یورپتازہ ترین

یوکرین جنگ: کریوی ریہ، کییف اور روسی علاقوں پر ڈرون حملوں میں جانی نقصان، کشیدگی مزید بڑھ گئی

شہری دفاع کے حکام کے مطابق حملے میں مجموعی طور پر تقریباً 130 افراد زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

کریوی ریہ، کییف — یوکرین اور روس کے درمیان جاری جنگ میں فضائی اور ڈرون حملوں کی ایک نئی لہر نے دونوں جانب شہری اور بنیادی ڈھانچے کو متاثر کیا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق صدر وولودیمیر زیلنسکی کے آبائی شہر کریوی ریہ میں ایک شاپنگ سینٹر کو روسی ڈرون حملے میں نشانہ بنایا گیا، جس کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد کم از کم 16 ہو گئی ہے، جبکہ متعدد افراد زخمی اور کئی شہری تاحال لاپتا ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو ہونے والے حملے کے بعد دو بچوں سمیت نو افراد کے بارے میں ابھی تک معلومات نہیں مل سکیں۔ امدادی کارکنوں نے متاثرہ علاقے میں تلاش اور امدادی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ عمارت کے ملبے اور تباہ شدہ حصوں میں ممکنہ طور پر پھنسے افراد کی تلاش کی گئی۔

شہری دفاع کے حکام کے مطابق حملے میں مجموعی طور پر تقریباً 130 افراد زخمی ہوئے، جن میں بعض کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔ شدید زخمی افراد کو مختلف ہسپتالوں میں منتقل کیا گیا، جہاں انہیں طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔

کریوی ریہ میں تباہی اور امدادی کارروائیاں

کریوی ریہ پر حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب یوکرین کے مختلف شہروں میں روسی فضائی حملوں کا سلسلہ مسلسل جاری ہے۔ شاپنگ سینٹر کو نشانہ بنائے جانے کے باعث عام شہریوں کی بڑی تعداد متاثر ہوئی، جس نے ایک مرتبہ پھر یوکرین میں شہری علاقوں کے تحفظ اور فضائی دفاع کی صلاحیت پر سوالات اٹھا دیے ہیں۔

حکام کے مطابق امدادی ٹیموں نے حملے کے فوراً بعد متاثرہ مقام پر پہنچ کر زخمیوں کو نکالا اور ملبے سے لوگوں کو تلاش کرنے کا کام شروع کیا۔ لاپتا افراد کے اہل خانہ اپنے پیاروں کے بارے میں معلومات کے منتظر ہیں، جبکہ حکام نے تلاش کا عمل مکمل ہونے تک ہلاکتوں میں مزید اضافے کے خدشے کو رد نہیں کیا۔

کییف بھی روسی حملوں کی زد میں

اسی دوران روس نے رات کے دوران یوکرین کے دارالحکومت کییف کو بھی دوبارہ نشانہ بنایا۔ یوکرینی حکام کے مطابق حملے میں کم از کم ایک شخص ہلاک جبکہ متعدد افراد زخمی ہوئے۔

حملے کے نتیجے میں شہر کے ایک گودام میں آگ بھڑک اٹھی، جس پر فائر بریگیڈ اور امدادی ٹیموں نے قابو پانے کی کوشش کی۔ کییف کی جانب آنے والے حملوں کے دوران یوکرینی فضائی دفاع نے بیلسٹک میزائل کے خطرے کے بارے میں بھی شہریوں کو خبردار کیا۔

کییف پر یہ حملہ اس وقت ہوا جب جرمن وزیر خارجہ یوہان واڈے فیہول یوکرین کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے دارالحکومت پہنچے ہوئے تھے۔ ان کی موجودگی کے دوران ہونے والے حملے نے یوکرین میں جاری جنگ کی شدت اور دارالحکومت کو درپیش مسلسل خطرات کو نمایاں کیا۔

روسی وزارت دفاع نے کییف پر حملے کے حوالے سے مختلف مؤقف پیش کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ روسی کارروائی میں ایک ریلوے ڈپو کو نشانہ بنایا گیا جہاں انجن موجود تھے۔ ماسکو کا کہنا ہے کہ اس طرح کے اہداف یوکرین کے فوجی اور لاجسٹک نظام سے متعلق ہیں۔

یوکرین کی جانب سے تاہم شہری علاقوں اور بنیادی ڈھانچے پر روسی حملوں کی مذمت کی جاتی رہی ہے۔ کییف کا مؤقف ہے کہ روسی میزائل اور ڈرون حملے اکثر ایسے علاقوں کو بھی متاثر کرتے ہیں جہاں عام شہری موجود ہوتے ہیں۔

فضائی دفاع پر بڑھتا دباؤ

حالیہ ہفتوں میں یوکرین کو روسی میزائلوں اور ڈرونز کے مسلسل حملوں کا سامنا رہا ہے۔ یوکرینی حکام کے لیے سب سے بڑا چیلنج اپنے بڑے شہروں، صنعتی مراکز اور توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو فضائی حملوں سے محفوظ رکھنا ہے۔

یوکرین مغربی اتحادیوں سے جدید فضائی دفاعی نظام اور اضافی میزائلوں کی فراہمی کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ کییف کا کہنا ہے کہ روس کے بڑے پیمانے پر ڈرون اور میزائل حملوں کے مقابلے کے لیے مزید فضائی دفاعی صلاحیت کی ضرورت ہے۔

روسی علاقے سامارا میں یوکرینی ڈرون حملے

دوسری جانب روس کے اندر بھی یوکرینی ڈرون حملوں کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ روس کے سامارا خطے کے گورنر نے ہفتے کے روز بتایا کہ رات گئے یوکرینی ڈرون حملوں میں ایک صنعتی تنصیب اور روس کی بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی اوزون کے ایک گودام کو نشانہ بنایا گیا۔

گورنر کے مطابق حملوں کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے۔ انہوں نے متاثرہ صنعتی تنصیب کی مکمل نوعیت اور اس کے بارے میں مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔

سامارا خطہ روس کے اہم صنعتی علاقوں میں شمار ہوتا ہے اور یہاں کئی بڑی صنعتی تنصیبات کے علاوہ تیل صاف کرنے کے کارخانے بھی موجود ہیں۔ ماضی میں بھی یوکرین کی جانب سے روس کے اندر توانائی اور صنعتی تنصیبات کو ڈرون حملوں کا نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات سامنے آتی رہی ہیں۔

اوزون کے لاجسٹکس سینٹر میں کام بند

روس کی دوسری بڑی آن لائن ریٹیل کمپنی اوزون نے اپنے ٹیلی گرام بیان میں تصدیق کی کہ حملے کے بعد چاپائیفسک میں واقع اس کے لاجسٹکس سینٹر میں کام عارضی طور پر روک دیا گیا۔

کمپنی کے مطابق حملے کے دوران لوگ زخمی ہوئے، جس کے بعد حفاظتی اقدامات کے تحت مرکز میں سرگرمیاں معطل کر دی گئیں۔ لاجسٹکس مراکز اوزون کے آن لائن کاروباری نظام میں اہم کردار ادا کرتے ہیں کیونکہ یہاں اشیا کی وصولی، ذخیرہ، پیکنگ اور ترسیل سے متعلق کارروائیاں انجام دی جاتی ہیں۔

اوزون پر ہونے والا یہ حملہ خاص طور پر اہم سمجھا جا رہا ہے کیونکہ حالیہ عرصے میں اس کی بڑی حریف کمپنی وائلڈ بیریز کے مراکز اور تنصیبات کو بھی متعدد حملوں میں نقصان پہنچنے کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔

یوکرین عام طور پر روس کے اندر ایسے حملوں کو روسی جنگی کوششوں کو معاونت فراہم کرنے والے فوجی، صنعتی، توانائی اور لاجسٹک ڈھانچے کے خلاف وسیع تر مہم کا حصہ قرار دیتا ہے۔

روس پر بڑے پیمانے پر ڈرون حملہ

روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ رات بھر روسی علاقے کی جانب آنے والے 457 یوکرینی ڈرونز کو مار گرایا گیا۔

اگر یہ روسی دعویٰ درست ہے تو یہ ایک ہی رات میں رپورٹ کیے جانے والے انتہائی بڑے ڈرون حملوں میں سے ایک ہے۔ روسی حکام کا کہنا ہے کہ فضائی دفاعی نظام نے مختلف علاقوں میں آنے والے ڈرونز کو روکنے کی کارروائی کی۔

روس اور یوکرین دونوں ایک دوسرے کے خلاف طویل فاصلے تک مار کرنے والے ڈرونز کے استعمال میں مسلسل اضافہ کر رہے ہیں۔ جنگ کے ابتدائی مراحل کے مقابلے میں اب دونوں ممالک ایک دوسرے کی سرزمین کے اندر موجود فوجی، صنعتی، توانائی اور لاجسٹک اہداف کو زیادہ فاصلے سے نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔

جنگ کا نیا مرحلہ

حالیہ واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان جنگ صرف فرنٹ لائن تک محدود نہیں رہی بلکہ دونوں ممالک کے بڑے شہروں، صنعتی علاقوں، توانائی کے مراکز، ریلوے نظام اور لاجسٹک نیٹ ورک بھی مسلسل حملوں کی زد میں ہیں۔

کریوی ریہ میں شہری ہلاکتیں اور کییف پر حملہ یوکرین میں روسی فضائی کارروائیوں کے انسانی اثرات کو نمایاں کرتے ہیں، جبکہ سامارا میں صنعتی تنصیب اور اوزون کے لاجسٹکس مرکز کو نشانہ بنائے جانے کی اطلاعات ظاہر کرتی ہیں کہ یوکرین بھی روس کے اندر دور تک ڈرون کارروائیوں کے ذریعے دباؤ بڑھا رہا ہے۔

اس صورتحال میں سب سے زیادہ تشویش عام شہریوں کی سلامتی کے حوالے سے پیدا ہو رہی ہے۔ دونوں جانب حکام اپنے حملوں کو فوجی یا اسٹریٹجک اہداف کے خلاف قرار دیتے ہیں، تاہم جنگ کے بڑھتے ہوئے فضائی حملوں میں شہری علاقوں اور تجارتی و صنعتی تنصیبات کے متاثر ہونے کا خطرہ بدستور موجود ہے۔

سفارتی کوششوں کے باوجود جنگ جاری

یوکرین میں غیر ملکی حکام اور سفارت کاروں کی آمد کے دوران بھی روسی حملوں کا جاری رہنا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ سفارتی رابطوں کے باوجود میدانِ جنگ میں کشیدگی کم نہیں ہوئی۔

کییف میں جرمن وزیر خارجہ کی موجودگی کے دوران حملے نے ایک بار پھر یوکرین کے مغربی اتحادیوں کے سامنے فضائی دفاع کی ضرورت کو اجاگر کیا ہے۔ یوکرین مسلسل اپنے اتحادیوں سے مزید دفاعی نظام، میزائل اور دیگر فوجی معاونت فراہم کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تاکہ بڑے پیمانے پر روسی ڈرون اور میزائل حملوں کو روکا جا سکے۔

دوسری طرف روس کا مؤقف ہے کہ اس کے حملے یوکرین کے فوجی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق اہداف کو نشانہ بناتے ہیں، جبکہ ماسکو یوکرینی ڈرون حملوں کو اپنی سرزمین کے خلاف دہشت گردی اور تخریبی کارروائیوں کے طور پر پیش کرتا ہے۔

موجودہ صورتحال میں دونوں ممالک کے درمیان حملوں کا دائرہ مسلسل وسیع ہو رہا ہے۔ کریوی ریہ، کییف اور سامارا میں ہونے والے حالیہ واقعات اس بات کی تازہ مثال ہیں کہ جنگ کے اثرات اب دونوں ممالک کے بڑے شہری اور صنعتی مراکز تک گہرائی میں پہنچ چکے ہیں۔

نتیجہ: کریوی ریہ میں کم از کم 16 افراد کی ہلاکت، نو افراد کے لاپتا ہونے اور تقریباً 130 افراد کے زخمی ہونے کی اطلاعات نے یوکرین میں شہری نقصانات کی سنگینی کو نمایاں کیا ہے۔ اسی دوران کییف میں ہلاکت اور زخمیوں کی اطلاعات جبکہ روس کے سامارا خطے میں صنعتی اور تجارتی تنصیبات پر ڈرون حملے ظاہر کرتے ہیں کہ روس اور یوکرین کے درمیان دور مار ڈرون جنگ مزید شدید ہو رہی ہے۔ روسی وزارت دفاع کا 457 ڈرونز مار گرائے جانے کا دعویٰ اس بڑھتی ہوئی فضائی جنگ کے پیمانے کو واضح کرتا ہے۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button