کالمزعلی عباس کاظمی

شاہ دولہ کے چوہے……. علی عباس کاظمی

روایت میں شاہ دولہ کے چوہوں کا ذکر ایسے بچوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے جن کے سروں کی غیر معمولی ساخت اور محدود ذہنی نشوونما نے اس اصطلاح کو ایک علامت بنا دیا۔

ہماری سیاسی زندگی کا سب سے بڑا المیہ شاید یہ نہیں کہ ہمارے سیاست دان بدلتے رہتے ہیں، بلکہ یہ ہے کہ ہم بطور عوام ہر بار نئے سیاسی مرید پیدا کر لیتے ہیں۔ چہرے بدل جاتے ہیں، نعرے بدل جاتے ہیں، جماعتیں بدل جاتی ہیں، مگر سیاسی عقیدت کی شدت وہیں رہتی ہے۔ ہم اپنے پسندیدہ رہنما کے گرد ایسی عقیدت کا حصار قائم کر لیتے ہیں کہ پھر عقل، دلیل، اخلاق اور سچائی سب باہر کھڑے رہ جاتے ہیں۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہم سیاست نہیں کر رہے بلکہ کسی سیاسی گدی کے مرید بن چکے ہیں۔
روایت میں شاہ دولہ کے چوہوں کا ذکر ایسے بچوں کے حوالے سے کیا جاتا ہے جن کے سروں کی غیر معمولی ساخت اور محدود ذہنی نشوونما نے اس اصطلاح کو ایک علامت بنا دیا۔ آج اگر اس تمثیل کو سیاسی رویوں پر منطبق کیا جائے تو شاید ہمیں اپنے گریبان میں جھانکنے کی ضرورت پڑے۔ کیونکہ ہمارے بعض سیاسی سپورٹر بھی اپنی سیاسی وابستگی کے حصار میں اسی طرح محدود سوچ کے اسیر دکھائی دیتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ وہاں سر چھوٹا ہونے کی بات کی جاتی تھی، یہاں سوچ چھوٹی ہوتی جا رہی ہے۔ہم بھی شاہ دولہ کے چوہوں سے کم نہیں، جب ہم کسی سیاسی جماعت کے پرچم تلے اپنی سوچ کو بھی دفن کر دیتے ہیں۔ جب ہمارا لیڈر جو کہے وہ سچ، جو کرے وہ درست، جسے تنقید کا نشانہ بنائے وہ برا اور جس سے اختلاف کرے وہ ملک دشمن، جاہل یا غدار قرار پائے تو پھر ہمیں اپنے سیاسی شعور کا طبی معائنہ ضرور کروانا چاہیے۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہم کسی سیاسی رہنما کے حامی ہیں، مسئلہ یہ ہے کہ کہیں ہم اپنی سوچنے کی صلاحیت اس رہنما کے حوالے تو نہیں کر بیٹھے؟المیہ یہ بھی ہے کہ ہم سیاسی خداؤں کے بت خود بناتے ہیں، پھر انہی بتوں کی حفاظت کے لیے ایک دوسرے سے لڑتے ہیں۔
ہم لوگوں جیسا منافق شاید ہی کوئی ہو۔ اپنے لیڈر کی غلطی کو مجبوری، حکمت، سیاسی مصلحت اور حالات کی پیداوار قرار دیتے ہیں، جبکہ مخالف کی معمولی لغزش کو کردار کی خرابی، بدعنوانی اور قومی جرم بنا دیتے ہیں۔ اپنے لیڈر کی تقریر میں طنز ہو تو سیاسی بصیرت، مخالف کی تقریر میں وہی طنز ہو تو بدتمیزی۔ اپنے لیڈر کا احتجاج ہو تو جمہوری حق، مخالف کا احتجاج ہو تو انتشار۔ اپنے رہنما کا یوٹرن ہو تو حکمت عملی، مخالف کا یوٹرن ہو تو منافقت۔ یہی دوہرا معیار ہے جس نے ہماری سیاسی گفتگو کو اخلاقی دیوالیہ پن تک پہنچا دیا ہے۔سیاسی حمایت اگر دلیل کے ساتھ ہو تو جمہوریت ہے، لیکن اگر حمایت میں عقل کی کھڑکیاں بند کر دی جائیں تو یہ مریدی بن جاتی ہے۔ مرید اپنے پیر کی ہر بات میں حکمت تلاش کرتا ہے، سیاسی مرید اپنے لیڈر کی ہر غلطی میں بھی کوئی نہ کوئی ’’ماسٹر پلان‘‘ تلاش کر لیتا ہے۔ لیڈر وعدہ پورا نہ کرے تو حالات ذمہ دار، حکومت ناکام ہو تو سازش ذمہ دار، معیشت خراب ہو تو پچھلی حکومت ذمہ دار اور اگر اپنا لیڈر کوئی غلط بات کہہ دے تو فوراً وضاحت شروع ہو جاتی ہے کہ اصل مطلب کچھ اور تھا۔یہ سیاسی مریدی اس وقت مزید خطرناک ہو جاتی ہے جب انسان اپنے نظریے کے دفاع میں اخلاق کی آخری حد بھی عبور کر جائے۔ سوشل میڈیا کھولیے تو لگتا ہے کہ سیاسی اختلاف نہیں، باقاعدہ جنگ جاری ہے۔ ایک شخص اپنے سیاسی مخالف کو گالی دیتا ہے، دوسرا اس سے بڑی گالی دے کر جواب دیتا ہے، تیسرا دونوں کے خاندان کو بحث میں لے آتا ہے اور چوتھا اسے سیاسی شعور کا نام دے کر تالیاں بجاتا ہے۔ سوال صرف اتنا ہے کہ اگر سیاست ہمیں انسان کی عزت کرنا نہیں سکھا رہی تو پھر ہم سیاست سے سیکھ کیا رہے ہیں؟
اور اب جب متوقع بلدیاتی انتخابات کے ساتھ نئی حلقہ بندیوں کی باتیں بھی سیاسی ماحول کو گرم کر رہی ہیں، تو ہمارے لیے ایک اور امتحان شروع ہونے والا ہے۔ قومی اور صوبائی سیاست میں ہم پہلے ہی کافی ’’باشعور‘‘ ثابت ہو چکے ہیں، اب گلی، محلے اور یونین کونسل کی سطح پر بھی اپنی سیاسی تربیت کا مظاہرہ کرنے کا موقع ملے گا۔ نئی حلقہ بندی کے بعد کوئی گلی اِدھر ہو جائے گی، کوئی محلہ اُدھر چلا جائے گا اور سب سے دلچسپ بات یہ ہوگی کہ برسوں سے ایک دوسرے کے ساتھ شادی غمی میں شریک رہنے والی برادریاں اچانک سیاسی نقشے کی لکیروں کے ساتھ ایک دوسرے کے مقابل کھڑی ہو جائیں گی۔ کل تک جو چچا جان تھے، الیکشن آتے ہی ’’مخالف امیدوار‘‘ بن جائیں گے، جو ہمسایہ کل تک ساتھ بیٹھ کر چائے پیتا تھا، وہ آج اپنے اپنے انتخابی کیمپ میں نظریاتی دشمن بن جائے گا۔
بلدیاتی الیکشن دراصل محلے، گاؤں اور شہر کے مسائل حل کرنے کا ذریعہ ہونا چاہیے، مگر ہم اسے بھی انا کا میدان بنا دیتے ہیں۔ نالی کس نے بنوائی، گلی کس نے پکی کرائی، کون کونسلر بنے گا، کس برادری کا امیدوار جیتے گا، کس خاندان کی ’’ناک‘‘ بلند ہوگی۔۔۔اور پھر ایک معمولی سا انتخاب خاندانوں اور برادریوں کی عزت کا مسئلہ بن جاتا ہے۔ ووٹ ایک کاغذ کا ٹکڑا ہے، اسے خاندان کی عزت، دوستی اور دشمنی کا پرچم بنانے کی ضرورت نہیں۔ الیکشن کو الیکشن ہی سمجھیں، اسے انا کا مسئلہ نہ بنائیں۔خاص طور پر نئی حلقہ بندیوں کے بعد یہ سمجھنا ضروری ہے کہ نقشے کی لکیر کسی کی دشمنی کی لکیر نہیں ہوتی۔ آج جو حلقہ بدل گیا، کل پھر بدل سکتا ہے۔۔۔آج جو امیدوار جیت گیا، پانچ سال بعد شاید سیاست میں بھی نہ ہو۔۔۔ لیکن ہم نے اگر انتخابی لڑائی میں رشتے توڑ لیے تو وہ نقصان کسی حلقہ بندی سے واپس نہیں آئے گا۔ سیاسی گدی نشینوں کو تو الیکشن کے بعد مبارک باد دینے والے بھی مل جائیں گے، مگر ہماری ٹوٹی ہوئی برادریاں اور بکھرے ہوئے تعلقات کس کے ذمے ہوں گے؟
ہمیں کبھی یہ بھی سوچنا چاہیے کہ جس سیاسی جماعت کے لیے ہم اپنے بھائی سے لڑ رہے ہیں، کیا اس جماعت کے رہنما ہمارے گھر کے اس جھگڑے کو ختم کرنے آئیں گے؟ جس سیاسی بحث کی خاطر ہم دوستیاں توڑ رہے ہیں، کیا الیکشن کے بعد وہی سیاست دان ہماری ٹوٹی ہوئی دوستی جوڑنے آئیں گے؟ یقیناً نہیں۔ سیاست دان اپنی سیاست کریں گے، اقتدار اور مفاد کے لیے اتحاد بنائیں گے، کل کے دشمن آج کے دوست بن جائیں گے، آج کے اتحادی کل کے مخالف بن جائیں گے، مگر ہم عوام وہیں کھڑے رہیں گے، ایک دوسرے کے خلاف نفرت کے مورچے سنبھالے ہوئے۔اصل کامیابی سیاسی گدی نشینوں کی اسی وقت ہوتی ہے جب ہم آپس میں لڑتے جھگڑتے رہیں۔ جب عوام ایک دوسرے کی گردنیں ناپنے میں مصروف ہوں تو کوئی یہ نہیں پوچھتا کہ بجلی مہنگی کیوں ہے، تعلیم کا معیار کیا ہے، اسپتالوں میں سہولتیں کہاں ہیں، نوجوانوں کے روزگار کا کیا ہوگا، کسان کس حال میں ہے اور عام آدمی کی زندگی مسلسل مشکل کیوں ہوتی جا رہی ہے۔ سیاسی گدی نشینوں کے لیے اس سے بہتر ماحول اور کیا ہو سکتا ہے کہ عوام اپنے اصل مسائل کے بجائے ایک دوسرے کے سیاسی نظریات سے لڑتی رہے۔
ہمیں سیاسی کارکن بننا ہے، شاہ دولہ کے چوہے نہیں۔ کارکن کی پہچان یہ ہے کہ وہ اپنے لیڈر سے سوال بھی کرتا ہے۔ وہ منشور پڑھتا ہے، کارکردگی دیکھتا ہے، وعدوں کا حساب لیتا ہے اور غلطی پر تنقید کرتا ہے۔ سیاسی مرید کی پہچان یہ ہے کہ وہ پہلے لیڈر کا دفاع کرتا ہے اور بعد میں سوچتا ہے کہ غلطی ہوئی بھی تھی یا نہیں۔ کارکن کے پاس نظریہ ہوتا ہے، مرید کے پاس شخصیت ہوتی ہے۔ کارکن دلیل سے بات کرتا ہے، مرید نعرے سے۔ کارکن مخالف کو شکست دینا چاہتا ہے، مرید مخالف کو ختم کرنا چاہتا ہے۔دین ہمیں بھی یہی توازن سکھاتا ہے کہ کسی کی محبت ہمیں انصاف سے دور نہ کرے اور کسی سے اختلاف ہمیں ظلم پر آمادہ نہ کرے۔ کسی مخالف کو گالی دینا، اس کی تضحیک کرنا یا اس کے خاندان کو نشانہ بنانا کسی سیاسی نظریے کی فتح نہیں، ہمارے اپنے اخلاق کی شکست ہے۔ سیاسی رہنما کی حمایت ضرور کریں مگر اسے معصوم نہ سمجھیں۔۔۔ مخالف کی سیاست کو رد ضرور کریں مگر اس کی انسانیت کو نہیں۔
ہمیں اپنے بچوں کو یہ سیاسی وراثت بھی نہیں دینی چاہیے کہ مخالف جماعت کا بچہ ہمارا دشمن ہے۔ انہیں سکھانا چاہیے کہ سیاسی نظریات مختلف ہو سکتے ہیں، مگر انسانیت مشترک ہے۔ آج کا سیاسی مخالف کل کا دوست ہو سکتا ہے اور آج کا سیاسی دوست کل کسی دوسرے راستے پر جا سکتا ہے۔ نظریات بدل سکتے ہیں، حکومتیں بدل سکتی ہیں، جماعتیں بدل سکتی ہیں، مگر اخلاق اور کردار اگر ایک بار تباہ ہو جائیں تو انہیں واپس بنانے میں نسلیں لگ جاتی ہیں۔لہٰذا جب اگلی بار کسی سیاسی پوسٹ پر غصہ آئے، انگلی گالی لکھنے کے لیے بے چین ہویا انتخابی مہم میں کوئی مخالف برادری کا آدمی سامنے آ جائے تو ایک لمحے کے لیے رک جائیے۔ خود سے پوچھئے، ’’کیا یہ واقعی اتنے قابل ہے؟‘‘ اگر جواب نفی میں ہو تو موبائل ایک طرف رکھ دیجیے، آواز نیچی کر لیجیے اور یاد رکھیے کہ الیکشن پانچ سال کے لیے ہوتا ہے۔۔۔ رشتے نسلوں کے لیے۔
سیاسی رہنما ہمارے ووٹ کے محتاج ہیں، ہم ان کی مریدی کے محتاج نہیں۔ ہمیں شخصیتوں کے پیچھے چلنے کے بجائے اصولوں کے ساتھ کھڑا ہونا ہوگا۔ ہمیں اپنے سیاسی دماغ کی نشوونما روکنے کے بجائے اسے سوال، مطالعہ، دلیل اور شعور سے بڑا کرنا ہوگا۔ ورنہ خطرہ یہ نہیں کہ صرف سیاسی گدی نشین ہمیں استعمال کرتے رہیں گے، اصل خطرہ یہ ہے کہ ہم خود بھی خوشی خوشی استعمال ہوتے رہیں گے۔’’شاہ دولہ کے چوہوں‘‘ کی تمثیل دوسروں پر ہنسنے کے لیے نہیں، اپنے گریبان میں جھانکنے کے لیے ہے۔ اگر ہماری سیاسی وابستگی نے ہماری سوچ چھوٹی کر دی، اگر ہمارے لیڈر کی محبت نے ہماری زبان سے شائستگی چھین لی، اگر مخالف کی نفرت نے ہمارے اندر انصاف ختم کر دیا اور اگر ایک بلدیاتی نشست نے ہماری برادری کو برسوں کے لیے تقسیم کر دیا تو پھر ہمیں دوسروں کی طرف انگلی اٹھانے سے پہلے خود سے پوچھنا چاہیےکہ کہیں ہم بھی شاہ دولہ کے سیاسی چوہے تو نہیں بن گئے؟کیونکہ جس دن عوام نے سوچنا شروع کر دیا، سوال کرنا شروع کر دیا اور ایک دوسرے سے لڑنے کے بجائے اپنے مسائل پر بات کرنا شروع کر دی، اسی دن سیاسی گدی نشینوں کی سب سے بڑی طاقت کم ہونا شروع ہو جائے گی۔ الیکشن بھی ہوں گے، حلقے بھی بدلیں گے، امیدوار بھی بدلیں گے، مگر ہمیں ایک بات نہیں بدلنی چاہیے۔۔۔اختلاف کریں، دشمنی نہیں۔۔۔ مقابلہ کریں، نفرت نہیں۔۔۔ ووٹ دیں، رشتے نہ توڑیں۔آخرکار الیکشن جیتنے والا امیدوار چند سال بعد ہار بھی سکتا ہے، مگر انسان اگر اپنی برادری، دوستی اور رشتہ داری ہار جائے تو یہ شکست کسی بیلٹ باکس سے واپس نہیں ملتی۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button