاکہ پاکستان کی ہنرمند افرادی قوت کو ملکی اور بین الاقوامی صنعتوں کی ضروریات کے مطابق تیار کیا جا سکے۔

وزیراعظم نے اس امر پر زور دیا کہ فنی و تکنیکی تربیت کے پروگرام صرف روایتی شعبوں تک محدود نہ رہیں بلکہ عالمی سطح پر تیزی سے ابھرنے والے شعبوں، جدید ٹیکنالوجی، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور دیگر مستقبل کی مہارتوں کو بھی تربیتی پروگراموں کا حصہ بنایا جائے۔

بریفنگ میں بتایا گیا کہ NAVTTC نوجوانوں اور کارکنوں کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ سرٹیفیکیشن حاصل کرنے میں مدد دے رہا ہے جبکہ بیرون ملک ملازمت کی منڈیوں میں درکار زبانوں کی تربیت بھی فراہم کی جا رہی ہے۔

بیرون ملک روزگار کے لیے مارکیٹ ڈرِون تربیت

حکام نے اجلاس کو بتایا کہ نوجوانوں کو بیرون ملک روزگار کے مواقع فراہم کرنے کے لیے مختلف ممالک کی مارکیٹ کی طلب کا جائزہ لے کر اسی کے مطابق تربیتی پروگرام ترتیب دیے جا رہے ہیں۔

اس حکمت عملی کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان سے بیرون ملک جانے والے ہنرمند کارکنوں کے پاس ایسی مہارتیں اور سرٹیفیکیشن موجود ہوں جن کی عالمی سطح پر طلب ہو۔

وزیراعظم نے ہدایت کی کہ بیرون ملک روزگار کے لیے تربیتی پروگراموں کو عالمی مارکیٹ کی حقیقی ضروریات سے ہم آہنگ کیا جائے اور نوجوانوں کو ملازمت کے حصول کے لیے ضروری تکنیکی، پیشہ ورانہ اور لسانی مہارتیں فراہم کی جائیں۔

SMEDA کے ذریعے نوجوانوں کے لیے کاروباری مواقع

اجلاس میں سمال اینڈ میڈیم انٹرپرائزز ڈویلپمنٹ اتھارٹی (SMEDA) کے کردار پر بھی بریفنگ دی گئی۔

وزیراعظم نے نوجوانوں کو ملازمت تلاش کرنے والوں کے ساتھ ساتھ مستقبل کے کاروباری افراد کے طور پر تیار کرنے کی ضرورت پر زور دیا۔

انہوں نے کہا کہ نوجوانوں میں کاروباری صلاحیت کو فروغ دے کر نہ صرف بے روزگاری میں کمی لائی جا سکتی ہے بلکہ نوجوان خود بھی دوسروں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

اس سلسلے میں چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار، اسٹارٹ اپس، کاروباری مشاورت، مارکیٹ تک رسائی اور جدید کاروباری مہارتوں کی فراہمی کو اہم قرار دیا گیا۔

ڈیجیٹل یوتھ ہب سے روزگار کی معلومات ایک پلیٹ فارم پر

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ ڈیجیٹل یوتھ ہب کے ذریعے نوجوانوں کو ملکی اور بین الاقوامی روزگار کے مواقع کے بارے میں معلومات ایک ہی پلیٹ فارم پر فراہم کی جا رہی ہیں۔

اس پلیٹ فارم کے ذریعے نوجوان ملازمتوں، تربیتی پروگراموں اور دیگر متعلقہ مواقع کے بارے میں معلومات حاصل کر سکیں گے۔

حکومت کا مقصد ڈیجیٹل ٹیکنالوجی کو استعمال کرتے ہوئے نوجوانوں اور روزگار کے مواقع کے درمیان موجود معلوماتی خلا کو کم کرنا ہے تاکہ نوجوان بروقت اور درست معلومات کی بنیاد پر اپنے کیریئر کے فیصلے کر سکیں۔

تعلیمی اداروں میں یوتھ ڈیولپمنٹ سیلز

اجلاس کو بتایا گیا کہ تعلیمی اداروں میں یوتھ ڈیولپمنٹ سیلز قائم کیے جا رہے ہیں تاکہ طلبہ کو تعلیم مکمل کرنے کے بعد روزگار اور کیریئر کے حوالے سے بہتر رہنمائی فراہم کی جا سکے۔

ان سیلز کے ذریعے طلبہ کو کیریئر کونسلنگ، پیشہ ورانہ رہنمائی، ہنر کی ترقی اور دستیاب ملازمتوں و تربیتی پروگراموں کے بارے میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔

وزیراعظم نے اس اقدام کو اہم قرار دیتے ہوئے ہدایت کی کہ نوجوانوں کو تعلیمی مرحلے ہی سے مستقبل کے روزگار اور کیریئر کے لیے تیار کیا جائے۔

پالیسی کے فوائد سے آگاہی کے لیے مہم چلانے کی ہدایت

وزیراعظم شہباز شریف نے نوجوانوں کو نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے تحت دستیاب سہولیات اور مواقع سے آگاہ کرنے کے لیے ملک گیر آگاہی مہم چلانے کی بھی ہدایت کی۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوانوں کو حکومتی پروگراموں، تربیتی مواقع، ملازمتوں اور کاروباری سہولتوں کے بارے میں معلومات ہی حاصل نہ ہوں تو ان پروگراموں کے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔

اس لیے وزارتوں اور متعلقہ اداروں کو سوشل میڈیا، ڈیجیٹل پلیٹ فارمز، تعلیمی اداروں اور دیگر ذرائع کے ذریعے نوجوانوں تک معلومات پہنچانے کی ہدایت کی گئی۔

وزیراعظم یوتھ پروگرام کی پیش رفت

اجلاس میں وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان نے وزیراعظم کی ہدایات کے مطابق اب تک کیے جانے والے اقدامات سے آگاہ کیا۔

انہوں نے نوجوانوں کے لیے تعلیم، ہنر، روزگار، انٹرپرینیورشپ اور ٹیکنالوجی کے شعبوں میں جاری پروگراموں اور نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی کے نفاذ کے لیے تیار کیے گئے روڈ میپ کے مختلف پہلوؤں پر بریفنگ دی۔

ٹیکنیکل ایجوکیشن اور مصنوعی ذہانت پر توجہ

حکومت کی نوجوانوں کے لیے روزگار کی حکمت عملی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب وزیراعظم شہباز شریف نوجوانوں کو مستقبل کی عالمی معیشت کے لیے تیار کرنے کے لیے ٹیکنیکل ایجوکیشن، انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت اور انٹرپرینیورشپ پر مسلسل زور دے رہے ہیں۔

12 اگست کو عالمی یوم نوجوانان کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا تھا کہ نوجوانوں کو جدید عالمی جاب مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تیار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا تھا کہ معیاری تعلیم تک رسائی میں موجود فرق کو کم کیا جائے تاکہ نوجوانوں کے مستقبل کا تعین ان کے خاندانی پس منظر کے بجائے ان کی صلاحیت اور قابلیت سے ہو۔

لیپ ٹاپ، بیرون ملک تربیت اور دانش اسکولز

وزیراعظم نے حکومت کی جانب سے نوجوانوں کے لیے جاری مختلف اقدامات کا بھی حوالہ دیا، جن میں لیپ ٹاپ کی تقسیم، ابھرتے ہوئے شعبوں میں بیرون ملک تربیت اور پسماندہ علاقوں کے طلبہ کو معیاری تعلیم کے بہتر مواقع فراہم کرنے کے لیے دانش اسکولز کے دائرہ کار میں توسیع شامل ہے۔

ان اقدامات کا مقصد نوجوانوں کو جدید علم، ٹیکنالوجی اور پیشہ ورانہ مہارتوں سے آراستہ کرنا اور انہیں مستقبل کی معیشت میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بنانا ہے۔

روزگار کے ساتھ کاروباری مواقع بھی اہم

وزیراعظم شہباز شریف نے اس امر پر بھی زور دیا کہ نوجوانوں کے لیے روزگار کی حکمت عملی صرف سرکاری یا نجی ملازمتوں تک محدود نہیں ہونی چاہیے بلکہ کاروباری مواقع پیدا کرنے پر بھی توجہ دی جائے۔

ان کے مطابق اگر نوجوانوں کو کاروبار شروع کرنے کے لیے ضروری تربیت، مالی و تکنیکی رہنمائی اور مارکیٹ تک رسائی فراہم کی جائے تو وہ نہ صرف اپنے لیے روزگار حاصل کر سکتے ہیں بلکہ دوسرے نوجوانوں کے لیے بھی ملازمتوں کے مواقع پیدا کر سکتے ہیں۔

اجلاس میں اہم حکومتی شخصیات کی شرکت

اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقی احسن اقبال، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر مملکت برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی شزہ فاطمہ خواجہ، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے چیئرمین رانا مشہود احمد خان سمیت متعلقہ وزارتوں اور اداروں کے اعلیٰ حکام نے شرکت کی۔

نوجوانوں کو معاشی ترقی کا مرکزی کردار بنانے کا عزم

حکومت کی جانب سے نیشنل یوتھ ایمپلائمنٹ پالیسی پر توجہ اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ پاکستان کی نوجوان آبادی کو معاشی ترقی کا بنیادی محرک بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

نوجوانوں کو جدید تعلیم، مارکیٹ کی طلب کے مطابق ہنر، ڈیجیٹل صلاحیت، مصنوعی ذہانت، فنی تربیت، بیرون ملک روزگار اور کاروباری مواقع فراہم کرنا اس پالیسی کے اہم پہلو قرار دیے جا رہے ہیں۔

وزیراعظم شہباز شریف نے واضح کیا ہے کہ حکومت کی ترجیح نوجوانوں کو محض تربیت فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں عملی طور پر روزگار، کاروبار اور معاشی خودمختاری کے مواقع سے جوڑنا ہے۔

حکومتی حکمت عملی میں بلوچستان اور خیبرپختونخوا جیسے صوبوں کے نوجوانوں کے لیے خصوصی اقدامات، خواتین کی معاشی شمولیت، عالمی مارکیٹ کے لیے ہنرمند افرادی قوت کی تیاری اور نوجوان کاروباری افراد کی حوصلہ افزائی کو اہمیت دی جا رہی ہے۔

وزیراعظم نے متعلقہ اداروں کو پالیسی کے نفاذ میں تیزی، بین الوزارتی رابطہ کاری اور ماہانہ بنیادوں پر پیش رفت کی نگرانی جاری رکھنے کی ہدایت کرتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان کے نوجوانوں کو جدید تعلیم، ہنر اور روزگار کے بہتر مواقع فراہم کر کے انہیں ملک کی معاشی ترقی میں فعال شراکت دار بنایا جائے گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button