کالمزناصف اعوان

روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں……ناصف اعوان

راستے کتنے ہی دشوار گزار کیوں نہ ہوں اگر ارادہ پختہ ہو تو منزل قریب آ ہی جاتی ہے !

پچھلے تین چار برس سے سیاسی حالات اتنے تلخ اور گمبھیر ہو چکے ہیں کہ لگتا ہے یہ اسی طرح ہی رہیں گے بلکہ ان میں شدت آئے گے۔ اس تناظر میں یہ بھی دیکھا جا رہا ہے کہ ملک میں سرمایہ کاری نہیں ہو رہی ۔ کاروبار ٹھپ ہوتے جا رہے ہیں۔ کارخانے اور ملیں سکڑ رہے ہیں کچھ بیرون ملک کا رخ کر رہے ہیں ۔ قرضے بے تحاشا لیے جا رہے ہیں تاکہ ملک میں ترقی ہو سکے مگر اس ترقی نے لوگوں کو خوشحال کیا نہ ہی ان کے سلگتے مسائل کو ختم کیا۔ جتنے بھی ترقیاتی منصوبے بنے وہ سب درشنی تھے ان سے کوئی پیداوار نہیں ہو رہی۔ اس وقت بھی جو زیر تکمیل ہیں وہ بھی غیر پیداواری ہیں لہذا حالت یہ ہے کہ مجموعی قرضہ خوفناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ افسوس یہ کہ ترقیاتی منصوبوں میں جو گھپلے ہو چکے ہیں وہ بڑے ہوشربا ہیں پھر حکومت نے عوام پر کم اپنی ذات پر قومی دولت کا استعمال زیادہ کیا ہے۔ جو کروڑوں میں نہیں اربوں کھربوں میں ہے نتیجتاً معیشت کی چُولیں ہِل چکی ہیں مگر کوئی ایسا راستہ دکھائی نہیں دے رہا کہ جس سے معاشی بحران پر قابو پایا جا سکے لہذا اب ملک کے بعض سیانوں نے اہل اختیار کو مشورہ دیا ہے کہ جب تک جاری سیاسی عدم استحکام کا خاتمہ نہیں ہوتا ملک آگے نہیں بڑھ سکتا اور وہ عدم استحکام ایک سیاسی جماعت کو نظر انداز کرنے سے پیدا ہوا ہے اور وہ جماعت پی ٹی آئی ہے۔ اس کے سربراہ کو جب سے جیل میں ڈالا گیا ہے حالات میں بہتری نہیں آرہی کوئی ملک بھی ہمارے اوپر اعتماد کرنے کو تیار نہیں۔ جن ملکوں نے قرضے دئیے تھے وہ ان کی واپسی کا تقاضا کر رہے ہیں۔ ان میں چین بھی شامل ہے ۔ یہ کتنی تکلیف دہ بات ہے کہ چین ایسا دوست بھی ہم سے خفا ہو رہا ہے اس کی وجہ یہی ہے کہ ہماری خارجہ پالیسی مبہم اور کمزور ہے کیونکہ جب ہماری قیادت ہی غیر متزلزل ہو گی تو لازمی ایسی صورت حال جنم لے گی ؟
ہماری سمجھ میں یہ بات نہیں آرہی کہ امریکا پر ہمارا انحصار کیوں کم یاختم نہیں ہو رہا جبکہ اناسی برس کی رفاقت سے یہ ثابت ہو چکا ہے کہ اس نے اپنے مفادات کو ہی ترجیح دی ان کے تحفظ کو یقین بنانے کےلئے کبھی ہماری حکومتیں بنوائیں بھی اور گرائیں ۔ اس کے ذیلی ادارے آئی ایم ایف نے معیشت کو مستحکم ہی نہیں ہونے دیا کیونکہ اس نے جو بھی قرضہ دیا سخت شرائط پر دیا جس سے سڑکیں پل بنے سیوریج لائنیں بچھیں میٹرو بسیں اورنج ٹرینیں چلیں مگر یہ سب پروگرام غیر پیداواری تھے لہذا اب ان میں سے کچھ کو بند کیا جا رہا ہے دوسروں کے بارے سوچا جا رہا ہے کیونکہ ان سے مسلسل نقصان ہو رہا ہے۔
حیرت یہ ہے کہ اسے ترقی کہا جا رہا ہے چلئے یہ مان لیتے ہیں تو پھر غربت کیوں بڑھ رہی ہے مہنگائی بےروزگاری میں کیوں اضافہ ہو رہا ہے۔ پٹرول کی قیمتیں آئے روز کیوں بڑھا دی جاتی ہیں بجلی گیس اور پانی کے بلوں میں اضافہ کیوں کر دیا جا تا ہے اس کے باوجود بھی عوام کو کوئی ریلیف نہیں مل رہا ؟
بات وہی ہے کہ ایسی قیادت جو اپنی ذات سے آگے سوچے بد عنوانی پر قابو پائے جس پر دنیا کو اعتماد ہو کہ وہ اپنے فرائض دیانت داری کے ساتھ ادا کرے گی۔ تب جا کر روشن راستہ نظر آئے گا ۔ یہ زیادتی نہیں کہ جو بھی حکمران آتا ہے وہ ملک کا خزانہ لوٹنا شروع کر دیتا ہے کھربوں کا مالک بن جاتا ہے اور اسے پکڑنے والا بھی کوئی نہیں ہوتا جو ہوتا بھی ہے اس کے خلاف سازشیں شروع ہو جاتی ہیں ۔ یہ نظام ہی ایسا ہے کہ جو کسی عوام دوست کو برداشت ہی نہیں کرتا۔ اسی لئے اناسی برس کے بعد بھی ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں نہیں بہہ سکیں ۔
بہرحال اب محسوس کیا جا سکتا ہے اور امید باندھی جا سکتی ہے کہ بڑوں نے حالات کی سنگینی کا اندازہ لگا لیا ہے کہ اگر ان کو ٹھیک نہیں کیا گیا اور ملک میں عوامی اضطراب اسی طرح موجود رہا تو صورت حال سے ہر کوئی متاثر ہو سکتا ہےعوام کب تک غربت بیماری مہنگائی اور بے روزگاری کو برداشت کر سکتے ہیں لہذا وہ خوف کو ایک طرف کرتے ہوئے اقتدار کے ایوانوں میں داخل ہو سکتے ہیں لہذا یہ جو سیاسی منظر میں کچھ تبدیلی کا عمل شروع ہو رہا ہے اس کو بڑا اہم سمجھا جانا چاہیے۔ خان کو کب تک اسی حالت میں رکھا جا سکتا ہے کہ اس کے چاہنے والوں میں کمی کے بجائے اضافہ ہوتا چلا جا رہا ہے اور وہ بے حد پُرجوش دکھائی دیتے ہیں ۔ خان ان کے دل و دماغ پر مکمل طور سے قبضہ جما چکا ہے۔ یہ تو یہاں کی حالت ہے پوری دنیا میں ان سے محبت کرنے والے موجود ہیں اور وہ ان کی رہائی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ بچوں تک کی زبان پر ان کا نام چڑھ چکا ہے وہ سوشل میڈیا پر اپنا اظہار بھی کر رہے ہیں اور جہاں کہیں کوئی دوسری جماعت کی فلیکس دیکھتے ہیں تو اپنا غصہ ظاہر کرتے ہیں لہذا دانش مندی کا تقاضا یہی ہے کہ گلے شکوے ختم کرکے ملک کے لئے سوچ بچار کی جائے کیونکہ تین برسوں میں یہ دیکھ لیا گیا ہے کہ ان تلوں میں تیل نہیں اگر ایسا ہوتا تو جو حالت اس وقت ہے وہ نہ ہوتی لہذا ضروری ہو گیاہے کہ حالات کے مطابق معاملات کو دیکھا جائے یہ ممکن ہی نہیں کہ نئے دور کے تقاضوں کو پس پشت ڈالا جائے۔ بڑھتے ہوئے شعور و آگہی کے سفر سے آنکھیں چرائی جائیں اگر اس پہلو سے انحراف کیا جاتا ہے تو پھر ترقی کا گراف اوپر نہیں جا سکتا۔ بس عارضی پالیسیوں کے ذریعے ہی ڈنگ ٹپائے جائیں گے وہ بھی زیادہ دیر نہیں ٹپائے جا سکیں گے ۔
عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ عوام نے اب تک بہت کچھ دیکھ پرکھ لیا ہے اور برداشت کر لیا ہے لہذا انہیں ڈرا دھمکا کر تادیر اپنی آواز بلند کرنے سے نہیں روکا جا سکتا۔ دنیا میں ایسا اگرچہ ہوا مگر آخر عوامی سوچ ہی سرخرو ہوئی کہ وہ جو چاہتے تھے وہی ہوا لہذا آج اگر لوگوں کی غالب اکثریت خان کو چاہتی ہے اس پر صدقے واری جاتی ہے تو اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے نا کہ اس سے منہ موڑ لیا جائے اس کا کوئی فائدہ نہیں۔ تین برس کا یہ تجربہ کافی ہونا چاہیے کہ اس دوران ہر طرح کا طریقہ آزما لیا گیا مگر اس میں کامیابی نہیں مل سکی۔ جن لوگوں نے اس کی تصویر لگا کر سوشل میڈیا پر اپ لوڈ کر دی وہ ہزاروں لاکھوں میں پسند کی گئی اسی طرح وی لاگروں نے ان کے نام پر لاکھوں کروڑوں کما لئے لہذا جو حقیقت ہے اسے تسلیم کر لینا چاہیے ۔
بہر کیف دیر آید درست آید عدالت عظمیٰ نے خان کو جیل سے شفا اسپتال منتقل کرنے کا حکم جاری کر دیا ہے اور کہا ہے کہ اسپتال کے باہر کوئی سیاسی سرگرمی نہیں ہو گی۔ میڈیکل رپورٹوں کو افشا نہیں کیا جائے گا ۔
ہم متعدد بار یہ عرض کرتے آئے ہیں کہ کوئی بھی کیفیت قائم نہیں رہ سکتی اسے تبدیل ہو جانا ہوتا ہے لہذا اب یہ سمجھ لینا چاہیے کہ سیاسی منظر نامہ بدلنے جا رہا ہے اسے بدلنا بھی چاہیے کیونکہ گھائل زندگی کو راحت و اطمینان کی اشد ضرورت ہے !

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button