پاکستاناہم خبریں

عمران خان کے معاملے پر حکومت کے خلاف توہین عدالت کی درخواست

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب مناسب سکیورٹی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا

روئٹرز، اے پی

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عدالتی حکم میں عمران خان کو مخصوص نجی ہسپتال منتقل کرنے کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا۔ تاہم حکومت نے جان بوجھ کر اس حکم کی خلاف ورزی کی، جس پر وزیر اعظم سمیت ذمہ داروں کے خلاف کاروائی کی جائے۔

پی ٹی آئی کی جانب سے دائر کردہ درخواست میں وزیراعظم شہباز شریف، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ اور وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ کو فریق بناتے ہوئے ان کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

سپریم کورٹ نے اٹھارہ اگست کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائے۔ تاہم حکام نے انہیں پاکستان انسٹی ٹیوٹ آف میڈیکل سائنسز (پمز) منتقل کیا، جہاں شفا انٹرنیشنل کے ڈاکٹروں نے بھی ان کا معائنہ کیا۔

پی ٹی آئی کا مؤقف ہے کہ عدالتی حکم میں عمران خان کو مخصوص نجی ہسپتال منتقل کرنے  کے حوالے سے کوئی ابہام نہیں تھا۔ پارٹی نے عدالت سے عمران خان کو فوری طور پر شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کرنے اور عدالتی حکم پر عمل درآمد یقینی بنانے کے لیے عدالتی افسر یا مقامی کمیشن مقرر کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔

حکومت کے خلاف توہین عدالت کی یہ درخواست پی ٹی آئی کے سیکرٹری جنرل سلمان اکرم راجا ایڈووکیٹ اور وکیل عزیر بھنڈاری کی جانب سے دائر کی گئی۔ راجا نے اسلام آباد میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سپریم کورٹ کا حکم واضح تھا اور اس پر عمل درآمد ہونا چاہیے تھا۔

عمران خان کی ممکنہ آمد کے پیش نظر اسلام آباد میں شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے بعد سکیورٹی کے سخت ترین انتظامات کیے گئے تھے
سپریم کورٹ نے اٹھارہ اگست کو حکم دیا تھا کہ عمران خان کو طبی معائنے کے لیے اسلام آباد کے شفا انٹرنیشنل ہسپتال منتقل کیا جائےتصویر: Akhtar Soomro/REUTERS

حکومت کا سکیورٹی خدشات کا مؤقف

وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ عمران خان کو 20 اور 21 اگست کی درمیانی شب مناسب سکیورٹی انتظامات کے تحت ہسپتال لے جایا گیا اور طبی معائنے کے بعد 21 اگست کی صبح تقریباً پانچ بجے اڈیالہ جیل واپس منتقل کر دیا گیا۔

ان کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال جانے والے راستے اور ہسپتال کے باہر پی ٹی آئی کارکنوں کی موجودگی کے باعث سکیورٹی صورتحال کے پیش نظر عمران خان کو پمز لے جانے کا فیصلہ کیا گیا۔

پمز انتظامیہ کے مطابق شفا انٹرنیشنل ہسپتال کے دو ماہر ڈاکٹروں نے عمران خان کے آنکھوں کے معائنے میں حصہ لیا، جبکہ دیگر طبی معائنے پمز کے متعلقہ ماہرین نے کیے۔ ہسپتال نے مریض کی رازداری اور سپریم کورٹ کی ہدایات کا حوالہ دیتے ہوئے طبی رپورٹ کی تفصیلات جاری کرنے سے انکار کیا۔

حکومت نے تشدد اور طبی غفلت کے الزامات مسترد کر دیے

دوسری جانب حکومت نے عمران خان کے اہل خانہ اور پی ٹی آئی کی جانب سے جیل میں ”ظلم، ذہنی اذیت، تعزیری قیدِ تنہائی اور طبی غفلت‘‘ کے الزامات کو بے بنیاد قرار دیا ہے۔

وزارتِ اطلاعات نے امریکی خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کو بھجوائے گئے اپنے ایک تحریری جواب میں کہا کہ ان الزامات کی تائید جیل اور طبی ریکارڈ سے نہیں ہوتی۔ حکومت کے مطابق عمران خان کو کتابیں اور ٹی وی دیکھنے کی سہولت حاصل ہے، جبکہ انہیں گھر کا پکا ہوا کھانا اور ورزش کا سامان بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

وزارت نے مزید کہا کہ عمران خان کا تقریباً 30 مرتبہ ماہر ڈاکٹروں اور مختلف طبی بورڈز نے معائنہ کیا ہے، جن میں پمز، شفا انٹرنیشنل اسپتال، شوکت خانم میموریل کینسر ہسپتال اور الشفا ٹرسٹ آئی ہسپتال کے ماہرین شامل ہیں۔

حکومت کے مطابق عمران خان کو ایک ایسے کمپاؤنڈ میں رکھا گیا ہے جہاں سات سیل، سونے، صفائی اور ورزش کی سہولیات موجود ہیں، جبکہ انہیں الگ سے تیار کیا گیا کھانا بھی فراہم کیا جاتا ہے۔

عمران خان اگست 2023 سے جیل میں ہیں۔ وہ اپنے خلاف مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دیتے رہے ہیں۔ ان کی گرفتاری کے بعد ملک بھر میں بڑے احتجاج ہوئے تھے۔

عمران خان کی بہن عظمیٰ خان نے میڈیا کو بتایا کہ ان کے بھائی جسمانی طور پر بہتر ہیں، تاہم ان کے بقول عمران خان نے جیل میں بار بار تشدد کا الزام لگایا ہے۔ حکومت اور جیل حکام نے ان الزامات پر فوری طور پر کوئی تبصرہ نہیں کیا۔

پی ٹی آئی کا کہنا ہے کہ اس واقعے سے 27 ستمبر کو طے شدہ احتجاجی مارچ کی تیاریوں اور سیاسی دباؤ میں مزید اضافہ ہو گا۔

مزید دکھائیں

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button