کالمزناصف اعوان

منظر یہ اداس سا بدل ہی جائے گا ؟…….ناصف اعوان

ملکی سیاسی صورت حال بڑی پُر پیچ ہوتی جا رہی ہے نت نئی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہےکہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں کوئی نیا سیٹ اپ آرہا ہے

سربراہ پاکستان تحریک انصاف کو چند روز پہلے عدالت عظمیٰ نے ان کی صحت کی خرابی کی بنا پر الشفاء اسپتال سے علاج کروانے کی اجازت دی۔ حکم میں کچھ شرائط بھی لکھی گئیں جن پر عمل کرنا پی ٹی آئی کے ذمہ داران پر لازمی قرار دیا گیا۔ حکومت نے عدالت عظمیٰ کے فیصلے پر اپیل دائر کر دی ازاں بعد اپیل واپس لے لی ۔ خان کو اسپتال پہنچانے کے تمام انتظامات مکمل ہونے کے بعد اسپتال لایا جانے لگا تو ان کے چاہنے والے گروہوں کی شکل میں جمع ہونا شروع ہو گئے مگر بتایا گیا کہ انہیں پمز اسپتال لے جایا گیا اور وہاں ان کے کچھ ٹیسٹ ہوئے آنکھوں کا معائنہ ہوا اور پھر انہیں واپس اڈیالہ جیل پہنچا دیا گیا۔ اب کہا جا رہا ہے کہ وہ اسپتال میں داخل ہو کر علاج نہیں کروانا چاہتے کچھ حکومت کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ سچ کیا ہے یہ فریقین کو ہی معلوم ہو گا۔کہنے والے کہتے ہیں کہ وہ خود کو تندرست بتاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ چھوٹی موٹی تکالیف آجاتی ہیں جس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ کسی اسپتال میں داخل ہو جائیں اور اپنا علاج کروائیں مگر ان کی بہنیں چاہتی ہیں کہ وہ اسپتال میں جائیں اور اپنا علاج کروائیں اس حوالے سے وہ کافی حساس ہیں ۔
ملکی سیاسی صورت حال بڑی پُر پیچ ہوتی جا رہی ہے نت نئی باتیں سننے کو مل رہی ہیں۔ کوئی کہہ رہا ہےکہ حکومت کے دن گنے جا چکے ہیں کوئی نیا سیٹ اپ آرہا ہے کیونکہ موجودہ سیٹ اپ معیشت کو بہتر نہیں کر سکا ہے نہ ہی غربت مہنگائی اور بے روزگاری پر قابو پا سکا ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت اور کوئی بھی حکومت تنہا اس پوزیشن میں نہیں کہ وہ ملک کو معاشی بحران سے باہر نکال سکے۔ اہل اقتدار کو بھی اچھی طرح سے علم ہے کہ وہ اکیلے کچھ نہیں کر سکتے مگر وہ اقتدار سے بھی الگ نہیں ہونا چاہتے۔ چاہے‘ غربت کتنی ہی کیوں نہ بڑھ جائے دیگر مسائل بھی بے شک کتنے ہی گمبھیر نہ ہو جائیں انہیں اپنے اقتدار سے غرض ہے۔ وہ تو خان کو بھی جیل سے باہر نہیں دیکھنا چاہتے۔ یہ جو ان سے مختلف شخصیات کی ملاقاتوں کے تذکرے ہو رہے ہیں سے لگتا ہے کہ یہ محض افواہیں ہیں۔ جان بوجھ کر یہ کہا جا رہا ہے۔ اپنے بارے میں بھی رخصتی کا ڈھنڈورا پٹوایا جاتا ہے تاکہ حزب اختلاف کے جزبات کو ایک حد سے زیادہ بھڑکنے نہ دیا جائے۔ حقیقت کیا ہے شاید کوئی نہیں جانتا قیاس آرائیاں ہیں جو مسلسل کی جا رہی ہیں۔ صورت حال سے متعلق ٹھیک طور سے اس وقت ہی معلوم ہو سکے گا جب کوئی ٹھوس شکل سامنے آئے گی۔
”ہمارے دوست جاوید خیالوی کے مطابق خان کی رہائی ہوتی ہوئی نظر نہیں آرہی کیونکہ ان سے عوام تو خوش ہیں مگر ان کے سیاسی حریف بالکل راضی نہیں جبکہ یہ بات واضح ہے کہ خان کی سوچ تبدیل ہو چکی ہے وہ ذاتی طور سے کسی سی کوئی انتقام نہیں لینا چاہتے وہ ملک کی خاطر اپنے ساتھ ہونے والی تمام اذیتوں کو بھلا دینا چاہتے ہیں اس کا انہوں نے اپنے بعض ساتھیوں اور دوستوں کے ساتھ اظہار بھی کیا ہے لہذا کسی بھی سیاسی جماعت کو اپنے ذہن سے یہ بات نکال دینی چاہیے کہ وہ باہر آکر انتقامی سیاست کریں گے ۔یہ جو کبھی کبھی حکومتی عہدیداروں کی طرف سے خان کے رویے کا شوشا چھوڑا جاتا ہے اس کا مقصد یہی ہوتا ہے کہ وہ کسی کو باور کرا سکیں کہ وہ کسی مغالطے کا شکار نہ ہوں”
جاوید خیالوی گاہے گاہے اپنے خیالات کا اظہار کرتے رہتے ہیں بعض اوقات ان کا تجزیہ حقیقت کے قریب تر ہوتا ہے مگر کبھی ایسا نہیں بھی ہوتا بہرحال جاننے والے سب جانتے ہیں انہیں معلوم ہے کہ کون کیا ہے اس کا مطمع نظر کیا ہے لہذا انہیں کیسے کوئی اندھیرے میں رکھ کر اپنا اُلو سیدھا کر سکتا ہے لہذا انہیں کسی کی باتوں سے آسانی سے اتفاق نہیں ہو سکتا؟
بہرحال پی ٹی آئی کے چاہنے والوں میں خوشی کی لہر ابھری تھی کہ اب ان کےلئے بھی سیاسی سرگرمیوں کا جاری رکھنا ممکن ہو گیا ہے یہ کہ ان کے لیڈر کو بھی سُکھ کا سانس لینے کا موقع ملے گا مگر ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ ان کے لیڈر نے یہ اصول وضع کر لیا ہے کہ وہ کوئی ریلیف نہیں لیں گے میرٹ کی بنیاد پر عدالتوں سے بری ہوں گے
مگر ان کے کارکنوں کی شدید خواہش ہے کہ وہ حالات کی مناسبت سے کوئی فیصلہ کریں کہ جان ہے تو جہان ہے ان کے کارکنان انہیں آزاد دیکھنا چاہتے ہیں ان کو تندرست و توانا دیکھنے کے خواہاں ہیں وہ ملک سے باہر بھی چلے جاتے ہیں تو انہیں کوئی یہ نہیں کہے گا کہ انہوں نے ٹھیک نہیں کیا کیونکہ وہ قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر چکے ہیں۔ جس سے ان کے چاہنے والے بھی بے حد پریشان ہیں۔
خیر ہو سکتا ہے وہ ان پہلوؤں پر غور کر بھی رہے ہوں مگر فریق ثانی کا کیا پروگرام ہے اس کا کسی کو علم نہیں مگر یہ طے ہے کہ جب تک ملک میں سیاسی عدم استحکام ہے سب بے چین ہی رہیں گے کوئی ملک بھی یہاں اپنی دولت لا کر کاروبار نہیں کرے گا بڑے بڑے پروجیکٹس نہیں لگائے گا کیونکہ کاروباری سرگرمیوں کے لئے ضروری ہوتا ہے کہ ماحول سازگار ہو۔ حزب اقتدار اور حزب اختلاف دونوں کو کسی کی سرمایہ کاری پر اعتراض نہ ہو اس حوالے سے حکومت سوچ رہی ہے یا پھر اس نے اقتدار کو قائم رکھنے کے لئے ہی سوچ بچار کرنی ہے کہ اسے کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟
سب سے پہلے پاکستان اور اس کی ترقی و خوشحالی اگر یہ خوشحال ہے تو سب مطمئن ہیں وگرنہ ہر کسی کو اپنی ذات عزیز ہے اور یہ چیز مجموعی طور سے درست نہیں کیونکہ اس طرح ملک مستحکم نہیں کمزور ہوتے ہیں جس کا فائدہ ان کے بد خواہوں کو ہوتا ہے لہذا پی ٹی آئی جو ایک عوامی جماعت ہے اور پھر بہت بڑی تعداد رکھتی ہے کو غیر اہم نہیں سمجھنا چاہیے ۔ وہ نشیب و فراز کے باوجود اپنی جگہ پے کھڑی ہے اس کی
مقبولیت میں کمی واقع نہیں ہوئی۔اس حقیقت کو تسلیم کر لینا چاہیے آج نہیں تو کل یہ سیاسی منظر نامہ تبدیل ہونا ہی ہے کیونکہ ایسا ہوتا آیا ہے اور آئندہ بھی ہوتا رہے گا رہی بات حکومت کے جانے کی یا اس میں کسی رد و بدل کی تو یقین نہیں کیا جا سکتا کیونکہ یہاں کی سیاست گرگٹ کی طرح رنگ بدلتی ہے پھر جب خان ہر کسی کے لئے ناقابل قبول ہو تو انہیں کوئی موقع فراہم نہیں کیا جا سکتا لہذا ہمیں نہیں لگتا کہ سیاسی منظر نامہ تبدیل ہو گا جب اس کا وقت پورا ہو جائے گا پھر کوئی تبدیلی آئے گی۔ بعض وی لاگرز جو خود کو باخبر کہتے ہیں کے مطابق بس اب تبدیلی آنے ہی والی ہے کہیں یہ فیصلہ ہو چکا ہے فرض کیا ایسا ہوتا بھی ہے تو نئی حکومت یا نئے چہرے اتنے پاپولر ہوں گے کہ ان کی طرف دنیا بھر کے سرمایہ کار کھنچے چلے آئیں گے ؟ یہ شرف کسی’ کسی کو حاصل ہوتا ہے مگر اس کی قدر نہیں کی جاتی اسی لئے وطن عزیز ہر نوع کے بحرانوں میں گھر چکا ہے؟

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button