پاکستاناہم خبریں

عمران خان کا طبی معائنہ پمز میں، سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کا الزام

ڈاکٹروں کی طرف سے طبی معائنے کے بعد عمران خان کو دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے

اے پی اور روئٹرز کے ساتھ

عمران خان کے اہل خانہ اور ان کی جماعت پی ٹی آئی کا الزام ہے کہ سابق پاکستانی وزیر اعظم کو طبی معائنے کے لیے عدالت کی جانب سے مقرر کردہ نجی ہسپتال کے بجائے سرکاری ہسپتال لے جانا سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی ہے۔

عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ وہ پمز میں موجود تھیں جب عمران خان کو رات کے وقت وہاں لایا گیا۔

عمران خان کے ذاتی معالج فیصل سلطان نے بتایا کہ انہیں (فیصل سلطان کو) شفا انٹرنیشنل ہسپتال لے جایا گیا تھا، جہاں وہ جمعے کو علی الصبح تک عمران خان کا انتظار کرتے رہے لیکن بعد ازاں انہیں بتایا گیا کہ عمران خان کو راولپنڈی کی اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا ہے۔

یہ بیانات وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کے اس بیان کے چند گھنٹے بعد سامنے آئے، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ ڈاکٹروں کی طرف سے طبی معائنے کے بعد عمران خان کو دوبارہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے اور انہیں طبی طور پر صحت مند قرار دیا گیا ہے۔

حکومت کا موقف

عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ حکام نے سکیورٹی خدشات کے باعث عمران خان کو سرکاری ہسپتال منتقل کیا۔ ان کے مطابق عمران خان کی جماعت پی ٹی آئی کے کارکنوں اور حامیوں کی بڑی تعداد شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے باہر جمع ہو رہی تھی یا وہاں پہنچ رہی تھی، جس کے باعث سکیورٹی صورتحال تشویش کا باعث بن گئی تھی۔

عمران خان کی جماعت کی جانب سے انہیں شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیے جانے کی اطلاع کے بعد درجنوں صحافی بھی رات بھر اس نجی ہسپتال کے باہر موجود رہے۔ حکام نے ہسپتال کے اطراف میں سکیورٹی کے سخت انتظامات کیے ہوئے تھے۔

اس تصویر میں عمران خان کی بہن علیمہ خانم، 17 جنوری 2025 کو بدعنوانی کے مقدمے میں عمران خان کو 14 سال قید کی سزا سنائے جانے کے بعد راولپنڈی میں میڈیا سے گفتگو کر رہی ہیں
عمران خان کی بہن عظمیٰ خان، جو جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ان کے طبی معائنے کے دوران موجود تھیں، نے بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ جیل میں انہیں ”بار بار تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘تصویر: Waseem Khan/REUTERS

بہن سے ملاقات میں مبینہ ذہنی اذیت کی شکایت

عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے بتایا کہ ملاقات کے دوران عمران خان نے شکایت کی کہ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، جسے عظمیٰ خان کے مطابق عمران خان نے ذہنی اذیت قرار دیا۔

پی ٹی آئی کے سینئر رہنما سہیل آفریدی نے بھی وفاقی حکومت پر الزام عائد کیا کہ عمران خان کو سرکاری ہسپتال منتقل کر کے سپریم کورٹ کے حکم کی خلاف ورزی کی گئی ہے۔

پاکستانی سپریم کورٹ نے منگل کے روز حکم دیا تھا کہ عمران خان کا طبی معائنہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ایک ایسے میڈیکل بورڈ کے ذریعے کیا جائے، جس میں مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی معالج کو بھی شامل کیا جائے۔

جمعرات کو حکومتی وزیر طارق فضل چوہدری نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ایکس‘ پر کہا تھا کہ حکومت سپریم کورٹ کے فیصلے پر مکمل عمل درآمد کرے گی۔

تاہم حکومت کا موقف ہے کہ موجودہ جیل قوانین کے تحت قیدیوں کو جیل میں طبی سہولیات فراہم کی جاتی ہیں اور ضرورت پڑنے پر انہیں سرکاری ہسپتال منتقل کیا جا سکتا ہے۔

 شفا انٹرنیشنل ہسپتال
پاکستانی سپریم کورٹ نے منگل کے روز حکم دیا تھا کہ عمران خان کا طبی معائنہ شفا انٹرنیشنل ہسپتال میں ایک ایسے میڈیکل بورڈ کے ذریعے کیا جائے، جس میں مختلف شعبوں کے ماہر ڈاکٹروں کے ساتھ ساتھ ان کے ذاتی معالج کو بھی شامل کیا جائے

عمران خان نے مبینہ تشدد کی شکایت کی

عمران خان کی بہن عظمیٰ خان، جو جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب ان کے طبی معائنے کے دوران موجود تھیں، نے صحافیوں کو بتایا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ جیل میں انہیں ”بار بار تشدد کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔‘‘

خبر رساں ادارے روئٹرز نے عمران خان کے ان پر تشدد سے متعلق الزامات کے حوالے سے ملکی وزارت داخلہ، وزارت قانون اور جیل حکام کے ترجمانوں سے ان کے موقف جاننے کی کوشش کی، تاہم فوری طور پر کوئی جواب نہ ملا۔

عمران خان کے دوبارہ جیل منتقل کیے جانے کے واقعے سے ان کے حامیوں میں نیا غم و غصہ پیدا ہونے اور ملک میں سیاسی کشیدگی اور احتجاجی مظاہروں میں اضافے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button