بین الاقوامی

غزہ امن منصوبہ: کشنر کے پاس نیتن یاہو پر دباؤ ڈالنے کا بڑا موقع تھا، سابق امریکی نمائندہ

حماس سے براہِ راست رابطے کے بعد جیرڈ کشنر کی نیتن یاہو سے چار گھنٹے ملاقات، کسی معاہدے پر اتفاق نہ ہوسکا

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرقِ وسطیٰ کے لیے خصوصی ایلچی جیرڈ کشنر کے پاس اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر غزہ امن منصوبے کے حوالے سے دباؤ ڈالنے کا ایک ’’زبردست موقع‘‘ تھا۔ یہ بات فلسطینی امور کے سابق امریکی خصوصی نمائندہ ہادی امر نے کہی ہے۔

ہادی امر کے مطابق کشنر کا حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے براہِ راست رابطہ اور ملاقات بذاتِ خود اسرائیلی قیادت پر دباؤ کا باعث بنتی ہے، کیونکہ اس سے مذاکرات میں موجود فریقین کو ایک ہی سطح پر لانے کی کوشش ہوتی ہے۔

کشنر نے مصر میں حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کے ایک روز بعد یروشلم میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو سے ملاقات کی۔ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت تقریباً چار گھنٹے جاری رہی، تاہم ملاقات کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہوگئی۔

امریکی حمایت یافتہ غزہ منصوبہ بحران کا شکار

جیرڈ کشنر اس وقت امریکی حمایت یافتہ غزہ امن منصوبے کو آگے بڑھانے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کا مقصد غزہ میں جاری تنازع کو ختم کرنا اور فریقین کے درمیان ایک قابلِ عمل سیاسی و سکیورٹی انتظام کی بنیاد رکھنا ہے۔

رپورٹس کے مطابق حماس نے منصوبے کی تجویز سے اتفاق کیا ہے، تاہم اسرائیلی حکومت نے اس پر تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اسے مسترد کردیا ہے۔

امن منصوبے کے اہم نکات میں غزہ میں جنگ بندی، حماس کی جانب سے ہتھیار چھوڑنے کا عمل اور اسرائیلی افواج کی مرحلہ وار واپسی شامل ہیں۔ تاہم دونوں فریق اس عمل کی ترتیب اور ضمانتوں پر اختلاف رکھتے ہیں۔

اسرائیل کا اصرار ہے کہ غزہ سے کسی بھی فوجی انخلاء یا بڑی سکیورٹی تبدیلی سے قبل حماس کے مکمل تخفیفِ اسلحہ کے واضح شواہد سامنے آنے چاہئیں۔

دوسری جانب منصوبے میں حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی افواج کے انخلاء کو ایک دوسرے سے مربوط اور مرحلہ وار عمل کے طور پر آگے بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

نیتن یاہو پر سیاسی دباؤ بڑھنے کا دعویٰ

فلسطینی امور کے سابق خصوصی نمائندہ ہادی امر نے امریکی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ سیاسی حالات میں جیرڈ کشنر کے پاس اسرائیلی وزیراعظم پر دباؤ ڈالنے کا خاصا موقع موجود تھا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ نیتن یاہو اندرونِ ملک سیاسی طور پر دباؤ کا سامنا کر رہے ہیں اور بعض عوامی جائزوں میں اپوزیشن رہنما آئزن کوٹ سے پیچھے دکھائی دے رہے ہیں۔

امر کے مطابق ایسے حالات میں امریکی انتظامیہ کی جانب سے غزہ امن منصوبے پر پیش رفت کے لیے دباؤ اسرائیلی حکومت کے فیصلوں پر اثر انداز ہوسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشنر کا حماس سے براہِ راست رابطہ بھی نیتن یاہو پر ازخود دباؤ پیدا کرتا ہے، کیونکہ اس سے یہ پیغام جاتا ہے کہ امریکہ بحران کے تمام اہم فریقوں سے براہِ راست بات چیت کرنے کے لیے تیار ہے۔

حماس سے براہِ راست رابطہ اہم پیش رفت قرار

ہادی امر کے مطابق کشنر کی حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات کو محض ایک سفارتی ملاقات نہیں سمجھنا چاہیے۔

ان کے مطابق اگر امریکی نمائندہ ایک طرف حماس سے براہِ راست بات چیت کرے اور دوسری طرف اسرائیلی قیادت کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے تو اس سے فریقین کو مذاکراتی عمل میں ایک ہی سطح پر لانے کی کوشش کی جاسکتی ہے۔

امر نے امید ظاہر کی کہ اگرچہ مکمل امن معاہدہ فوری طور پر حاصل نہ بھی ہوسکے، تاہم مذاکرات کے نتیجے میں کچھ بنیادی اقدامات ضرور حاصل کیے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ محدود نوعیت کی پیش رفت بھی غزہ میں انسانی صورتحال بہتر بنانے، تشدد کم کرنے اور مزید انسانی جانوں کے ضیاع کو روکنے میں مددگار ثابت ہوسکتی ہے۔

نیتن یاہو سے چار گھنٹے طویل ملاقات

حماس کے رہنما سے ملاقات کے اگلے روز جیرڈ کشنر نے یروشلم میں بنجمن نیتن یاہو سے تفصیلی ملاقات کی۔

یہ ملاقات تقریباً چار گھنٹے جاری رہی، تاہم اس دوران کسی حتمی معاہدے یا قابلِ ذکر بریک تھرو کا اعلان نہیں کیا گیا۔

ملاقات کے بعد کشنر نے مذاکرات کو ’’بہت مثبت‘‘ قرار دیا، لیکن کسی حتمی سمجھوتے کے بغیر بات چیت کا اختتام اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ غزہ امن منصوبے کے اہم نکات پر اب بھی فریقین کے درمیان اختلافات موجود ہیں۔

حماس کے تخفیفِ اسلحہ اور اسرائیلی انخلاء کا تنازع

امن منصوبے پر سب سے اہم اختلافات میں سے ایک یہ ہے کہ حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی فوج کے غزہ سے انخلاء کا عمل کس ترتیب سے مکمل کیا جائے۔

اسرائیل کا کہنا ہے کہ جب تک حماس کے مکمل تخفیفِ اسلحہ کا عملی اور قابلِ تصدیق ثبوت سامنے نہیں آتا، اس وقت تک غزہ سے کسی بڑے پیمانے پر اسرائیلی فوجی انخلاء پر غور نہیں کیا جاسکتا۔

دوسری جانب امن منصوبے کے تحت حماس کے غیر مسلح ہونے اور اسرائیلی انخلاء کو مرحلہ وار اور بیک وقت آگے بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔

یہی ترتیب مذاکرات میں ایک بنیادی رکاوٹ بن گئی ہے، کیونکہ دونوں فریق پہلے قدم کے حوالے سے مختلف ضمانتیں چاہتے ہیں۔

نیتن یاہو کی سیاسی حکمت عملی پر سوالات

ہادی امر نے امن منصوبے کی راہ میں ایک اور رکاوٹ نیتن یاہو کی داخلی سیاسی حکمت عملی کو قرار دیا۔

امر کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم نے اپنے سیاسی کیریئر کا بڑا حصہ قومی سلامتی اور سکیورٹی پر مرکوز ایجنڈے کے گرد بنایا ہے، اس لیے جاری تنازع کی صورتحال ان کے لیے سیاسی طور پر اہمیت رکھتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ غزہ میں جنگ اور سکیورٹی کے مسئلے کے خاتمے کی صورت میں اسرائیل میں سیاسی بحث کا مرکز تبدیل ہوسکتا ہے، جس سے نیتن یاہو کی داخلی سیاسی پوزیشن متاثر ہونے کا امکان ہے۔

دو ریاستی حل کا معاملہ بھی حساس

ہادی امر کے مطابق غزہ میں امن کی جانب پیش رفت کے نتیجے میں فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل پر عالمی سطح پر بحث دوبارہ نمایاں ہوسکتی ہے۔

ان کے مطابق نیتن یاہو اور ان کے بعض سیاسی اتحادی دو ریاستی حل کی مخالفت کرتے رہے ہیں، اس لیے فلسطینی ریاست کے بارے میں عالمی سفارتی گفتگو کا دوبارہ مرکزی حیثیت اختیار کرنا اسرائیلی حکومت کے لیے ایک حساس سیاسی مسئلہ بن سکتا ہے۔

امر نے کہا کہ مستقل امن کے لیے صرف غزہ میں عارضی جنگ بندی کافی نہیں بلکہ فلسطینی مسئلے کے سیاسی حل پر بھی بات کرنا ضروری ہوگی۔

کشنر کا دورہ کامیاب رہا یا نہیں؟ فیصلہ ابھی باقی

ہادی امر کے مطابق جیرڈ کشنر کے حالیہ مشرقِ وسطیٰ دورے کو مکمل طور پر کامیاب یا ناکام قرار دینا ابھی قبل از وقت ہوگا۔

ان کے مطابق کسی سفارتی دورے کی کامیابی کا اصل پیمانہ یہ ہونا چاہیے کہ آیا اس کے نتیجے میں زمین پر عام فلسطینیوں کی زندگی میں حقیقی بہتری آتی ہے یا نہیں۔

انہوں نے چند اہم نتائج کو ممکنہ کامیابی کے پیمانے قرار دیا، جن میں غزہ میں مزید انسانی امداد کی رسائی، ایندھن کی ترسیل میں اضافہ، فلسطینی شہریوں کے لیے نقل و حرکت میں آسانی، کشیدگی میں کمی اور جنگ بندی کو مضبوط بنانے کے اقدامات شامل ہیں۔

غزہ میں انسانی صورتحال اب بھی انتہائی سنگین

اگرچہ اکتوبر 2025 کی جنگ بندی کے بعد غزہ کی صورتحال میں بعض شعبوں میں بہتری کے آثار سامنے آئے ہیں، تاہم علاقے میں انسانی حالات بدستور انتہائی مخدوش ہیں۔

طویل عرصے سے جاری جنگ اور بنیادی ڈھانچے کی تباہی نے خوراک، صاف پانی، صحت، رہائش، بجلی اور دیگر بنیادی ضروریات تک رسائی کو شدید متاثر کیا ہے۔

ایسے حالات میں امن مذاکرات کے ساتھ ساتھ انسانی امداد کی بلا رکاوٹ فراہمی کو بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

امداد اور ایندھن کی فراہمی مذاکرات کا اہم حصہ

غزہ میں انسانی صورتحال بہتر بنانے کے لیے امدادی سامان اور ایندھن کی مسلسل فراہمی کو اہم سمجھا جا رہا ہے۔

ہادی امر کے مطابق اگر مذاکرات کے نتیجے میں انسانی امداد میں اضافہ، ایندھن کی بہتر ترسیل اور فلسطینی شہریوں کی نقل و حرکت میں سہولت پیدا ہوتی ہے تو اسے سفارتی عمل کی عملی کامیابی تصور کیا جاسکتا ہے۔

ان کے مطابق مکمل امن معاہدے تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے، لیکن انسانی بنیادوں پر فوری اقدامات کیے جا سکتے ہیں اور کیے جانے چاہئیں۔

اصل سوال: کیا ٹرمپ اور کشنر دباؤ ڈالیں گے؟

ہادی امر کے مطابق اب بنیادی سوال یہ ہے کہ آیا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جیرڈ کشنر اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو پر امن منصوبے کو آگے بڑھانے کے لیے حقیقی اور بامعنی دباؤ ڈالنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں۔

ان کے مطابق امریکہ کے پاس اسرائیل پر سیاسی اور سفارتی اثر و رسوخ موجود ہے اور اگر واشنگٹن اس اثر کو مذاکرات میں مؤثر انداز میں استعمال کرے تو غزہ میں جاری بحران کو کم کرنے کی کوششوں میں پیش رفت ہوسکتی ہے۔

دوسری جانب اسرائیل اپنے سکیورٹی خدشات اور حماس کے تخفیفِ اسلحہ کو بنیادی ترجیح قرار دیتا ہے، جبکہ فلسطینی فریق اسرائیلی فوجی موجودگی اور انخلاء کے واضح شیڈول کو اہم سمجھتا ہے۔

امن عمل کا مستقبل مشکل مذاکرات سے جڑا

جیرڈ کشنر کی حماس کے سیاسی رہنما خلیل الحیہ سے ملاقات اور اس کے بعد نیتن یاہو کے ساتھ چار گھنٹے کی بات چیت نے ایک مرتبہ پھر واضح کردیا ہے کہ غزہ میں دیرپا امن کا راستہ انتہائی پیچیدہ سیاسی اور سکیورٹی اختلافات سے گزرتا ہے۔

مذاکرات میں سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ اسرائیل حماس کے مکمل تخفیفِ اسلحہ کو بنیادی شرط قرار دیتا ہے، جبکہ دوسری جانب فلسطینی فریق اسرائیلی فوجی انخلاء، انسانی امداد اور سیاسی مستقبل کے حوالے سے واضح ضمانتیں چاہتا ہے۔

اب آنے والے دنوں میں یہ دیکھنا اہم ہوگا کہ امریکی انتظامیہ ان اختلافات کو کس حد تک کم کرنے میں کامیاب ہوتی ہے اور کیا کشنر کی سفارتی کوششیں غزہ میں انسانی صورتحال بہتر بنانے اور مستقل سیاسی حل کی جانب کوئی قابلِ ذکر پیش رفت پیدا کرسکتی ہیں۔

ہادی امر کے مطابق کشنر کا دورہ ابھی ’’کامیاب‘‘ یا ’’ناکام‘‘ قرار دینے کے مرحلے میں نہیں، بلکہ اس کی اصل کامیابی کا فیصلہ غزہ میں عملی تبدیلی، انسانی امداد میں اضافہ، کشیدگی میں کمی اور امن کے لیے قابلِ عمل سیاسی پیش رفت سے ہوگا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button