
سید عاطف ندیم-ادارت
اسلام آباد: پاکستان کی مسلح افواج نے بھارت کی جانب سے گزشتہ سال ہونے والے چار روزہ پاک بھارت فوجی تصادم اور نام نہاد آپریشن سندور پر بنائی گئی نئی دستاویزی فلم کو مسترد کرتے ہوئے اسے ’’حقیقت کے اعتبار سے غلط‘‘ اور بھارتی فوجی کارروائی کو کامیاب ثابت کرنے کی کوشش قرار دیا ہے۔
پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ انٹر سروسز پبلک ریلیشنز (آئی ایس پی آر) نے بھارتی دستاویزی فلم کے حوالے سے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ سنیما کی داستان گوئی اور پروپیگنڈا تاریخ کے حقائق تبدیل نہیں کرسکتا۔ آئی ایس پی آر کے مطابق جنگ کے دوران پیش آنے والے واقعات، طیاروں کے نقصانات اور فوجی ہلاکتوں کو چھپا کر کسی فوجی معرکے کے نتائج تبدیل نہیں کیے جا سکتے۔
’’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘‘ کی ریلیز
دو حصوں پر مشتمل بھارتی دستاویزی فلم ’’ڈی کلاسیفائیڈ: آپریشن سندور‘‘ 15 اگست کو ڈسکوری چینل پر نشر کی گئی۔
فلم میں مئی 2025 میں پاکستان کے خلاف بھارتی فوجی کارروائی کے حوالے سے بھارتی قومی سلامتی کے حکام، فوج کے اعلیٰ افسران، آپریشنل کمانڈروں اور مبینہ طور پر لڑائی میں شامل دیگر افراد کے انٹرویوز شامل کیے گئے ہیں۔
بھارتی مؤقف کے مطابق 7 مئی 2025 کو شروع کیے گئے آپریشن سندور کا مقصد پاکستان اور آزاد کشمیر میں موجود مبینہ ’’دہشت گردی کے بنیادی ڈھانچے‘‘ کو نشانہ بنانا تھا۔ نئی دہلی نے اس کارروائی کو 22 اپریل کو مقبوضہ کشمیر کے علاقے پہلگام میں ہونے والے حملے کا جواب قرار دیا تھا۔
پہلگام حملے کے بعد کشیدگی میں اضافہ
22 اپریل 2025 کو پہلگام میں ہونے والے حملے میں 26 افراد ہلاک ہوئے تھے، جن میں زیادہ تر سیاح شامل تھے۔ بھارت نے اس حملے کا الزام پاکستان پر عائد کیا، تاہم پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا۔
اس واقعے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان پہلے سے موجود کشیدگی میں مزید اضافہ ہوا اور بالآخر 7 مئی کو بھارتی فوجی کارروائی کے بعد دونوں جوہری طاقتوں کے درمیان براہ راست فوجی تصادم شروع ہوگیا۔
چار روزہ لڑائی میں جنگی طیاروں، میزائلوں، ڈرونز اور توپ خانے سمیت مختلف فوجی صلاحیتوں کا استعمال ہوا۔
پاکستان نے اپنی فوجی کارروائی کو معرکہ حق قرار دیا، جس کے دوران 10 مئی کو بھارتی فوجی اہداف کے خلاف آپریشن بنیان مرصوص کیا گیا۔
آئی ایس پی آر: بھارتی فوجی غلطی کو کامیاب آپریشن ظاہر کرنے کی کوشش
آئی ایس پی آر نے بھارتی دستاویزی فلم کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے ’’حقیقت ظاہر نہیں کی‘‘ اور فوجی غلطی کو کامیاب کارروائی ثابت کرنے کے لیے ایک پروپیگنڈا بیانیہ تشکیل دیا۔
پاکستانی فوج کے مطابق دستاویزی فلم میں بھارتی کارروائی کو کامیاب ثابت کرنے کے لیے ایسے واقعات کو نظر انداز کیا گیا جن سے لڑائی کے اصل نتائج مختلف انداز میں سامنے آتے ہیں۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سنیما کی داستان گوئی کی کوئی حد تاریخ کو تبدیل نہیں کرسکتی، طیاروں کے نقصانات کو مٹا نہیں سکتی اور فوجی ہلاکتوں کو چھپا نہیں سکتی۔
پاکستانی فوج نے واضح کیا کہ جو فوجی معرکے حقیقت میں میدانِ جنگ میں ہوئے، انہیں فلمی بیانیے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا اور نہ ہی شکست کو محض دعوؤں کے ذریعے فتح میں بدلا جا سکتا ہے۔
پہلگام حملے پر بھارتی مؤقف سے متعلق سوالات
آئی ایس پی آر نے پہلگام حملے کے حوالے سے بھارتی بیانیے میں سامنے آنے والے تضادات کو بھی اجاگر کیا۔
بھارتی وزیر داخلہ امیت شاہ نے جولائی 2025 میں بھارتی پارلیمنٹ کو بتایا تھا کہ بھارتی افواج نے 28 جولائی کو ایک کارروائی میں پہلگام حملے کے ذمہ دار تین پاکستانی شہریوں کو ہلاک کیا۔
بھارتی حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد سے برآمد ہونے والے ہتھیاروں کے فرانزک تجزیے سے ان کا تعلق پہلگام حملے سے ظاہر ہوا۔
پاکستانی فوج نے اس دعوے پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت کے مطابق پہلگام حملے کے مبینہ ذمہ دار افراد کو 28 جولائی کو ہلاک کیا گیا تو پھر 7 مئی کو کیے گئے بھارتی فوجی آپریشن میں بھارت نے کس کو سزا دینے کا دعویٰ کیا تھا۔
آئی ایس پی آر نے اس نکتے کو بھارتی مؤقف میں ایک اہم تضاد قرار دیتے ہوئے کہا کہ نئی دہلی کو اس حوالے سے وضاحت پیش کرنا ہوگی۔
بھارتی فضائی کارروائی اور طیاروں کے نقصانات
پاکستانی فوج نے دستاویزی فلم میں بھارتی آپریشن کو ’’100 فیصد کامیاب مشن‘‘ قرار دینے کے دعوے کو بھی مسترد کیا۔
پاکستان کا کہنا ہے کہ چار روزہ تصادم کے دوران بھارتی فضائیہ کو نمایاں نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور پاکستانی افواج نے متعدد بھارتی فوجی طیارے مار گرائے۔
آئی ایس پی آر نے دعویٰ کیا کہ بھارتی فوجی حکام کے اپنے بیانات میں پاکستانی میزائلوں، ڈرونز، فضائی کارروائیوں، لائن آف کنٹرول پر ہونے والی لڑائی اور بھارتی فضائی دفاعی نظام کی کارکردگی کے حوالے سے ایسے شواہد موجود ہیں جو دستاویزی فلم میں پیش کی جانے والی ’’فیصلہ کن بھارتی فتح‘‘ کی تصویر سے مطابقت نہیں رکھتے۔
پاکستانی مؤقف کے مطابق اگر بھارتی کارروائی واقعی مکمل اور فیصلہ کن کامیابی تھی تو پھر خود بھارتی حکام کے بعض بیانات میں سامنے آنے والے واقعات کی وضاحت بھی ضروری ہے۔
جنگ بندی کے معاملے پر بھی اختلاف
پاکستان نے دستاویزی فلم میں جنگ بندی اور فوجی کارروائی کے خاتمے سے متعلق بھارتی مؤقف کو بھی چیلنج کیا ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق بھارتی بیانیے میں ایک جانب دونوں ممالک کے ڈائریکٹر جنرل ملٹری آپریشنز کے درمیان رابطے کو فوجی کارروائی روکنے کے لیے اہم قرار دیا گیا، جبکہ دوسری جانب جنگ بندی کے حالات اور اس کے پس منظر کے بارے میں مختلف دعوے کیے گئے۔
10 مئی 2025 کو اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا تھا کہ امریکہ کی سفارتی کوششوں اور مذاکرات کے بعد پاکستان اور بھارت نے جنگ بندی پر اتفاق کرلیا ہے۔
پاکستان نے جنگ بندی میں امریکی سفارت کاری کے کردار کو تسلیم کیا، جبکہ بھارت نے مؤقف اختیار کیا کہ جنگ بندی بنیادی طور پر دونوں ممالک کی افواج کے درمیان براہ راست رابطے اور بات چیت کے نتیجے میں ہوئی۔
یہ معاملہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی کے بعد بھی مختلف بیانیوں کا حصہ بنا رہا۔
بھارتی بیانیے میں تضاد کی نشاندہی
آئی ایس پی آر نے دستاویزی فلم میں بھارتی بیانیے کے اندر موجود تضادات کی بھی نشاندہی کی۔
پاکستانی فوج کے مطابق فلم میں ایک طرف بھارتی کارروائی کو غیر متوقع حملے، فوجی برتری اور کشیدگی میں غلبے کے طور پر پیش کیا گیا، جبکہ دوسری طرف یہ تاثر بھی دیا گیا کہ بھارت نے تنازعے کو دانستہ طور پر محدود رکھا اور پاکستان کو کشیدگی کم کرنے کا موقع دیا۔
پاکستان کے مطابق دونوں دعوے بیک وقت بھارتی کارروائی کے نتائج کی مکمل اور غیر جانب دار تصویر پیش نہیں کرتے۔
پاکستان کا امن کے عزم کا اعادہ
آئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں واضح کیا کہ پاکستان خطے میں امن اور استحکام کے لیے پُرعزم ہے، تاہم ملکی دفاع کے معاملے پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
پاکستانی فوج نے کہا کہ ملک مستقبل میں کسی بھی ممکنہ فوجی حملے یا مہم جوئی کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔
آئی ایس پی آر کے مطابق اگر مستقبل میں کسی قسم کی فوجی مہم جوئی کی گئی تو پاکستان کی جانب سے اس کا جواب سخت، فیصلہ کن اور بھرپور ہوگا۔
’’تاریخ کو فلمی داستان سے تبدیل نہیں کیا جا سکتا‘‘
پاکستانی فوج نے بھارتی دستاویزی فلم کے حوالے سے اپنے اختتامی مؤقف میں کہا کہ جنگی واقعات اور میدانِ جنگ کے نتائج کو فلمی بیانیے، مبالغہ آرائی یا پروپیگنڈے کے ذریعے تبدیل نہیں کیا جا سکتا۔
آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ مستقبل میں کسی بھی فوجی مہم جوئی کا جواب بھرپور انداز میں دیا جائے گا اور اس کے بعد سنیما کی اسکرین پر پیش کی جانے والی کوئی بھی ’’جھوٹی داستان‘‘ یا مبالغہ آرائی بھارت کو حقیقت سے دور نہیں رکھ سکے گی۔
پاکستانی فوج کے مطابق خطے میں پائیدار امن کے لیے حقیقت پسندانہ بیانیہ، ذمہ دارانہ رویہ اور حقائق پر مبنی مکالمہ ضروری ہے، جبکہ جنگی واقعات کو سیاسی یا سینمائی بیانیے کے ذریعے تبدیل کرنے کی کوششیں خطے میں موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتی ہیں۔
یوں آپریشن سندور پر بنائی گئی بھارتی دستاویزی فلم ایک مرتبہ پھر پاکستان اور بھارت کے درمیان 2025 کی چار روزہ جنگ کے نتائج، جنگی نقصانات، پہلگام حملے اور جنگ بندی کے پس منظر سے متعلق متضاد بیانیوں کو سامنے لے آئی ہے، جبکہ پاکستان نے واضح کردیا ہے کہ وہ بھارتی فلم میں پیش کیے گئے واقعات کو حقائق کا حتمی حوالہ تسلیم نہیں کرتا۔



